ہوم » نیوز » اسپورٹس

وکٹ کیپر۔ بلے باز پارتھیو پٹیل نے کرکٹ کے سبھی فارمیٹ کو کہا الوداع

پارتھیو نے ٹیسٹ کرکٹ میں 31.13 کی اوسط سے 934 رن بنائے ہیں۔ وہیں، ون ڈے میں 23.7 اوسط سے 736 رن بنائے ہیں۔ اس کے علاوہ بطور وکٹ کیپر ٹیسٹ میں 62 کیچ لپکے اور 10 اسٹمپنگ کی۔

  • Share this:
وکٹ کیپر۔ بلے باز پارتھیو پٹیل نے کرکٹ کے سبھی فارمیٹ کو کہا الوداع
وکٹ کیپر۔ بلے باز پارتھیو پٹیل نے کرکٹ کے سبھی فارمیٹ کو کہا الوداع

نئی دہلی۔ ہندستان کے سابق وکٹ کیپر۔ بلےباز پارتھیو پٹیل (Parthiv Patel) نے بدھ کو اپنے 18 سال کے کرکٹ کیرئیر کو الوداع کہہ دیا ہے۔ پارتھیو نے سوشل میڈیا کے ذریعہ بتایا کہ وہ آج کرکٹ کے سبھی فارمیٹ سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ 35 سال کے پارتھیو نے ہندستان کے لئے 25 ٹیسٹ، 38 ون ڈے اور 2 ٹی 20 انٹرنیشنل میچ کھیلے ہیں۔ گھریلو کرکٹ میں گجرات کے لئے کھیلتے ہوئے پارتھیو نے 194 فرسٹ کلاس میچ کھیلے ہیں۔



پارتھیو پٹیل نے 2002 میں ہندستانی کرکٹ ٹیم میں ڈبیو کیا تھا اور اسی کے ساتھ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں ڈبیو کرنے والے سب سے کم عمر کے وکٹ کیپر بنے تھے۔ انہوں نے 17 سال اور 153 دن کی عمر میں ڈبیو کیا تھا۔ پارتھیو نے ٹیسٹ کرکٹ میں 31.13 کی اوسط سے 934 رن بنائے ہیں۔ وہیں، ون ڈے میں 23.7 اوسط سے 736 رن بنائے ہیں۔ اس کے علاوہ بطور وکٹ کیپر ٹیسٹ میں 62 کیچ لپکے اور 10 اسٹمپنگ کی۔ پارتھیو کے کیرئیر کی شروعات اچھی رہی تھی، لیکن 2004 میں دنیش کارتک اور مہیندر سنگھ دھونی کے عروج کے بعد انہوں نے اپنا مقام گنوا دیا۔


بھلے ہی انہوں نے بیچ میں واپسی کی لیکن وہ ہندستانی ٹیم میں اپنی جگہ مضبوط کرنے میں ناکام رہے اور ردھمان ساہا ٹیسٹ میں پہلی پسند بنے۔ اس کے بعد احمدآباد کے اس کرکٹر کے لئے حالات اور چیلنج بھرے ہو گئے۔ حالانکہ، پارتھیو نے کبھی ہار نہیں مانی۔ وہ انڈین پریمیئر لیگ اور گھریلو سرکٹ میں مسلسل اچھا مظاہرہ کرتے رہے۔

سبکدوشی کا اعلان کرتے ہوئے پارتھیو پٹیل نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر سابق کپتان اور بی سی سی آئی کے موجودہ صدر سوربھ گانگولی کا شکریہ ادا کیا جن کی کپتانی میں پٹیل نے ڈبیو کیا تھا۔ '' میں آج کرکٹ کے سبھی فارمیٹ کو الوداع کہہ رہا ہوں۔ بھاری دل سے اپنے 18 سال کے کرکٹ کے سفر کا اختتام کر رہا ہوں''۔ پارتھیو نے کہا'' مجھے سکون ہے کہ میں نے وقار، کھیل کے جذبے اور باہمی تال میل کے ساتھ کھیلا۔ میں نے جتنے خواب دیکھے تھے، اس سے زیادہ پورے ہوئے۔ مجھے امید ہے کہ مجھے یاد رکھا جائے گا''۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 09, 2020 12:56 PM IST