ہوم » نیوز » No Category

شعیب اختر نے عصمت دری کے الزامات پر توڑی چپی، پاکستان ٹیم نے چھپائی بات

شعیب اختر (Shoaib Akhtar) پر ریپ جیساسنگین ازام لگ چکا ہے لیکن سچائی کیا ہے یہ خود اس تیز گیندباز نے بتائی۔

  • Share this:
شعیب اختر نے عصمت دری کے الزامات پر توڑی چپی، پاکستان ٹیم  نے چھپائی بات
شعیب اختر (Shoaib Akhtar) پر ریپ جیساسنگین ازام لگ چکا ہے لیکن سچائی کیا ہے یہ خود اس تیز گیندباز نے بتائی۔

پاکستان (Pakistan)  کے سابق تیز گیند باز شعیب اختر  (Shoaib Akhtar) کرکٹ (Cricket ) کے میدان کے ساتھ۔ساتھ اس کے باہر ہونے والے تنازعات کی وجہ سے بھی سرخیوں میں چھائے رہے ہیں۔ اپنے طویل کریئر میں شعیب اختر کئی تنازعہ میں پھنسے۔ ان میں سے ایک بڑا معاملہ سامنے آیا تھا سال 2005  میں جب شعیب اختر پر ریپ کی کوشش کا سنگین الزام ل گیا تھا۔ شعیب اختر نے اب ان الزاموں پر چپی توڑتے یوئے بڑی بات کہہ دی ہے۔

شعیب اختر نے کہا۔ لگاتھا ریپ کا الزام

شعیب اختر نے ہیلو ایپ کے ساتھ خاص بات چیت میں کہا، مجھ پر آسٹریلیا دورے پر پر ریپ کے الزام لگےتھے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم کا کوئی اور کھلاڑی تھا جس کی ایک لڑکی سے غلط فہمی ہوگئی تھی۔ پاکستانی ٹیم مینیجمینٹ نے اس کھلاڑی کی کرتوت چھپائی۔ میں نے پی سی بی سے کہا کہ لڑکے کے نام کا انکشاف نہ کریں۔ بس یہ لوگوں کو بتادیں کہ شعیب اختر وہاں نہیں تھا۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو سبھی مجھ پر شک کررہے تھے۔

شعیب اختر نے کہا، میں نے پی سی بی سے کہا کہ میرا کوئی لینا۔دینا نہیں ہے۔ پی سی بی نے مجھے کہا کہ تم بہت پارٹی کرتے ہو لیکن یی سب چیز کسی اور نے کی تھی۔ پی سی بی نے آج تک میرانام صاف نہیں کیا ہے۔ مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔ آج میں پہلی مرتبہ دنیا کے سامنے باتیں کہہ رہا ہوں۔ یہ حرکت ایسے کھلاڑی نے کی تھی جو کہ ٹیم کا سب سے شریف آدمی بتایا جاتا تھا۔ بتادیں سال 2005  میں شعیب اختر کو ییچ دورے سے ہی واپس پاکستان بلا لیا گیا تھا جس کی وجہ سے سبھی کا شک پاکستان کے اس تیز گیندباز پر آگیا تھا۔

شعیب اختر  (Shoaib Akhtar) نے یہ بھی کہا کہ انہیں کبھی کھیل کے میدان پر  نسلی امتیاز  کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا ایک واقعہ ہے سچن کولکاتہ میں رن آؤٹ ہوگئے تھے۔ لوگوں نے سمجھا میری غلطی ہے۔ اس وقت لگا کہ ہوسکتا ہے لیکن ہوانہیں۔ ہندستانیوں نے کبھی ہوٹنگ نہیں کی۔ نہ ہی مجھے آسٹریلیا میں نسلی امتیاز کا سامنا کرناپڑا۔ ہندستان میں ڈر تھا تھوڑا کہ پاکستان یا  کشمیر کو لیکر نعرے بازی ہو لیکن ایسا ہوا نہیں۔ 2004-05 میں مجھے ڈر تھا کہ کہیں کوئی ایسا واقعہ نہ ہوجائے۔ کبھی ایسا ہوا نہیں۔ کوئی ہندو۔مسلمان کی بات نہیں ہوئی۔

First published: Jun 09, 2020 04:37 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading