ہوم » نیوز » اسپورٹس

بی سی سی آئی نے کہا- آئی پی ایل 2020 کا انعقاد نہ ہونے پر4000 کروڑ کا نقصان

بی سی سی آئی کے خازن نے كووڈ -19 کے سبب کرکٹ کے ٹھپ ہونے سے بی سی سی آئی کو ہو رہے نقصان کے بارے میں پوچھےجانے پر ’كرك بز‘ کو انٹرویو میں کہا کہ ہم اس کا اندازہ تبھی کر پائیں گے، جب کرکٹ شروع ہو جائے گا۔

  • UNI
  • Last Updated: May 13, 2020 01:19 AM IST
  • Share this:
بی سی سی آئی نے کہا- آئی پی ایل 2020 کا انعقاد نہ ہونے پر4000 کروڑ کا نقصان
بی سی سی آئی نے کہا- آئی پی ایل 2020 کا انعقاد نہ ہونے پر4000 کروڑ کا نقصان

نئی دہلی: ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے خازن ارون دھومل نے کہا ہے کہ اگر اس سال انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) منعقد نہیں ہوتا ہے تو بی سی سی آئی کو 4000 کروڑ روپئے کا بھاری نقصان ہوگا۔ دھومل نے كووڈ -19 کے سبب کرکٹ کے ٹھپ ہونے سے بی سی سی آئی کو ہو رہے نقصان کے بارے میں پوچھےجانے پر ’كرك بز‘ کو انٹرویو میں کہا کہ ہم اس کا اندازہ تبھی کر پائیں گے، جب کرکٹ شروع ہو جائے گا۔ فی الحال ہر دو طرفہ سیریز نہ ہونے سے ہمیں نقصان ہو رہا ہے۔ اگر ہم اس بار آئی پی ایل کا انعقاد نہیں کر پائے، ہمیں تقریباً 4000 کروڑ روپے کی آمدنی کا نقصان ہوگا۔


قابل ذکر ہے کہ عالمی وبا کورونا وائرس كووڈ -19 کی وجہ سے ملک بھر میں لاک ڈاؤن لگا ہوا ہے جو فی الحال 17 مئی تک چلے گا۔ اس دوران ملک بھر میں کھیل سرگرمیاں ٹھپ پڑی ہوئی ہیں اور آئی پی ایل کے 13 ویں سیزن کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ آئی پی ایل کو 29 مارچ سے شروع ہونا تھا، لیکن پہلے لاک ڈاؤن کی وجہ سے اسے 15 اپریل تک ملتوی کیا گیا تھا اور 14 اپریل کو لاک ڈاؤن کو تین مئی تک بڑھائے جانے کے اگلے دن بی سی سی آئی نے آئی پی ایل کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا تھا۔

ارون دھومل نے کہا کہ بی سی سی آئی کے لئے کرکٹروں کی صحت اور حفاظت اولین ترجیح ہے۔ ایک بار اگر کوئی موقع دستیاب ہوتا ہے اور کوئی ونڈو ہوتی ہے تو ہم آئی پی ایل کا انعقاد کرنا چاہتے ہیں۔ آئی سی سی کا 8 سال کا مستقبل دورہ پروگرام ہے جو 2023 تک چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہر کرکٹ بورڈ کورونا کی وجہ سے جدوجہد کر رہا ہے۔ ہر کسی کو اس کے بارے میں سوچنا ہوگا کہ کرکٹ کو کس طرح واپس لایا جا سکتا ہے اور کس طرح اپنے نقصان کی تلافی کی جاسکتی ہے کیونکہ ہر بورڈ کو نقصان ہوگا۔ ایک بار کرکٹ شروع ہو جائے تو ہم سب بورڈز سے بات کریں گے اور ایک دوسرے کی مدد کر کے ورلڈ کرکٹ کو بحال کریں گے۔


 آئی پی ایل کو 29 مارچ سے شروع ہونا تھا، لیکن مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے بی سی سی آئی نے آئی پی ایل کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا تھا۔
آئی پی ایل کو 29 مارچ سے شروع ہونا تھا، لیکن مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے بی سی سی آئی نے آئی پی ایل کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کر دیا تھا۔



دھومل نے اس سے پہلے سڈنی مارننگ ہیرالڈ اخبار سے کہا تھا کہ کرکٹ کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد ہی آئی پی ایل کو لے کر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم نے ابھی تک کوئی منصوبہ نہیں بنایا ہے اور ہم اب آئی پی ایل کے انعقاد کو لے کر بھی کچھ نہیں سوچ رہے ہیں۔ ہم کوئی نیا پروگرام نہیں بنا رہے ہیں یا کسی نئی ونڈو پر غور نہیں کر رہے ہیں۔اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ تبھی لیا جائے گا جب تک کرکٹ واپس شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہت کچھ اس بات پر بھی انحصار کرے گا کہ کیا غیر ملکی کھلاڑی سفری پابندیوں اور کئی طرح کے پروٹوکول کے درمیان ہندوستان آکر اس لیگ میں کھیلنا پسند کریں گے۔ ان کھلاڑیوں کو بیرون ملک سے آنے کے بعد دو ہفتے کے لئے كوارنٹائن ہونا ہوگا۔ ان سب معاملات پر ابھی پوزیشن صاف نہیں ہے، ایسے میں بی سی سی آئی کس طرح اب اس کے انعقاد کے بارے میں سوچ سکتا ہے۔
دھومل نے كرك بز سے انٹرویو میں مانا کہ مستقبل قریب میں آئی سی سی ٹورنامنٹوں میں کھیلنے کے مقابلے دو طرفہ سیریز کھیلنے سے بورڈز کو فائدہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دو طرفہ سیریز سے ہر کرکٹ بورڈ کو فائدہ ہو گا۔ بی سی سی آئی کے خزانچی نے کہا کہ ہر بورڈ کو دیکھنا ہوگا کہ اس کے لئے بہترین کیا ہوگا۔ اگر ہر بورڈ خود کو بچا پائے تبھی آئی سی سی بھی بچ پائے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ آئی سی سی اپنے طور پر بچ جائے اور تمام کرکٹ بورڈز کو بچا سکے۔ اگر ہم خود کو سنبھال پائیں تبھی ایک دوسرے کی مدد کر پائیں گے۔ عالمی کرکٹ کی بحالی کے لئے یہ ضروری ہے کہ تمام بورڈ مالی طور پر مضبوط ہوں۔
First published: May 13, 2020 01:19 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading