உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سابق ہندوستانی وکٹ کیپر پارتھیو پٹیل کے والد کا انتقال

    سابق ہندوستانی وکٹ کیپر پارتھیو پٹیل کے والد کا انتقال

    سابق ہندوستانی وکٹ کیپر پارتھیو پٹیل کے والد کا انتقال

    سابق ہندوستانی وکٹ کیپر پارتھیو پٹیل (Parthiv Patel) کے والد کا اتوار کو انتقال ہوگیا ہے۔ پارتھیو پٹیل نے ٹوئٹ کرکے مداحوں کو اس خبر کی جانکاری دی۔ سابق ہندوستانی کرکٹر نے کہا کہ میرے والد اجے بھائی بپن چندر پٹیل کا 26 ستمبر کو انتقال ہوگیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: سابق ہندوستانی وکٹ کیپر پارتھیو پٹیل (Parthiv Patel) کے والد کا اتوار کو انتقال ہوگیا ہے۔ پارتھیو پٹیل نے ٹوئٹ کرکے مداحوں کو اس خبر کی جانکاری دی۔ سابق ہندوستانی کرکٹر نے کہا کہ میرے والد اجے بھائی بپن چندر پٹیل کا 26 ستمبر کو انتقال ہوگیا ہے۔ انہوں نے مداحوں سے اپنے والد کو دعاوں میں یاد رکھنے کے لئے کہا۔ گزشتہ 2 سال پارتھیو پٹیل کے لئے کافی مشکل وقت رہا ہے۔ دراصل سال 2019 میں جب پارتھیو پٹیل رائل چیلنجرس بنگلورو ٹیم کا حصہ تھے، تو اسی کے آس پاس ان کے والد کی طبعیت خراب ہوگئی تھی۔ اس وقت ان کے والد برین ہیمریج سے جنگ لڑ رہے تھے اور وہ آئی سی یو میں بھی ایڈمٹ رہے تھے۔ جس وجہ سے پارتھیو پٹیل کی ذاتی اور پیشہ ور زندگی کافی ڈسٹرب رہی تھی۔ انہیں ہر وقت اپنے والد کو لے کر ڈر لگا رہتا تھا۔ والد کے انتقال کی خبر دیتے ہوئے بھی وہ طرح سے ٹوٹے ہوئے نظر آئے۔

      سابق ہندوستانی وکٹ کیپر پارتھیو پٹیل کے والد کا انتقال
      سابق ہندوستانی وکٹ کیپر پارتھیو پٹیل کے والد کا انتقال


      10 دنوں تک نہیں گئے تھے گھر

      پارتھیو پٹیل نے سال 2019 میں آئی پی ایل کے ایک میچ کے بعد بتایا تھا کہ میچ ختم ہونے کے بعد جب وہ ڈریسنگ روم میں جاتے تھے تو وہ اپنا فون دیکھتے وقت دعا کرتے تھے کہ اسپتال سے کوئی بری خبر نہ ہو۔ انہوں نے آئی پی ایل 2019 شروع ہونے سے پہلے اپنے والد کی حالت کے بارے میں سوشل میڈیا پر بتایا تھا۔ ان کے والد کافی لمبے وقت تک اسپتال میں رہے تھے۔

      پارتھیو پٹیل نے اس وقت ایک انٹرویو میں بتایا کہ جس دن ان کے والد اچانک گرے۔ اس کے آئندہ 12 روز وہ والد کے ساتھ آئی سی یو میں تھے۔ یہاں تک کہ وہ 10 دن تک گھر بھی نہیں جا سکے تھے۔ اس وجہ سے انہیں میدان سے بھی کافی دور ہونا پڑا تھا۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: