உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آسٹریلیائی کھلاڑی نے ماردی پیر، جواب میں پاکستان کے اس بلے باز نے سر پھوڑنے کے لئے اٹھایا بلا

    جب جاوید میانداد اور ڈینس للی کے درمیان ہوگئی جنگ

    جب جاوید میانداد اور ڈینس للی کے درمیان ہوگئی جنگ

    کرکٹ کے میدان پر اکثرکھلاڑیوں کے درمیان لڑائی ہوجاتی ہے، لیکن بہت کم ایسا دیکھا گیا ہے کہ جب دونوں ایک دوسرے کو مارنے پیٹنے (Fights During Cricket Match) کےلئے تیار ہوجائیں۔

    • Share this:
      کرکٹ کے میدان پر اکثر کھلاڑی ایک دوسرے سے بھڑ (Cricket Fights) جاتے ہیں، لیکن سال 1981 میں آسٹریلیا اور پاکستان کے میچ کے دوران بات کافی حد تک بڑھ گئی تھی۔ پرتھ میں آسٹریلیا اور پاکستان کی ٹیمیں آمنے سامنے تھی اور میچ کے دوران دو کھلاڑی اس طرح بھڑ گئے کہ ہاتھاپائی کی نوبت آگئی۔ اسے ٹسٹ کرکٹ کی سب سے سنگین سانحہ بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ اس سے پہلے میدان میں ایسا واقعہ کبھی دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ آخر کون سے دو کھلاڑی آپس میں بھڑے تھے اور اس لڑائی کی وجہ کیا تھی۔

      جاوید میانداد اور ڈینس للی کی ’جنگ’

      پاکستان کے سب سے شاندار بلے بازجاوید میانداد (Javed Miandad) اور آسٹریلیا کے عظیم گیندباز ڈینس للی (Dennis Lillee) پرتھ ٹسٹ میں بھڑ گئے تھے۔ سال 1981 میں جاوید میانداد کپتان بن کر آسٹریلیا دورے پر گئے۔ بطور کپتان یہ ان کا پہلا غیر ملکی دورہ تھا۔ سیریز کا پہلا ٹسٹ پرتھ میں شروع ہوا۔ اس میدان کی تیز پچ پر میزبان آسٹریلیائی ٹیم محض 180 رنوں پر سمٹ گئی۔ جواب میں پاکستان کی پہلی اننگ میں صرف 62 رن ہی بنا پائی۔ ڈینس للی نے محض 18 رن دے کر 5 وکٹ حاصل کئے۔ اس کے بعد دوسری اننگ میں آسٹریلیا نے 8 وکٹ پر 424 رن بنا ڈالے اور پاکستان کو 543 رنوں کا ہدف ملا

      جاوید میانداد اور آسٹریلیا کے عظیم گیندباز ڈینس للی پرتھ ٹسٹ میں بھڑ گئے تھے۔
      جاوید میانداد اور آسٹریلیا کے عظیم گیندباز ڈینس للی پرتھ ٹسٹ میں بھڑ گئے تھے۔


      پاکستان کی دوسری اننگ کی شروعات بھی خراب رہی۔ اس نے اپنے دو وکٹ صرف 27 رنوں پر گنوا دیئے۔ اس کے بعد کپتان جاوید میانداد کریز پر اترے اور انہوں نے منصور اختر کے ساتھ کریز پر کھونٹا گاڑ لیا۔ اس دوران ڈینس للی نے مسلسل جاوید میانداد (Javed Miandad) پر اپنی گیندوں سے حملے کئے، لیکن پاکستانی کپتان کریز پر ڈٹے رہے۔ اس کے بعد ایک ایسا حادثہ ہوا، جس کے بارے میں شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا۔ ڈینس للی (Dennis Lillee) کی ایک انونسنگ گیند پر جاوید میانداد (Javed Miandad) نے ایک رن لیا۔ جاوید میانداد رن پورا کر ہی رہے تھے کہ اچانک للی ان کے بیچ میں آکھڑے ہوئے۔ میانداد نے ان سے ٹکرا گئے اور انہیں تھوڑا سا دھکا دیا۔ اس کے بعددونوں کھلاڑیوں کے درمیان بحث شروع ہوگئی اور امپائر کو بیچ میں آنا پڑا۔

      بحث کے بعد مارپیٹ کی نوبت

      امپائر کا بیچ میں آنا ناکافی ہوا۔ ڈینس للی اور جاوید میانداد ایک دوسرے کو گالیاں سنائے جارہے تھے اور تبھی آسٹریلیائی تیز گیند باز نے بہت بڑی غلطی کردی۔ ڈینس للی نے جاوید میانداد کو لات ماردی۔ اس کے بعد جاوید میانداد اتنا بھڑک گئے کہ انہوں نے ڈینس للی کو مارنےکےلئے بلا اٹھا لیا۔ آسٹریلیائی کپتان گریگ چیپل نے کسی طرح دونوں کو الگ کیا۔



      ڈینسس للی کی چوطرفہ تنقید ہوئی

      یہ لڑائی تو رک گئی، لیکن اس حادثہ کے بعد ڈینس للی کو چاروں طرف تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ آسٹریلیا کے سابق کپتان باب سمپسن نے اس کو کرکٹ کے میدان کا سب سے شرمناک سانحہ قرار دیا۔ وہیں سابق آل راونڈر کیتھ ملر نے ڈینس للی پر پورے سیزن کے لئے پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کردیا۔ حالانکہ ڈینس للی پر محض 200 آسٹریلین ڈالر کا جرمانہ لگا۔ اس سزا سے پاکستانی ٹیم مینیجمنٹ بالکل خوش نہیں تھا۔ اپنی اس حرکت پر ڈینس للی نے پاکستانی ٹیم سے معافی مانگی، لیکن انہوں نے جاوید میانداد پر ہلکے دھکا دینے کا الزام لگایا۔ جبکہ میانداد کا کہنا تھا کہ ڈینس للی ان کے راستے میں آئے اور انہیں گندی گالیاں بھی دیں۔ پاکستانی ٹیم کے مینیجر اعجاز بٹ سے جب اس سانحہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہا گر پاکستان کا کوئی کھلاڑی ایسا کرتا تو پھر وہ کبھی ٹسٹ کرکٹ نہیں کھیل پاتا۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: