உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    'مینیجمنٹ مجھے نظر انداز کر رہا ہے'، پاکستان کے اسٹار کرکٹر نے رمیز راجہ سے لگائی مدد کی گہار

    اے آر وائی نیوز سے گفتگو کے دوران اکمل نے کہا، 'رمیز بھائی! میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں. میں کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں اور میں آپ سے کچھ چیزوں پر چرچا کرنا چاہتا ہوں۔ انتظامیہ مجھے بغیر کسی وجہ کے نظر انداز کر رہی ہے۔

    اے آر وائی نیوز سے گفتگو کے دوران اکمل نے کہا، 'رمیز بھائی! میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں. میں کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں اور میں آپ سے کچھ چیزوں پر چرچا کرنا چاہتا ہوں۔ انتظامیہ مجھے بغیر کسی وجہ کے نظر انداز کر رہی ہے۔

    اے آر وائی نیوز سے گفتگو کے دوران اکمل نے کہا، 'رمیز بھائی! میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں. میں کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں اور میں آپ سے کچھ چیزوں پر چرچا کرنا چاہتا ہوں۔ انتظامیہ مجھے بغیر کسی وجہ کے نظر انداز کر رہی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi | Pakistan
    • Share this:
      نئی دہلی: پاکستان کے 32 سالہ کرکٹر عمر اکمل نے چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ سے ملاقات کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے حال ہی میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہا کہ وہ کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں لیکن ٹیم انتظامیہ انہیں بغیر کسی وجہ کے نظر انداز کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چیئرمین پی سی بی سے کچھ چیزوں پر بات کرنا چاہتے ہیں۔

      واضح رہے کہ اکمل پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2020 میں کرکٹ کی تمام سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن بعد میں انہیں سال 2021 میں مسابقتی کرکٹ کھیلنے کی پابندی میں کچھ نرمی ملی اور ان کی سزا میں کمی کر دی گئی۔

      اے آر وائی نیوز سے گفتگو کے دوران اکمل نے کہا، 'رمیز بھائی! میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں. میں کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں اور میں آپ سے کچھ چیزوں پر چرچا کرنا چاہتا ہوں۔ انتظامیہ مجھے بغیر کسی وجہ کے نظر انداز کر رہی ہے۔

      وراٹ کوہلی ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ پاکستان شاپنگ کرنے پہنچے، جانئے وائرل ویڈیو کی سچائی

      ایلن مسک نے ٹویٹر پر کرائی ڈونالڈ ٹرمپ کی واپسی، سابق صدر بولے: اب میرا موڈ

      آپ کو بتاتے چلیں کہ عمر اکمل پر پاکستان سپر لیگ میں اسپاٹ فکسنگ کے لیے رابطہ کیے جانے کی معلومات نہ دینے کی وجہ سے پابندی لگائی گئی تھی لیکن بعد میں انہوں نے اپنا جرم قبول کر لیا اور اس پر افسوس کا اظہار بھی کیا۔ کھلاڑی کا یہ نرم رویہ دیکھ کر بورڈ نے اسے کلب کرکٹ کھیلنے کی اجازت دے دی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: