உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شعیب اختر اب نہیں دوڑ سکیں گے! خود کیا اعلان، اٹھانے جا رہے ہیں یہ بڑا قدم

    شعیب اختر (Shoaib Akhtar) کو دنیا کے سب سے تیز گیند بازوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے ۔ انہیں راولپنڈی ایکسپریس کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے 2011 میں کرکٹ کے سبھی فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیا تھا ۔

    شعیب اختر (Shoaib Akhtar) کو دنیا کے سب سے تیز گیند بازوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے ۔ انہیں راولپنڈی ایکسپریس کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے 2011 میں کرکٹ کے سبھی فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیا تھا ۔

    شعیب اختر (Shoaib Akhtar) کو دنیا کے سب سے تیز گیند بازوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے ۔ انہیں راولپنڈی ایکسپریس کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے 2011 میں کرکٹ کے سبھی فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیا تھا ۔

    • Share this:
      لاہور : شعیب اختر نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے دوڑنے کے دن اب جلد ختم ہونے والے ہیں ، کیونکہ انہیں اپنے گھٹنے کا آپریشن کروا کر اس کو بدلوانا ہوگا ۔ اختر کا کریئر ہمیشہ چوٹوں کی وجہ سے متاثر رہا۔ پاکستان کے اس 46 سالہ تیز گیند باز نے دو سال پہلے میلبورن میں آپریشن کروایا تھا ۔ انہوں نے ٹویٹر پر اپنی تصویر جاری کرتے ہوئے لکھا : میرے دوڑنے کے دن اب لد چکے ہیں ، کیونکہ میں اپنا گھٹنا بدلوانے کیلئے جلد ہی میلبورن آسٹریلیا روانہ ہورہا ہوں ۔

      شعیب اختر کو دنیا کے سب سے تیز گیند بازوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے ۔ انہیں راولپنڈی ایکسپریس کہا جاتا ہے ۔ انہوں نے 2011 میں کرکٹ کے سبھی فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ لے لیا تھا ۔ انہوں نے پاکستان کیلئے 46 ٹیسٹ اور 163 ون ڈے میچ کھیلے ، جس میں انہوں نے بالترتیب 178 اور 247 وکٹ لئے ۔ انہوں نے 15 ٹی ٹوینٹی انٹرنیشنل میچوں میں 19 وکٹ بھی حاصل کئے ۔ اختر نے اپنا آخری بین الاقوامی میچ ون ڈے کے طور پر 2011 میں نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلا تھا، جس میں انہوں نے ایک وکٹ حاصل کیا تھا ۔ اختر کے نام 161.3 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سب سے تیز گیند کرنے کا ریکارڈ ہے ۔



      ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے دوران شعیب اختر بی سی سی آئی صدر سوربھ گنگولی کے ساتھ نظر آئے تھے ۔ دونوں نے ساتھ میں کرکٹ کھیلا ہے ۔ اختر نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں بھی اچھی کارکردگی کی ہے ۔ انہوں نے 133 میچ میں 26 کی اوسط سے 467 وکٹ جھٹکے ۔ 28 مرتبہ پانچ اور دو مرتبہ 10 وکٹ لینے کا کارنامہ کیا ۔ 11 رن دے کر چھ وکٹ ان کی بیسٹ کارکردگی رہی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: