உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    IPL 2022: راجستھان رائلس کی ہار کے بعد آر اشون پر اٹھے سوال، ڈائریکٹر نے کہی یہ بڑی بات

    IPL 2022: راجستھان رائلس کی ہار کے بعد آر اشون پر اٹھے سوال، ڈائریکٹر نے کہی یہ بڑی بات ۔ (R Ashwin Instagram)

    IPL 2022: راجستھان رائلس کی ہار کے بعد آر اشون پر اٹھے سوال، ڈائریکٹر نے کہی یہ بڑی بات ۔ (R Ashwin Instagram)

    IPL 2022: راجستھان رائلز کے کرکٹ ڈائریکٹر کمار سنگاکارا کا ماننا ہے کہ آر اشون ایک لیجنڈ کرکٹر ہیں، لیکن انہیں بہتری کے بارے میں سوچنا چاہئے اور روایتی آف بریک میں زیادہ گیندبازی کرنی چاہئے۔

    • Share this:
      احمد آباد : راجستھان رائلز کے کرکٹ ڈائریکٹر کمار سنگاکارا کا ماننا ہے کہ آر اشون ایک لیجنڈ کرکٹر ہیں، لیکن انہیں بہتری کے بارے میں سوچنا چاہئے اور روایتی آف بریک میں زیادہ گیندبازی کرنی چاہئے۔ ہندوستان کے لیے سب سے زیادہ ٹیسٹ وکٹ (442) لینے والے گیند بازوں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر قابض اشون اپنی گیند بازی میں بہت زیادہ تجربہ کرتے ہیں۔ وہ اکثر آف بریک سے زیادہ کیرم گیند پھینکتے ہیں۔ آئی پی ایل 2022 کے فائنل میں اشون کی کارکردگی کچھ خاص نہیں رہی۔ انہوں نے 3 اوورز میں 32 رنز دئے اور وکٹ بھی نہیں لے سکے۔ اس میچ میں گجرات ٹائٹنز نے راجستھان کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر پہلی بار ٹی 20 لیگ کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔

       

      یہ بھی پڑھئے : گجرات کے گیندباز محمد شمی راجستھان پر بھاری، ٹیم کواکیلے جتائے90 فیصد میچ!


      کمار سنگاکارا نے فائنل میں گجرات ٹائٹنز سے شکست کے بعد کہا : 'اشون نے ہمارے لیے بہت اچھا کام کیا ہے۔ کرکٹ کے میدان میں ان کی کامیابیاں انہیں لیجنڈ بناتی ہیں۔ اس کے باوجود بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ خاص طور پر انہیں زیادہ آف اسپن گیند پھینکی چاہئے۔‘‘ اشون اس سیزن میں 17 میچوں میں صرف 12 وکٹیں لے سکے۔ فائنل میں بھی انہوں نے زیادہ کیرم گیندیں پھینکیں۔ دوسری جانب لیگ اسپنر یجویندر چہل نے 27 وکٹیں حاصل کیں۔ راجستھان کی ٹیم میچ میں 9 وکٹوں پر صرف 130 رنز بنا سکی اور سنگاکارا کا ماننا ہے کہ یہ کافی نہیں تھے۔

       

      یہ بھی پڑھئے : سابق آسٹریلیائی کرکٹر ڈیو واٹمور بھی ہوئے عمران ملک کے مرید، کہی یہ بڑی بات


      انہوں نے کہا کہ 130 رنز کبھی کافی نہیں تھے۔ ہم پہلے گیند بازی کا انتخاب کرنے کے بارے میں بھی بات کر رہے تھے۔ جب ہم گراؤنڈ پر پہنچے تو پچ سوکھی تھی۔ ہم نے سوچا کہ یہ دھیمی ہو جائے گی، جس سے ہمارے اسپنرز کو ٹرن ملے گا ۔ ہمیں 160-165 رنز کی امید تھی۔

      انہوں نے کہا کہ ہم نے 10 اوورز میں ایک وکٹ پر 70 رنز بنائے تھے اور ہم اچھی پوزیشن میں تھے ۔ تاہم سنجو کے آؤٹ ہونے کے بعد ان کے گیند بازوں نے دباؤ ڈالا۔ ہم نے پاور پلے میں ان کی کچھ وکٹیں حاصل کیں، لیکن پہلے ہی اوور میں شبھمن گل کا کیچ چھوڑنا مہنگا پڑ گیا۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: