உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Brendan Taylor Spot Fixing: اسپاٹ فکسنگ کا انکشاف کرنے والے کپتان پر آئی سی سی نے لگائی پابندی

    زمبابوے کے سابق کپتان برینڈن ٹیلر نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں اسپاٹ فکسنگ کے لئے مجبور کیا گیا تھا۔ (AFP)

    زمبابوے کے سابق کپتان برینڈن ٹیلر نے انکشاف کیا تھا کہ انہیں اسپاٹ فکسنگ کے لئے مجبور کیا گیا تھا۔ (AFP)

    Brendan Taylor Spot Fixing: زمبابوے کے سابق کپتان برینڈ ٹیلر نے 284 بین الاقوامی میچوں میں ملک کی نمائندگی کی۔ انہوں نے 17 سنچریوں کے ساتھ 9,938 رن بنائے۔ سال 2021 میں ٹیلر نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیا تھا۔

    • Share this:
      دبئی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے زمبابوے کے سابق کپتان برینڈن ٹیلر (Brendan Taylor) پر سال 2019 میں ہندوستانی تاجر کی طرف سے اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش کی رپورٹ وقت پر نہیں کرنے کے لئے ساڑھے تین سال کی پابندی لگائی۔ آئی سی سی نے اس کے ساتھ ہی برینڈن ٹیلر کو اسی معاملے کے دوران کوکین لینے کے سبب ڈوپ ٹسٹ میں ناکام رہنے کے لئے ایک ماہ کے لئے معطل کیا ہے۔ آئی سی سی (ICC) نے اپنے بیان میں کہا کہ برینڈن ٹیلر نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں آئی سی سی کی اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعات کی خلاف ورزی کی۔

      آئی سی سی نے کہا، ’زمبابوے کے سابق کپتان برینڈن ٹیلر کو آئی سی سی کو اینٹی کرپشن کوڈ کی دفعات کی خلاف ورزی کرنے کے چار الزامات اور آئی سی سی اینٹی ڈوپنگ کوڈ کے تحت الزام کا اعتراف کرنے کے بعد ان پر ہر قسم کی کرکٹ سے ساڑھے تین سال کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

      برینڈن ٹیلر نے 24 جنوری کو انکشاف کیا تھا کہ ایک ہندوستانی تاجر کے ساتھ میٹنگ کے دوران اسے 'احمقانہ طریقے سے' کوکین لینے کے بعد بلیک میل کیا گیا تھا۔ برینڈن ٹیلر نے کہا تھا کہ انہیں تاجر کے ذریعہ سال 2019 میں بدعنوانی کی پیشکش کی رپورٹ وقت پر نہیں کرنے کے سبب کئی سال کی پابندی جھیلنی پڑ سکتی ہے۔



      برینڈن ٹیلر نے دعویٰ کیا تھا کہ ہندوستانی تاجر نے انہیں ہندوستان میں ’اسپانسر‘ دلانے اور زمبابوے میں ایک ٹی20 ٹورنا منٹ کے ممکنہ منصوبے پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے مدعو کیا تھا۔ انہوں نے تاجر کے نام کا انکشاف کئے بغیر کہا تھا کہ انہیں اکتوبر، 2019 میں 15000 ڈالر کی پیشکش کی گئی تھی۔ اس 35 سالہ کھلاڑی نے گزشتہ سال ریٹائرمنٹ لینے سے پہلے 205 ونڈے، 34 ٹسٹ اور 45 ٹی20 بین الاقوامی میچ کھیلے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: