ہوم » نیوز » اسپورٹس

وقار یونس کا بڑا بیان ، کہا : اپنے اس احمقانہ فیصلہ کی وجہ سے ورلڈ کپ میں ہندوستان سے ہارا پاکستان

مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ گراونڈ میں 16 جون 2019 کو کھیلے گئے میچ میں ہندوستان نے ڈک ورتھ لوئس سسٹم کے تحت پاکستان کو 89 رنز سے شکست دی تھی ۔

  • Share this:
وقار یونس کا بڑا بیان ، کہا : اپنے اس احمقانہ فیصلہ کی وجہ سے ورلڈ کپ میں ہندوستان سے ہارا پاکستان
علامتی تصویر

پاکستان کے سابق کرکٹر وقار یونس کا خیال ہے کہ ٹاس کے ساتھ شروع ہونے والی ناقص فیصلہ سازی کی وجہ سے 2019 کے آئی سی سی ورلڈ کپ میں روایتی حریف ہندوستان کے خلاف میچ میں پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا  ۔ وقار یونس نے کہا کہ گذشتہ سال انگلینڈ میں کھیلے جانے والے ون ڈے ورلڈ کپ میں ان کی قومی ٹیم نے ہندوستان کے ٹاپ آرڈر بلے بازوں کی صلاحیتوں کو سمجھنے میں بڑی غلطی کی تھی ، جس کی وجہ سے انھیں ہار کا سامنا کرنا پڑا۔ مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ گراونڈ میں 16 جون 2019 کو کھیلے گئے میچ میں ہندوستان نے ڈک ورتھ لوئس سسٹم کے تحت پاکستان کو 89 رنز سے شکست دی تھی ۔


وقار یونس نے 'گلوفنس' کے آفیشل ٹویٹر ہینڈل پر بتایا کہ پاکستان کو لگا کہ وہ پہلے بولنگ کر کے ہندوستانی ٹاپ آرڈر کو سستے میں نمٹادے گا ، جس سے ہندوستانی ٹیم دباو میں آجائے گی ، لیکن ہندوستان کے پاس ٹاپ آرڈر میں عمدہ بلے باز تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں پاکستان نے ٹاس جیت کر اس میچ میں بالنگ کا غلط فیصلہ کیا تھا ۔ پاکستان کو امید تھی کہ پچ ابتدائی طور پر فاسٹ بالرز کی مدد کرے گی اور ٹیم ہندوستانی اوپنرز کو جلد ہی پویلین بھیج کر دباو بنالے گی ۔


سابق فاسٹ بالر نے کہا کہ ہندوستان کے عمدہ اوپنر تھے ۔ پچ اور حالات نے بھی تیز بالرز کا ساتھ نہیں دیا اور ہندوستانی بلے بازوں نے بالرز کو حاوی نہیں ہونے دیا ۔ ہندستان نے اتنا بڑا اسکور بنایا ، جس کا حصول پاکستان کے لئے بہت مشکل ہوگیا ۔ روہت شرما کے 113 گیندوں پر 140 رنز کی بدولت ہندوستان نے 50 اوورس میں پانچ وکٹوں پر 336 رنز بنائے تھے ، جس کے جواب میں پاکستان نے بارش سے متاثرہ میچ میں 40 اوورس میں چھ وکٹوں پر 212 رنز بنائے ۔


وقار یونس نے کہا کہ میرے خیال میں ٹاس جیتنے کے بعد پاکستان کا بولنگ کرنا ایک احمقانہ فیصلہ تھا ۔ اس پچ پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے دباو بڑے اسکور کے ساتھ بنانا چاہئے تھا ۔ اس دن پاکستان کے بالرز کو مدد نہیں ملی اور ہندوستان کی کارکردگی حیرت انگیز تھی ۔ ورلڈ کپ میں یہ پاکستان کے خلاف ہندوستان کی ساتویں جیت تھی جبکہ پاکستان اب تک ایک بھی میچ نہیں جیت سکا ہے۔

ورلڈ کپ میں ہندوستان پاکستان کے میچوں کا حوالہ دیتے ہوئے وقار نے سچن تیندولکر کی اننگز کو 2003 کے ورلڈ کپ میں بہترین قرار دیا ۔ جنوبی افریقہ میں کھیلے گئے اس میچ میں 274 رنز کے مشکل اسکور کا تعاقب کرتے ہوئے تیندولکر نے عمدہ بلے بازی کی ، لیکن وہ دو رنز سے سنچری سے محروم رہے ۔ ہندوستان نے یہ میچ چھ وکٹوں سے جیتا تھا ۔ ماسٹر بلاسٹر تیندولکر کے پرستار سدھیر کمار چودھری کے سوال پر سچن کی خصوصی اننگز کا ذکر کرتے ہوئے وقار نے کہا کہ 2003 میں پاکستان کے خلاف سچن تیندولکر کی اننگز کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے ، کیونکہ انہوں نے حیرت انگیز طور پر بیٹنگ کی تھی ۔ ہماری ٹیم میں ایک تجربہ کار بولر تھا اور ہندوستان دباو میں تھا ۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ سچن سے اس کے بارے میں پوچھیں گے ، تو وہ بھی یہی کہیں گے کہ شاید یہ ان کی بہترین اننگز میں سے ایک تھی ۔ جس طرح انہوں نے شعیب اختر ، وسیم اکرم اور مجھ پر دباو ڈالا اور جس طرح انہوں نے حملہ کیا اور رنز تیزی سے حاصل کئے ، میرے خیال میں یہ حیرت انگیز اننگز تھی ۔ وہ ایک بہت ہی شائستہ آدمی ہیں اور ہر ایک نے ان کی کامیابیوں کو دیکھا ہے اور انہیں میدان میں کھیلتا ہوا دیکھا ہے ۔
First published: Jun 19, 2020 08:43 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading