بابر اعظم اور محمد رضوان کو 'دی ہنڈریڈ' میں نہیں ملا کوئی خریدار، شاہین آفریدی کو ملی اتنی موٹی رقم

بابر اعظم اور محمد رضوان کو 'دی ہنڈریڈ' میں نہیں ملا کوئی خریدار، شاہین آفریدی کو ملی اتنی موٹی رقم  (Twitter/PCB)

بابر اعظم اور محمد رضوان کو 'دی ہنڈریڈ' میں نہیں ملا کوئی خریدار، شاہین آفریدی کو ملی اتنی موٹی رقم (Twitter/PCB)

The Hundred Draft: پاکستان کے اسٹار بلے باز بابر اعظم اور محمد رضوان کے چاہنے والے فینس کو بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ حالیہ دنوں میں ان دونوں کھلاڑیوں نے اپنے شاندار کھیل سے سبھی کو متاثر کیا ہے ۔ اس کے باوجود انگلینڈ کی باوقار لیگ دی ہنڈریڈ میں انہیں کوئی خریدار نہیں ملا ہے ۔

  • News18 Urdu
  • Last Updated :
  • Pakistan
  • Share this:
    نئی دہلی : پاکستان کے اسٹار بلے باز بابر اعظم اور محمد رضوان کے چاہنے والے فینس کو بڑا جھٹکا لگا ہے ۔ حالیہ دنوں میں ان دونوں کھلاڑیوں نے اپنے شاندار کھیل سے سبھی کو متاثر کیا ہے ۔ اس کے باوجود انگلینڈ کی باوقار لیگ دی ہنڈریڈ میں انہیں کوئی خریدار نہیں ملا ہے ۔ یہی نہیں ویسٹ انڈیز کے طوفانی آل راونڈر آندرے رسیل ، کیرون پولارڈ اور کیوی اسٹار تیز گیند باز ٹرینٹ بولڈ جیسے لیجنڈ کھلاڑی بھی اس مرتبہ ڈرافٹ میں جگہ نہیں بنا پائے ہیں ۔

    پاکستانی کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان کو جہاں اس مرتبہ کوئی خریدار نہیں ملا تو وہیں پاکستان کی تیز گیند باز شاہین شاہ آفریدی اور حارث روف اپنی جگہ بچانے میں کامیاب رہے ہیں ۔ آفریدی کو ویلش فائر نے ایک لاکھ پاونڈ یعنی تقریبا ایک کروڑ کی رقم کے ساتھ اپنے ساتھ جوڑا ہے ۔ پچھلے سال ویلش کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل میں سب سے نیچے رہی تھی ۔

    گزشتہ 23 مارچ کو دی ہنڈریڈ کیلئے کھلاڑیوں کو ڈرافٹ کیا گیا ۔ اس کے ساتھ ہی آٹھوں ٹیموں نے اگلے سیزن کیلئے اپنی اپنی ٹیمیں پوری کرلی ہیں ۔ امید ظاہر کی جارہی ہے کہ دی ہنڈریڈ کے تیسرے ایڈیشن کا آغاز ایشیز کے بعد ہوگا ۔

    یہ بھی پڑھئے: پہلی مرتبہ دو ممالک میں کھیلا جائے گا ایشیا کپ، ہند۔ پاک کے درمیان تین میچز متوقع


    یہ بھی پڑھئے: پاکستانی اسٹار کو زہر دیکر مارنے کی کوشش، تو شاہد آفریدی نے پانی کی طرح بہائے لاکھوں روپے



    سبھی ٹیموں کے پاس فی الحال چودہ چودہ کھلاڑی ہیں ۔ تاہم ٹیمیں وائلڈ کارڈ کے ذریعہ مزید دو دو گھریلو کھلاڑیوں کو اپنے خیمے میں شامل کرسکتی ہیں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: