ہوم » نیوز » اسپورٹس

سوربھ گنگولی کی بیماری کے ساتھ بنگال میں شروع ہوئی سیاست

بنگال بی جے پی انچارج اروند مینن نے اس معاملے میں صفائی دیتے ہوئے کہا کہ گنگولی پر کوئی دبائو نہیں بنایا گیا ہے لیکن اگر وہ بی جے پی میں شامل ہوتے ہیں تو ان کا استقبال کیا جائے گا۔

  • Share this:
سوربھ گنگولی کی بیماری کے ساتھ بنگال میں شروع ہوئی سیاست
کرکٹ کے مہاراج سوربھ گنگولی کی بیماری کے ساتھ بنگال میں شروع ہوئی سیاست

اسپتال سے ڈسچارج نہ ہونے کے سوربھ گنگولی کے فیصلے کے بعد انکے مداحوں میں دادا کی صحت کو لیکر مایوسی دیکھی جا رہی ہے۔ وہیں یہ الزام بھی لگایا جارہا ہے کہ سیاسی دباؤ کی وجہ سے دادا بیمار ہوئے ہیں۔بی سی سی آئی کے چیئرمین اور ٹیم انڈیا کے سابق کپتان ، سوربھ گنگولی کے بیمار ہونے کے بعد بی جے پی پر یہ الزام لگ رہا تھا کہ ان پر پارٹی میں شامل ہونے کے لئے دباؤ بنایاجارہا تھا اور یہ دل کا دورہ اسی کا نتیجہ ہے ۔


بنگال بی جے پی انچارج اروند مینن نے اس معاملے میں صفائی دیتے ہوئے کہا کہ گنگولی پر کوئی دبائو نہیں بنایا گیا ہے لیکن اگر وہ بی جے پی میں شامل ہوتے ہیں تو ان کا استقبال کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوربھ گنگولی بنگال کے شیر ہیں۔ ان پر سیاست میں شامل ہونے کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ تاہم  اگر گنگولی بی جے پی میں شامل ہوتے ہیں تو ان کا استقبال گرمجوشی کے ساتھ کیا جائے گا۔ ورزش کے دوران ہارٹ اٹیک کے بعد سوربھ  گنگولی کو کولکاتا کے ووڈ لینڈ اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔


سی پی آئی ایم کے ممبر اسمبلی اشوک بھٹاچاریہ نے دعوی کیا ہے کہ گنگولی سیاسی دباؤ میں تھے جس کی وجہ سے ان کی طبیعت خراب ہوگئی۔ دل کا دورہ پڑنے سے کچھ دن پہلے سوربھ گنگولی کولکاتا میں راج بھون جاکرگورنر جگدیپ دھنکر سے ملاقات کی تھی اور دوسرے دن دہلی میں امت شاہ سے ملاقات کی تھی۔ اس کے بعد ہی ریاست کی سیاست میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا کہ شاید کرکٹ کے مہاراجہ بی جے پی میں شامل ہوں اور بی جے پی انہیں ریاست میں وزیر اعلی کے امیدوار کے طور پر پیش کرسکتی ہے۔ اس کے بعد ہی ریاستی حکومت نے سوربھ گنگولی کو نیوٹاؤن میں فراہم کی گئی زمین واپس لینے کا عمل شروع کردیا تھا۔ اس دوران گزشتہ دنوں دادا کو دل کا ہلکا دورہ پڑا جس کے بعد سیاسی بیان بازی شروع ہوگئی۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 06, 2021 10:28 PM IST