ہوم » نیوز » اسپورٹس

پاکستانی بلے باز عمر اکمل پر لگی پابندی ، اب اتنے سالوں تک نہیں کھیل پائیں گے کرکٹ

انتظامی کمیٹی کے چیئرمین ریٹائر جج فضل میراں چوہان نے اکمل کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی اینٹی کرپشن کی انسداد بدعنوانی ضابطہ کی دو دفعات کے خلاف ورزی کا مجرم ٹھہرایا ہے ۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 27, 2020 10:38 PM IST
  • Share this:
پاکستانی بلے باز عمر اکمل پر لگی پابندی ، اب اتنے سالوں تک نہیں کھیل پائیں گے کرکٹ
عمر اکمل کو بچانے کے لئے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے مشیر بابر اعوان آگے آئے ہیں۔

پاکستان کے بلے باز عمر اکمل  (Umar Akmal)  بدعنوانی کے معاملہ میں پیر کو قصوروار ٹھہرائے گئے اور ان پر کرکٹ کے تمام فارمیٹ میں کھیلنے پر تین سال کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ انتظامی کمیٹی کے چیئرمین ریٹائر جج فضل میراں چوہان نے اکمل کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) (PCB) کی اینٹی کرپشن کی انسداد بدعنوانی ضابطہ کی دو دفعات کے خلاف ورزی کا مجرم ٹھہرایا ہے ۔ اکمل پر لگی پابندی کی جانکاری پی سی بی نے سوشل میڈیا پر دی ۔ پی سی بی نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے دوران اسپاٹ فکسنگ کے معاملہ کے متعلق اکمل پر الزام لگائے تھے اور بورڈ نے اس معاملہ کو انتظامی کمیٹی کو بھیجا تھا ۔ 29  سالہ اکمل کو گزشتہ 20 فروری کو عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔


تفصیلات کے مطابق پاکستان سپر لیگ کے 5 ویں سیزن کے آغاز سے قبل معطل کئے گئے عمر اکمل کو بورڈ کے اینٹی کرپشن کوڈ کی 2 مرتبہ خلاف ورزی پر چارج کیا گیا تھا ۔ عمر اکمل نے ان نوٹس کا جواب دیتے ہوئے اینٹی کرپشن ٹربیونل میں سماعت کیلئے درخواست نہیں کی تھی ، جس کے بعد پی سی بی نے معاملہ ڈسپلنری کمیٹی کے چیئرمین کے سپرد کردیا تھا۔


چیئرمین ڈسپلنری پینل جسٹس ریٹائرڈ فضل میراں چوہان نے 27 اپریل کو کیس کی سماعت کیلئے عمر اکمل اور پی سی بی کو نوٹس جاری کئے تھے اور آج نیشنل کرکٹ اکیڈمی (این سی اے) لاہور میں اس کی سماعت ہوئی ، جس دوران تمام احتیاطی تدابیر اور سماجی فاصلوں کو سختی سے یقینی بنایا گیا اور سماعت کے بعد عمر اکمل کو 3 سال کی پابندی کی سزا سنائی گئی ہے۔


واضح رہے کہ عمر اکمل کو پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل 4.4. 2 کی دو مرتبہ خلاف ورزی پر نوٹس آف چارج جاری کیا گیا تھا ، جو کسی بھی فرد کی جانب سے کرپشن کی پیشکش کے بارے میں پی سی بی ویجلنس اینڈ سکیورٹی ڈپارٹمنٹ کو (بغیر کسی غیر ضروری تاخیر سے) آگاہ نہ کرنے سے متعلق ہے۔ آرٹیکل 6.2 کے تحت آرٹیکل 2.4.4 کی خلاف ورزی کا جرم ثابت ہونے پر 6 ماہ سے تاحیات پابندی تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔

عمر اکمل نے اپنا ڈیبیو نیوزی لینڈ کے خلاف کیا تھا ، جہاں انھوں نے سنچری اسکور کی ۔ اس کے بعد پاکستان کی ٹیم دورہ آسٹریلیا پر گئی ، جہاں عمر اکمل کی پہلے دو میچوں میں کارکردگی مناسب تھی ، مگر پاکستان سیریز میں شکست کھا چکا تھا۔ مگر ان کے بڑے بھائی اور وکٹ کیپر کامران اکمل کی انتہائی ناقص پرفارمنس پر انھیں آخری میچ کے لیے ڈراپ کرنے کا اعلان کیا گیا ، تو بعد میں اپنا پانچواں میچ کھیلنے والے عمر اکمل نے مبینہ طور پر بھائی کے ڈراپ ہونے پر بطور احتجاج انجری کا بہانہ کیا اور کہا کہ وہ تیسرا میچ نہیں کھیلیں گے ۔ بعد میں انھوں نے میچ تو کھیلا لیکن کرکٹ بورڈ نے ان پر جرمانہ عائد کر دیا ۔ یہ عمر اکمل کے کیرئیر میں پہلا موقع تھا ، جب انھیں ڈسپلن کے حوالے سے سزا دی گئی تھی۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Apr 27, 2020 10:38 PM IST