உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستانی صحافی کی بے وقوفی پر ہنس پڑا سری لنکائی کھلاڑی ، یہ جواب دے کر کیا بولتی بند !۔

    دوسرے دن کے کھیل کے بعد کچھ ایسا ہوا ، جس نے کھلاڑیوں اور دنیا بھر میں ان کے مداحوں کو ہنسنے پر مجبور کردیا ۔

    دوسرے دن کے کھیل کے بعد کچھ ایسا ہوا ، جس نے کھلاڑیوں اور دنیا بھر میں ان کے مداحوں کو ہنسنے پر مجبور کردیا ۔

    دوسرے دن کے کھیل کے بعد کچھ ایسا ہوا ، جس نے کھلاڑیوں اور دنیا بھر میں ان کے مداحوں کو ہنسنے پر مجبور کردیا ۔

    • Share this:
      سری لنکا اور پاکستان کے درمیان راولپنڈی میں کھیلے جارہے پہلے ٹیسٹ میچ کا دوسرا دن بارش کی وجہ سے متاثر رہا ۔ دوسرے دن صرف 18.2 اوورس کا ہی کھیل ہوسکا ۔ حالانکہ کھیل کے بعد کچھ ایسا ہوا ، جس نے کھلاڑیوں اور دنیا بھر میں ان کے مداحوں کو ہنسنے پر مجبور کردیا ۔ دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے کے بعد سری لنکائی کھلاڑی نروشن ڈکویلا پریس کانفرنس میں گئے ، جہاں ایک صحافی نے ان سے ایسا سوال پوچھ لیا کہ وہاں موجود ہر کوئی حیران رہ گیا ۔ حالانکہ نروشن ڈکویلا نے اپنے جواب سے اس کی بولتی بند کردی ۔


      دراصل پریس کانفرنس میں پاکستانی صحافی ، نروشن ڈکویلا کو پہچان نہیں سکا اور اس نے ڈکویلا کو دھننجے ڈی سلوا سمجھ کر سوال پوچھ لیا ۔ صحافی نے پوچھا کیا آپ اس اننگز میں سنچری کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔ اس پر ڈکویلا نے جواب دیا : میں ڈکویلا ہوں ، ڈی سلو نہیں ، میں پہلے ہی 33 رن بناکر آوٹ ہوچکا ہوں ، شاید دوسری اننگز میں سنچری بناوں ۔ ڈکویلا کے اس جواب کے بعد پریس کانفرنس میں موجود سبھی صحافی ہنسنے لگے اور ان کا یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ۔



      وہیں اگر دوسرے دن کے کھیل کی بات کریں تو سری لنکا نے صبح اپنی اننگز پانچ وکٹ پر 220 رن سے آگے بڑھائی اور 7.5 اوورس کا کھیل ہونے کے بعد جب اس کا اسکور پانچ وکٹ پر 225 رن تھا تو بارش ہوگئی اور دونوں ٹیموں کو جلد ہی لنچ کرنا پڑا ۔ کھیل دو گھنٹے 43 منٹ تک رکا رہا اور جب پھر دوبارہ کھیل شروع ہوا تو صرف 10 اوورس کا کھیل ہی ممکن ہوسکا ۔

      اس درمیان سری لنکا نے نروشن ڈکویلا کا وکٹ گنوایا ۔ خراب روشنی کی وجہ سے مقامی وقت کے مطابق تین بج کر 30 منٹ پر ہی دن کا کھیل ختم کردیا گیا ۔ سری لنکا نے کھیل ختم ہونے کے وقت چھ وکٹ پر 263 رن بنائے تھے ۔ اس وقت دھننجے ڈی سلوا 72 اور دلروان پریرا دو رن بناکر کھیل رہے تھے ۔
      First published: