உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان دورے کو لے کر آسٹریلیا نے رکھی بڑی شرط، PCB نے کہا: یہ ممکن نہیں ، دورے پر تذبذب

    پاکستان دورے کو لے کر آسٹریلیا نے رکھی بڑی شرط، PCB نے کہا: یہ ممکن نہیں ، دورے پر تذبذب (AP)

    پاکستان دورے کو لے کر آسٹریلیا نے رکھی بڑی شرط، PCB نے کہا: یہ ممکن نہیں ، دورے پر تذبذب (AP)

    Pakistan vs Australia Series: آسٹریلیا کو مارچ ۔ اپریل میں پاکستان (Pakistan vs Australia) کا دورہ کرنا ہے۔ اس دورے میں 3 ٹیسٹ، 3 ون ڈے اور ایک ٹی ٹوینٹی میچ کھیلا جائے گا ۔ کنگارو ٹیم (Australia) 1998 کے بعد سے پاکستان نہیں گئی ہے ۔ ایسے میں یہ دورہ پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) کے لئے اہم ہے ۔

    • Share this:
      میلبورن : آسٹریلیا کو مارچ ۔ اپریل میں پاکستان (Pakistan vs Australia) کا دورہ کرنا ہے۔ اس دورے میں 3 ٹیسٹ، 3 ون ڈے اور ایک ٹی ٹوینٹی میچ کھیلا جائے گا ۔ کنگارو ٹیم (Australia) 1998 کے بعد سے پاکستان نہیں گئی ہے ۔ ایسے میں یہ دورہ پاکستان کرکٹ بورڈ  (PCB) کے لئے اہم ہے ۔ دریں اثنا خبر آرہی ہے کہ کرکٹ آسٹریلیا سیریز کے تینوں ٹیسٹ میچز ایک ہی مقام پر کرانے کے حق میں ہے ۔ حالانکہ پی سی بی اس کے لیے تیار نہیں ہے ۔ ایسے میں اس دورے کو لے کر شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں ۔ ٹیسٹ میچز 3 سے 25 مارچ تک کراچی، راولپنڈی اور لاہور میں کھیلے جانے والے ہیں ۔ ساتھ ہی محدود اووروں کی سیریز کے میچز 29 مارچ سے 5 اپریل تک لاہور میں ہونے ولے ہیں ۔

      سڈنی مارننگ ہیرالڈ کی ایک خبر کے مطابق کرکٹ آسٹریلیا چاہتا ہے کہ ٹیسٹ سیریز کے سبھی میچز ایک ہی جگہ پر ہوں ۔ سیکورٹی اور صحت کی وجوہات کی بنا پر اس نے ایسا کرنے کیلئے کہا ہے ۔ گزشتہ سال انگلینڈ اور نیوزی لینڈ دونوں نے سیکورٹی وجوہات کی بنیاد پر پاکستان کا دورہ منسوخ کر دیا تھا ۔ تاہم سیریز کے سبھی میچز بائیو ببل میں کھیلے جانے ہیں ۔ پاکستان سیریز سے قبل آسٹریلیا کو سری لنکا کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر 5 میچوں کی ٹی ٹوینٹی سیریز کھیلنی ہے ۔

      ادھر ڈان کی ایک خبر کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ نے تینوں ٹیسٹ ایک ہی مقام پر کرانے کے حوالے سے کسی قسم کی بات چیت کی تردید کی ہے ۔ بورڈ کے ایک اہلکار نے کہا کہ آسٹریلیائی بورڈ کے ساتھ ایسی کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے۔ ایک ہی مقام پر بین الاقوامی میچوں کیلئے 19 دنوں تک انتظامات نہیں کئے جاسکتے ۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ صحت اور سیکورٹی کی ٹھوس تیاریاں تینوں مقامات پر کی گئی ہیں ۔

      گزشتہ دو دہائیوں کی بات کریں تو پاکستان اور آسٹریلیا صرف متحدہ عرب امارات، آسٹریلیا اور انگلینڈ میں ہی ٹکرائے ہیں ۔ پچھلے سال دسمبر میں سی اے کے سی ای او نک ہاکلے نے کہا تھا کہ کووڈ-19 کے بعد بھی دو طرفہ سیریز شیڈول کے مطابق کھیلی جائے گی۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: