ہوم » نیوز » اسپورٹس

IND VS ENG: مین آف دی سیریز جیتنے کے بعد اشون کا بڑا بیان ، ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کو لے کر کہی یہ بات

اسٹار آف اسپنر نے کہا کہ پچھلے چار مہینے کافی اتار چڑھاو والے رہے ۔ مجھے نہیں لگا تھا کہ میں چنئی میں ہنڈریڈ بناؤں گا، میں فلو کے ساتھ گیا، کیوں کہ بلے کے ساتھ میرافارم اچھانہیں تھا۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 06, 2021 09:45 PM IST
  • Share this:
IND VS ENG:  مین آف دی سیریز جیتنے کے بعد اشون کا بڑا بیان ، ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کو لے کر کہی یہ بات
مین آف دی سیریز جیتنے کے بعد اشون کا بڑا بیان ، ورلڈ ٹیسٹ چمپئن شپ کو لے کر کہی یہ بات (PC-PTI)

انگلینڈ کے خلاف چارمیچوں کی ٹیسٹ سیریز میں تاریخی جیت کے ہیرو اور مین آف دی سیریزرہےاسٹار آف اسپنر روی چندرن اشون نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ہمارے لئے ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل کے لئے کوالیفائی کرنا بہت اہم تھا۔ اشون نے چوتھا ٹیسٹ جیتنے کے بعد یہاں کہا، ’’آسٹریلیا میں آسٹریلیا کو شکست دے کر چوٹی پر پہنچنا پھر بھی اتنا مشکل نہیں تھا، لیکن ورلڈ ٹیسٹ چیمپیئن شپ کے فائنل کی بات کریں تو اس میں ہونا کوئی مذاق نہیں ہے۔ یہ ہمارے لئے بہت معنی رکھتا ہے، کیونکہ یہ ورلڈ کپ کےجتنا ہی اچھا ہے۔ آسٹریلیا میں زیادہ ہونے کے باوجود چنئی میں پہلے ٹیسٹ میں توانائی کم تھی۔ ہر بار سیریز میں ایک چیلنجنگ وقت آیا اور ہمارے کسی نہ کسی کھلاڑی نے ایسے مشکل وقت میں اپنے دم پر ٹیم کو ابھارا، جس کی وجہ سے ہم سیریز جیتے۔


اسٹار آف اسپنر نے کہا کہ پچھلے چار مہینے کافی اتار چڑھاو والے رہے ۔ مجھے نہیں لگا تھا کہ میں چنئی میں ہنڈریڈ بناؤں گا، میں فلو کے ساتھ گیا، کیوں کہ بلے کے ساتھ میرافارم اچھانہیں تھا۔ میں نے یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ میں آسٹریلیا میں الیون میں رہوں گا، لیکن بہت سارے کھلاڑیوں خصوصا رویندر جڈیجا کے زخمی ہونے کے بعد مجھ پر اور زیادہ ذمہ داری تھی اور میں آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف اپنی کارکردگی سے مطمئن ہوں۔


انہوں نے کہا کہ مایوس اور مطمئن رہنا برا ہے، لیکن میرے لئے خوش رہنا ضروری ہے اور میں نےاپنی تکنیک پر اعتماد ظاہر کیا اور بلے بازوں کی کمزوریوں پر کام کیا اور مجھے خوشی ہے کہ یہ میرے لئے اچھا ثابت ہوا۔


انہوں نے کہا کہ میں رشبھ پنت کو کامیاب دیکھ کر بہت خوش ہوں۔ ان کا موازنہ لیجنڈ کے ساتھ نہ کرنا نامناسب ہوگا۔ جس طرح سے انہوں نے بلے بازی کی اور اس سیریز میں اپنا فارم برقرار رکھا وہ بہترین ہے۔ جڈیجہ کی جگہ ٹیم میں شامل ہونے والے اکشر بھی تعریف کے مستحق ہیں اور اپنی پہلی ٹیسٹ سیریز میں وہ جس طرح کھیلے وہ شاندارہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Mar 06, 2021 09:16 PM IST