உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شعیب اختر نے 15 سال بعد بالی ووڈ کی اس اداکارہ کے ساتھ اپنے معاشقہ پر توڑی خاموشی ، کہی یہ بات

    شعیب اختر کی فائل فوٹو

    شعیب اختر کی فائل فوٹو

    پاکستان کے سابق کرکٹر شعیب اختر نے بالی ووڈ اداکارہ سونالی بندرے کے ساتھ معاشقہ کو لے کر وضاحت پیش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سونالی کے ساتھ معاشقہ کو لے کر جو کچھ بھی کہا جارہا ہے ، وہ پوری طرح بکواس ہے ۔

    • Share this:
      پاکستان کے سابق کرکٹر شعیب اختر نے بالی ووڈ اداکارہ سونالی بندرے کے ساتھ معاشقہ کو لے کر وضاحت پیش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سونالی کے ساتھ معاشقہ کو لے کر جو کچھ بھی کہا جارہا ہے ، وہ پوری طرح بکواس ہے ۔ شعیب اختر کے مطابق وہ کبھی بھی سونالی بندرے سے نہیں ملے ہیں ۔ شعیب نے یہ باتیں اپنے یوٹیوب چینل پر کہی ہیں ۔

      دراصل  تقریبا 10-15 سال پہلے کہا جاتا تھا کہ شعیب اختر بالی ووڈ اداکارہ سونالی بندرے کے دیوانے تھے اور وہ ان کا اغوا بھی کرنا چاہتے تھے ۔ یہاں تک دعوی کیا گیا تھا کہ وہ سونالی بندرے کو اس قدر پسند کرنے لگے تھے کہ انہیں اغوا کرنے کیلئے بھی تیار تھے ۔ شعیب نے اب ان دعووں کو جھوٹا قرار دیا ہے ۔

      شعیب اختر نے کہا کہ میں آج تک سونالی سے نہیں ملا ہوں ، وہ کافی خوبصورت ہیں ، لیکن میں ان کا فین کبھی نہیں رہا ، میں نے ان کی صرف ایک دو فلمیں ہی دیکھی ہیں ، لیکن جب انہوں نے کینسر کو مات دی تو میں ان کی ہمت کو دیکھ کر ان کا فین ہوگیا ۔

      یہ بھی دعوی کیا جاتا ہے کہ شعیب اختر کے کمرے میں سونالی کے بہت سارے پوسٹرز تھے اور وہ سونالی کی تصویر اپنے پرس میں لے کر گھومتے تھے ، اب شعیب اختر نے ان چیزوں کو بکواس قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میرے کمرے میں سونالی کا کوئی پوسٹر نہیں لگا تھا ، بلکہ میرے کمرے میں صرف عمران خان کا پوسٹر ہمیشہ لگا رہتا تھا ۔

      سونالی بیندرے: فائل فوٹو
      سونالی بیندرے: فائل فوٹو


      خیال رہے کہ یکم جنوری 1975 کو مہاراشٹر میں پیدا ہوئی سونالی کیلئے فلم انڈسٹری پہلا کیریئر آپشن نہیں تھا ۔ وہ پہلے ائیر ہوسٹس بننا چاہتی تھیں ، لیکن دہرادون میں تعلیم کے دوران انہیں ماڈلنگ کا موقع ملا اور ایک ٹیلنٹ ہنٹ میں وہ اسپاٹ ہوگئیں ۔ اس کے بعد سونالی کی پہلی ہندی فلم گووندہ کے ساتھ آگ ( 1994 ) تھی ، حالانکہ فلم فلاپ رہی ، لیکن اس فلم کیلئے سونالی کو فلم فیئر بیسٹ ڈیبیو ایوارڈ ملا ۔
      First published: