உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ویراٹ کوہلی کو کپتانی چھوڑنے کے لئے دئیے گئے تھے48 گھنٹے، نہیں مانیں تو BCCI نے بتائی اپنی طاقت

    وراٹ کوہلی سے ونڈے میچوں کی کپتانی چھین لی گئی۔

    وراٹ کوہلی سے ونڈے میچوں کی کپتانی چھین لی گئی۔

    سلیکشن کمیٹی نے آگے بڑھنے کے دوران روہت شرما کو ونڈے اور ٹی20 انٹرنیشنل ٹیموں کا کیپٹن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوہلی نے بس یوں ہی اپنی کپتانی داو پر لگادی۔

    • Share this:
      نئی دہلی: بی سی سی آئی (BCCI) نے وراٹ کوہلی (Virat Kohli) کو ہندوستان کی ونڈے ٹیم کی کیپٹن شپ سے ہٹا کر باگ ڈور روہت شرما (Rohit Sharma) کو سونپ دی ہے۔ کوہلی پہلے ہی ٹی-20 کی کپتانی چھوڑ چکے تھے۔ پتہ چلا ہے کہ بی سی سی آئی نے کوہلی کو اپنی مرضی سے ونڈے ٹیم کی کپتانی سے ہٹنے کے لئے پچھے 48 گھنٹوں کا انتظار کیا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ لیکن 49 ویں گھنٹے میں روہت شرما کو یہ عہدہ گنوا بیٹھے جو ہونا ہی تھا۔

      شائد کسی کو یہ بتانے کے لئے اُس کا وقت ہوچکا ہے، وراٹ کوہلی کی برخاستگی کے بارے میں بی سی سی آئی کے بیان میں ذکر بھی نہیں کیا گیا جس میں صرف کہا گیا ہے کہ سلیکشن کمیٹی نے آگے بڑھنے کے دوران روہت شرما کو ونڈے اور ٹی20 انٹرنیشنل ٹیموں کا کیپٹن بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کوہلی نے بس یوں ہی اپنی کپتانی داو پر لگادی۔ بی سی سی آئی اور نیشنل سلیکشن کمیٹی نے کوہلی کو کپتانی سے ہٹا دیا جن کی آرزو شائد 2023 ونڈے ورلڈ کپ میں گھریلو سرزمیں پر انڈین ٹیم کی قیادت کرنے کی ہوگی۔

      جس لمحے ہندوستان ٹی20 ورلڈ کپ کے گروپ سے باہر ہوا، کوہلی کو کپتانی سے ہٹایا جانا طئے ہوگیا تھا لیکن بی سی سی آئی عہدیدار پچھلے ساڑھے چار سالوں سے ٹیم کے کپتان کو احترام سے راستہ دینا چاہتے تھے۔ آخر میں ایسا لگتا ہے کہ کوہلی نے بی سی سی آئی سے کہا کہ اُنہیں برخاست کر کے بتائو اور کھیل کے سرفہرست ادارے نے آگے بڑھ کر ایسا ہی کیا اور پھر اُن کے سامنے اسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا تھا۔ کوہلی کی کپتانی کا دور خود میں ایک شاندار داستان رہا ہے۔

      مہندر سنگھ دھونی نے اپنی قیادت میں کوہلی کو تیار کیا اور پھر جب اُنہیں لگا کہ وقت آگیا ہے تو انہوں نے سفید گیند کی ذمہ داری اُنہیں سونپ دی۔ اگلے دو سالوں میں کوہلی ٹیم کے طاقتور کپتان بن گئے جو اپنے لحاظ سے چیزیں انجام دیا کرتے۔ پھر ہائی کورٹ کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی آف ایڈمنسٹریٹر نے اُن کی ہر مانگ (کچھ صحیح کچھ غلط) کو پورا کیا۔ پھر روایتی ایڈمنسٹریٹرس کی واپسی ہوئی جس میں بہت طاقتور سکریٹری اور صدر تھے جو خود ہی کامیاب کپتانی کے بارے میں جانکاری رکھتے تھے۔ آخر میں سفید گیند کے دونوں فارمیٹ کے لئے دو الگ الگ کپتانوں کی کوئی جگہ نہیں رہی۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: