உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Asia Cup: ہانگ کانگ کے 3 'پاکستانی کھلاڑی' کر سکتے ہیں ٹیم انڈیا کو پریشان، کوالیفائر میں دکھایا دم

    Youtube Video

    اس ٹیم میں تین ایسے کھلاڑی ہیں، جو ہندوستان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان تینوں ہی کھلاڑیوں کا پاکستان سے گہرا تعلق ہے۔ آئیے آپ کو ایک ایک کرکے ان تینوں کھلاڑیوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
    India Vs hongkong: ہندستان نے ایشیا کپ Asia Cup کا آغاز جیت کے ساتھ کیا۔ پہلے میچ میں ٹیم انڈیا نے پاکستان کو 5 وکٹوں سے شکست دی لیکن ہندوستان کا ٹاپ آرڈر اس میچ میں نہیں چل سکا۔ روہت شرما اور کے ایل راہل سستے میں آؤٹ ہوگئے۔ حالانکہ وراٹ کوہلی نے 35 رنز بنائے۔ لیکن وہ مخالف گیند بازوں میں اپنا خوف نہیں بھر سکے۔ اب ہندوستان کو 31 اگست کو دوسرے میچ میں ہانگ کانگ Hong Kong کا سامنا کرنا ہے۔ ویسے تو دونوں ٹیموں کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا لیکن ہانگ کانگ کی حالیہ کارکردگی بہت اچھی رہی ہے۔

    ٹی 20 رینکنگ میں ہندوستان دنیا کی نمبر 1 ٹیم ہے جبکہ ہانگ کانگ 20 ویں نمبر پر ہے۔ ایشیا کپ کوالیفائر میں اس ٹیم نے جس طرح کا کھیل دکھایا ہے اسے دیکھتے ہوئے یہ ہندوستانی ٹیم کے لیے پریشانی پیدا کر سکتا ہے۔ 2018 کے ایشیا کپ میں ہانگ کانگ کی ٹیم نے ہندوستان کو اچھی ٹکر دی۔ تھی، ایسے میں ہندوستان کو اس بار ہانگ کانگ سے بچ کر رہنا ہوگا۔

    ہانگ کانگ نے ایشیا کپ کے کوالیفائرز میں اپنے تینوں مقابلے جیتے اور تینوں میچوں میں یہ ٹیم اپوزیشن پر حاوی رہیں۔ ہانگ کانگ نے متحدہ عرب امارات اور کویت کو 8 وکٹوں سے شکست دی جب کہ 148 رنز بنانے کے بعد اس نے سنگاپور کو 8 رنز سے مات دی۔ اس ٹیم میں تین ایسے کھلاڑی ہیں، جو ہندوستان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ان تینوں ہی کھلاڑیوں کا پاکستان pakistan سے گہرا تعلق ہے۔ آئیے آپ کو ایک ایک کرکے ان تینوں کھلاڑیوں کے بارے میں بتاتے ہیں۔

    ہندستان۔پاکستان کا اگلا مقابلہ اسی ہفتے ہو سکتا ہے، جانئے Asia Cup کا شیڈول

    پاکستان میں 500روپئے کلو ٹماٹر اور 400 روپے میں پیاز، کیا ہندستان سے لے گا مدد


    بابر حیات

    ایشیا کپ ہر دو سال بعد منعقد ہوتا ہے، ایک بار ٹی ٹوئنٹی اور پھر ون ڈے فارمیٹ میں یہ کھیلا جاتا ہے۔ 2016 میں پہلی بار ایشیا کپ T20 فارمیٹ میں کھیلا گیا تھا۔ اس کے بعد 18 میں ون ڈے فارمیٹ میں ایشیا کپ ہوا۔ اب 4 سال بعد ایشیا کپ کھیلا جا رہا ہے۔ 2016 میں ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں کھیلے گئے پہلے ایشیا کپ میں ہانگ کانگ کے بابر حیات Babar Hayat نے ایسا کارنامہ سرانجام دیا تھا جسے کوئی اور بلے باز توڑ نہیں سکا۔

    آج بھی ایشیا کپ کے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں سب سے زیادہ انفرادی اننگز کا ریکارڈ ہانگ کانگ کے بابر حیات کے نام درج ہے۔ انہوں نے عمان کے خلاف 60 گیندوں پر 122 رنز بنائے۔ اس اننگز میں انہوں نے 9 چوکے اور 7 چھکے لگائے۔ اس فہرست میں دوسرے نمبر پر روہت شرما ہیں جنہوں نے 2016 میں بنگلہ دیش کے خلاف 83 رنز بنائے تھے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایشیا کپ کے اس سیزن میں کوئی بھی بلے باز 122 سے زیادہ رنز بنا پائے گا۔

    احسان خان

    ہانگ کانگ کی ٹیم کے لیے کھیلنے والے احسان خان رائٹ آرم آف بریک بولر ہیں۔ 37 سالہ باؤلر 2016 سے ہانگ کانگ کے لیے کھیل رہے ہیں۔ احسان خان باؤلنگ کے ساتھ بہت اچھی بلے بازی بھی کر لیتے ہیں اور زوردار شاٹس بھی مار سکتے ہیں۔ T20 کیریئر کی بات کریں تو احسان خان نے 31 میچوں کی 31 اننگز میں 39 وکٹیں حاصل کیں اور اس دوران ان کا اکانومی ریٹ 6.06 رہا۔

    یہ ہوگی پاکستان کے خلاف Playing XI ٹیم؟ BCCI نے شیئر کی نے 11کھلاڑیوں کی تصویریں

    ایشیا کپ میں کیوں اڑا رکھی ہے بلے بازوں کی نیند؟
    ہانگ کانگ ایشیا کپ میں تین کوالیفائر کھیل کر آرہے ہیں جس میں سے احسان خان Ehsan khan دو میچوں میں مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے تینوں میچوں میں کئی بلے بازوں کو آؤٹ کیا۔ احسان نے سنگاپور کے خلاف 3، کویت کے خلاف 2 اور متحدہ عرب امارات کے خلاف 4 وکٹیں حاصل کیں۔ ان کی فارم کو دیکھ کر ہندوستان اور پاکستان کے بلے باز بالکل بھی لاپرواہ نہیں ہونا چاہیں گے۔

    یاسم مرتضیٰ

    یاسین مرتضیٰ Yasim murtaza ایک پاکستانی کرکٹر ہے جس نے راولپنڈی کرکٹ ٹیم کے لیے فرسٹ کلاس میچ کھیلے۔ 2006 سے 2016 کے درمیان مرتضیٰ نے پاکستان میں 74 فرسٹ کلاس، 59 لسٹ اے اور 33 ٹی ٹوئنٹی میچز کھیلے۔

    اسٹار کھلاڑی
    یاسم مرتضیٰ Yasim murtaz نے کوالیفائر راؤنڈ میں ٹیم کے لیے سب سے زیادہ رنز بنائے ہیں اور امید کی جائے گی کہ وہ بڑی ٹیموں کے خلاف بھی اچھے اسکور کریں گے۔ ان کے علاوہ بابر حیات بھی کمال کر سکتے ہیں۔ احسان خان اور آیوش شکلا گیندبازی میں ٹیم کے اہم کھلاڑی ہیں۔ کپتان نزاکت خان بھی لمبی اننگز کھیلنے میں ماہر ہیں۔

     
    Published by:Sana Naeem
    First published: