உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ورلڈ کپ سیمی فائنل میں شسکت کے بعد وراٹ کوہلی پر گرے گی گاج ، روہت شرما بن سکتے ہیں کپتان ! ۔

    ورلڈ کپ سیمی فائنل میں شسکت کے بعد وراٹ کوہلی پر گرے گی گاج ، روہت شرما بن سکتے ہیں کپتان ! ۔

    ورلڈ کپ سیمی فائنل میں شسکت کے بعد وراٹ کوہلی پر گرے گی گاج ، روہت شرما بن سکتے ہیں کپتان ! ۔

    آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ سے ہار کر باہر ہونے والی ٹیم انڈیا کی قیادت کو لے کر بڑا فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔

    • Share this:
      آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ 2019 کے سیمی فائنل میں نیوزی لینڈ سے ہار کر باہر ہونے والی ٹیم انڈیا کی قیادت کو لے کر بڑا فیصلہ کیا جاسکتا ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بی سی سی آئی میں دو کپتان بنانے پر غور کیا جارہا ہے ۔ خبروں کے مطابق روہت شرما کو ون ڈے اور ٹی 20 ٹیم کی کپتانی سونپی جاسکتی ہے تو وہیں وراٹ کوہلی کو صرف ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنایا جاسکتا ہے ۔ آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے بورڈ کے ایک افسر نے کہا کہ ویسٹ انڈیز سیریز سے پہلے بورڈ اس معاملہ پر تبادلہ خیال کرے گا کہ کیا روہت کو ون ڈے ٹیم کا کپتان بنایا جائے اور کوہلی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی جاری رکھیں ۔

      آئی اے این ایس میں شائع خبر کے مطابق بی سی سی آئی کے اہلکار نے کہا کہ روہت کیلئے 50 اوورس کے فارمیٹ میں کپتانی کی باگ ڈور سنبھالنے کا یہ صحیح وقت ہوگا ۔ اگلے ورلڈ کپ کیلئے حکمت عملی بنانے کیلئے یہ صحیح وقت ہے اور اس کیلئے موجودہ خیالات اور حکمت عملیوں کو از سر نو دیکھنے کی ضرورت ہے ۔ ہم سبھی جانتے ہیں کہ کچھ شعبوں کو نئے ڈھنگ سے دیکھنے کی ضرورت ہے ، روہت کپتانی کیلئے صحیح متبادل ہیں ۔

      حالانکہ افسر کے مطابق ورلڈ کپ کے بعد سب سے بڑا معاملہ کوہلی اور روہت شرما کے درمیان پیدا ہوئی دوری سے وابستہ افواہوں کا ہے ۔ انتظامیہ سے متعلق کمیٹی ( سی او اے ) کی موجودگی میں کوچ روی شاستری ، کوہلی اور چیف سلیکٹر ایم ایس کے پرساد کے درمیان ہونے والی میٹنگ میں ان معاملات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا ۔



      بی سی سی آئی افسر کے مطابق آپ جانتے ہیں کہ ونود رائے ( سی او اے چیف ) پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ایک میٹنگ ہوگی ، جس میں ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا ۔ جائزہ کے دوران ان افواہوں کی تہہ تک جانا ضروری ہے ، جبکہ رائے نے دعوی کیا ہے کہ میٹنگ کے دوران ٹیم کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا ، کئی دیگر معاملات بھی ہیں جن پر فورا توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
      First published: