உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Cricket News: جموں و کشمیر میں ہے تیز گیند بازوں کی فیکٹری، اس وجہ سے عمران ملک جیسے نوجوان آج آرہے ہیں آگے

    Cricket News: جموں و کشمیر میں ہے تیز گیند بازوں کی فیکٹری، اس وجہ سے عمران ملک جیسے نوجوان آج آرہے ہیں آگے (PTI)

    Cricket News: جموں و کشمیر میں ہے تیز گیند بازوں کی فیکٹری، اس وجہ سے عمران ملک جیسے نوجوان آج آرہے ہیں آگے (PTI)

    Jammu and kashmir Cricket : جموں و کشمیر کی ٹیم کو ڈومیسٹک کرکٹ میں مضبوط ٹیم نہیں سمجھا جاتا ہے ، لیکن وہاں کے تیز گیند بازوں کا دبدبہ ہندوستانی ٹیم اور آئی پی ایل کی ٹیموں میں نظر آنے لگا ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : ہندوستان کے نوجوان تیز گیند باز عمران ملک کی ان دنوں ہر طرف چرچا ہے۔ جب انہوں نے گزشتہ سال آئی پی ایل میں ڈیبیو کیا تھا تو لوگوں کے پاس ایک ہی سوال تھا کہ جموں و کشمیر میں اور کتنے اندیکھے عمران ہیں؟ اس کے بعد آئی پی ایل کے 15ویں سیزن میں انہوں نے جس طرح مخالف ٹیموں کے خلاف تباہی مچائی، اس سے لوگوں کے سوالات اور بھی بڑھ گئے ہیں۔ نوجوان تیز گیندباز نے گزشتہ سیزن میں ایس آر ایچ کے لئے کل 22 وکٹیں حاصل کیں۔ جموں و کشمیر کی ٹیم کو ڈومیسٹک کرکٹ میں مضبوط ٹیم نہیں سمجھا جاتا ہے ، لیکن وہاں کے تیز گیند بازوں کا دبدبہ ہندوستانی ٹیم اور آئی پی ایل کی ٹیموں میں نظر آنے لگا ہے ۔

      جموں و کشمیر کے سابق کپتان سمیع اللہ بیگ نے کرک انفو کو بتایا کہ یہاں کا بنیادی ڈھانچہ دیگر ریاستوں سے بالکل الگ ہے۔ ایک نوجوان کرکٹر کے لئے اگر وہ بلے باز یا اسپنر بننا چاہتا ہے، تو اسے بہت زیادہ آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن تیز گیند بازی ایک قدرتی ٹیلنٹ ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں کے کھلاڑی اپنے کھانے پینے کی وجہ سے بھی جسمانی طور پر دیگر ریاستوں کے کھلاڑیوں سے تھوڑے الگ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بتایا کہ یہاں کے کھلاڑیوں میں کرکٹ کے تئیں ایک الگ قسم کا جنون ہے۔ کشمیر کی ٹیم کو شروع سے ہی تیز گیند بازی کی نعمت حاصل رہی ہے۔ اگر آپ یہاں کی کرکٹ کی تاریخ کے صفحات پلٹیں تو آپ کو ٹیم کی جیت میں 90 فیصد تیز گیند بازوں کا رول نظر آئے گا۔

       

      یہ بھی پڑھئے: جو روٹ نے کپتانی چھوڑی، لیکن بلے سے کمال جاری، کوہلی کے بڑے ریکارڈ کو کیا پار


      2018 اور 2020 کے درمیان جموں و کشمیر کے کوچ رہے ملاپ میواڈا کا کہنا ہے کہ یہاں کے گیند بازوں میں حیرت انگیز صلاحیت ہے۔ آپ کے سامنے ہر کھلاڑی تیز گیند بازی کرنا چاہتا ہے۔ یہاں پر اتنے سارے سیم تیز گیند باز ہیں جو کبھی کبھی ہنر رکھتے ہوئے بھی ٹیم میں جگہ نہیں بنا پاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ اسٹیمینا ہے۔

       

      یہ بھی پڑھئے: ریشبھ پنت نے توڑا 72 سال پرانا ریکارڈ، ایجبسٹن ٹیسٹ میں بنائے 203 رن


      انہوں نے مزید کہا کہ فی الحال میں حیدرآباد کی ٹیم سے وابستہ ہوں۔ یہاں اگر میں کسی تیز گیند باز سے تھوڑی دیر تک گیندبازی کرواتا ہوں تو وہ کچھ دیر بعد آرام کا مطالبہ کرنے لگتا ہے۔ وہیں اگر میں ان کا موازنہ کشمیر کے سینئر تیز گیند باز محمد مدثر سے کرتا ہوں تو یہ نوجوان کھلاڑی ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہیں ۔ مدثر کے اندر زبردست صلاحیت ہے۔ جب بھی میں اس سے گیند بازی کرنے کیلئے کہتا ہوں تو وہ ہمیشہ تیار رہتا ہے۔

      انہوں نے کہا کہ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب وہ اس عمر میں اس طرح کی گیند بازی کررہے ہیں ، تو وہ اس وقت کیسے رہے ہوں گے جب وہ جوان تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی کبھی ٹیم میں سینئر گیندبازوں کی مسلسل کارکردگی کی وجہ سے نوجوانوں کو جلد موقع نہیں مل پاتا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: