உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    IPL-2022 کا شیڈول جاری، 2 الگ الگ گروپ میں تقسیم کی گئیں 10 ٹیمیں، جانئے مکمل تفصیل

    IPL-2022 کا شیڈول جاری، 2 الگ الگ گروپ میں تقسیم کی گئیں 10 ٹیمیں

    IPL-2022 کا شیڈول جاری، 2 الگ الگ گروپ میں تقسیم کی گئیں 10 ٹیمیں

    ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں 20، بریبورن اسٹیڈیم میں 15، ممبئی کے ڈی وائی پاٹل اسٹیڈیم میں 20 اور پونے کے ایم سی اے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں 15 میچ کھیلے جائیں گے۔ سبھی ٹیمیں وانکھیڑے اور ڈی وائی پاٹل اسٹیڈیم میں 4-4 میچ کھیلیں گی جبکہ بریبورن اور پونے کے ایم سی اے اسٹیڈیم میں 3-3 مقابلے منعقد کئے جائیں گے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) نے جمعہ کو باضابطہ طور پر آئی پی ایل کے آئندہ سیزن (IPL-2022) کا شیڈول جاری کردیا۔ مشہور ٹی 20 لیگ کا سیزن اس سال 26 مارچ سے شروع ہوگا جبکہ فائنل مقابلہ 29 مئی کو کھیلا جائے گا۔ لیگ اسٹیج کے سبھی 70 مقابلے ممبئی اور پونے کے چار اسٹیڈیموں میں کھیلے جائیں گے۔ وہیں، پلے آف کے وینیو پر بعد میں فیصلہ لیا جائے گا۔

      ممبئی کے وانکھیڑے اسٹیڈیم میں 20، بریبورن اسٹیڈیم میں 15، ممبئی کے ڈی وائی پاٹل اسٹیڈیم میں 20 اور پونے کے ایم سی اے انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں 15 میچ کھیلے جائیں گے۔ سبھی ٹیمیں وانکھیڑے اور ڈی وائی پاٹل اسٹیڈیم میں 4-4 میچ کھیلیں گی جبکہ بریبورن اور پونے کے ایم سی اے اسٹیڈیم میں 3-3 مقابلے منعقد کئے جائیں گے۔

      سبھی 10 ٹیمیں کھیلیں گی 14-14 میچ

      سبھی 10 ٹیمیں 14-14 میچ کھیلیں گی۔ ان 14 میچ میں سے سات وہ اپنے گھریلو میدان پر کھیلے گی۔ وہیں باقی سات دوسرے میدان پر۔ اس طرح اس بار لیگ مقابلوں کی تعداد 60 کے بجائے 74 ہوگی۔ ہر ٹیم پانچ ٹیموں کے خلاف دو دو بار کھیلے گی۔ وہیں بچی ہوئی چار ٹیموں کے ساتھ صرف ایک ہی مقابلہ ہوگا۔ لیگ راونڈ کے بعد چار پلے آف مقابلے کھیلے جائیں گے، جس کا وینیو اور تاریخ ابھی طے نہیں ہوئی ہے۔

      اس بار مقابلے گروپ میں تقسیم کرکے کھیلے جائیں گے۔ 10 ٹیموں کو دو گروپوں میں منقسم کیا جائے گا۔ دونوں گروپ میں 5-5 ٹیمیں ہوں گی۔ اپنے گروپ میں ایک دوسرے کے خلاف دو بار کھیلنے کا موقع ملے گا۔ دوسرے گروپ کی کسی ایک ٹیم کے خلاف دو میچ کھیلنے کا موقع ملے گا۔ دوسرے گروپ کی کسی ایک ٹیم کے خلاف دو میچ کھیلنے کے مواقع ہوں گے۔ اس کے بعد دوسرے گروپ کی باقی باقی بچی چار ٹیموں کے خلاف ایک ایک مقابلہ کھیلنا ہوگا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: