ہوم » نیوز » اسپورٹس

مسلمان ہوکرہندوستان کے لئے کیوں کھیلتے ہو؟ پاکستان میں پوچھےگئے سوال پرعرفان پٹھان نے دیا یہ جواب

شہریت قانون کے خلاف احتجاج کررہے جامعہ ملیہ کے طلباء کی حمایت میں ٹوئٹ کرکے عرفان پٹھان ٹرولرس  کے نشانے پرآگئے۔ ایسے میں اب انہوں نے ٹرولرس  کومنہ توڑجواب دیا ہے۔ 

  • Share this:
مسلمان ہوکرہندوستان کے لئے کیوں کھیلتے ہو؟ پاکستان میں پوچھےگئے سوال پرعرفان پٹھان نے دیا یہ جواب
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کی حمایت کرنے پر ٹرول کرنے والوں کو عرفان پٹھان نے جواب دیا ہے۔

نئی دہلی: پارلیمنٹ شہریت ترمیمی بل کومنظوری ملنےکے بعد سے ہی کئی مقامات پراس کی مخالفت ہورہی ہے۔ اس دوران جامعہ ملیہ اسلامیہ میں احتجاجی مظاہرہ کے دوران دہلی پولیس کی کارروائی کی ہرطرف تنقید ہورہی ہے۔ ایک طرف مختلف یونیورسٹیوں نے بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی حمایت میں احتجاج کیا تو دوسری طرف مشہورشخصیات کی جانب سے بھی جامعہ کےطلباء پرہوئےبربریت کے خلاف لوگوں نےآوازاٹھائی۔ انہیں لوگوں میں ہندوستانی کرکٹرعرفان پٹھان بھی شامل ہیں، جنہوں نےطلباء پرہوئے مظالم کی مخالفت کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا۔


حالانکہ اس ٹوئٹ کے بعد انہیں بہت ٹرول کیا گیا، جس کے بعد ایک بارپھرعرفان پٹھان نے آگےآکراس کی مخالفت کی کہ وہ ہندوستانی ہیں اوراپنے ملک میں اپنی بات رکھنا ان کا حق ہے۔ اس دوران عرفان پٹھان نے اپنے پاکستان دورے کویاد کرتے ہوئےایک کہانی بتائی، جہاں ان کے مذہب پرسوال اٹھایا گیا تھا۔



پاکستان دورے پرعرفان سے پوچھا گیا تھا سوال

عرفان پٹھان نے بتایا کہ سال 2004 میں دوستانہ سیریزکے لئے پاکستان گئے تھے۔ اس دوران وہ راہل دراوڑ، پارتھیو پٹیل اورلکشمی پتی بالا جی کے ساتھ لاہورکے ایک کالج میں گئے، جہاں تقریباً 1500 بچے موجود تھے اوران سے سوال کررہے تھے۔ ان کے درمیان ایک لڑکی کھڑی ہوئی اوربے حد غصے میں عرفان پٹھان سے پوچھا کہ اگروہ مسلمان ہیں تو ہندوستان کی طرف سے کیوں کھیلتے ہیں؟ عرفان پٹھان نے بتایا، میں کھڑا ہوا اورکہا کہ میں ہندوستان سے کھیل کراس پرکوئی احسان نہیں کررہا ہوں۔ ہندوستان میرا ملک ہے، میرے آباء واجداد ہندوستان کے ہیں، میں خوش قسمت ہوں کہ اس کی نمائندگی کرپا رہا ہوں۔ میرا جواب سن کرکالج میں سب نے تالیاں بجائیں'۔

عرفان پٹھان نےکہا کہ جب وہ گیند بازی کرتے ہیں وہ یہ نہیں سوچتے کہ وہ ایک مسلمان ہیں، کیونکہ وہ خود کوسب سےپہلے ہندوستانی مانتے ہیں۔ عرفان پٹھان نے کہا کہ اگروہ پاکستان جا کران کے سامنے اپنے ملک کے لئے یہ کہہ سکتے ہیں تواپنے ہی ملک میں اپنی بات کیوں نہیں رکھ سکتے ہیں۔

عرفان پٹھان نے مذہب کی بنیاد پر تبصرہ کرنے والوں کو جواب دیا ہے۔

عرفان پٹھان نے ٹوئٹ کیا تھا، 'سیاست میں الزام تراشی کا دورچلتا رہے گا، لیکن میں اورہمارا ملک جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء کے لئے پریشان ہے'۔ ان کے اس ٹوئٹ کے بعد وہ ٹرولرس کے نشانے پرآگئے۔ عرفان پٹھان نے اس پرناراضگی ظاہرکرتے ہوئے کہا، 'جب میں نے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے خلاف ٹوئٹ کیا تب میں سب کے لئے بہت اچھا تھا اوراب جب میں اپنے طلباء کے بارے میں بات کررہا ہوں تواب میں غلط ہوں، ایسا کیوں'۔


پیسے لے کرٹوئٹ کرنے کی بات پربھڑک گئے عرفان پٹھان


عرفان پٹھان نے مزید کہا 'جب بھی میں اپنے دوستوں سے بات کرتا ہوں، تومیں کبھی مذہب کے بارے میں بات نہیں کرتا۔ ہم ایک دوسرے کی زندگی کے بارے میں کام کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ایسا کوئی نہیں کہتا کہ میں اس سے بات نہیں کروں گا کیونکہ وہ کسی اورمذہب کا ہے۔ ہم سب چاہتے ہیں کہ ملک فیملی کی طرح آگے بڑھے'۔ 


عرفان پٹھان نے ان الزامات کو مسترد کیا، جس میں لوگوں نے کہا کہ وہ پیسے لے کرٹوئٹ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا 'میں بہت محنت اورسچائی سے پیسے کماتا ہوں۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ میں نے نفرت پھیلانے کے لئے ٹوئٹ کیا ہےتومیں ابھی سوشل میڈیا چھوڑدوں گا۔ بچپن میں میرے پاس سائیکل بھی نہیں تھی، آج اس ملک نے مجھے اتنا پیار دیا، جوہمیشہ میرے ساتھ رہے گا۔ مجھے یقین ہے کہ لوگ میری بات سمجھیں گے'۔



First published: Dec 18, 2019 04:02 PM IST