உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وراٹ کوہلی نے T20 اور ODI کے بعد چھوڑی Test کپتانی ، سوشل میڈیا پر لکھی جذباتی پوسٹ

    Breaking : وراٹ کوہلی نے چھوڑی ٹیسٹ کپتانی ، سوشل میڈیا پر لکھی جذباتی پوسٹ ۔ (AP)

    Breaking : وراٹ کوہلی نے چھوڑی ٹیسٹ کپتانی ، سوشل میڈیا پر لکھی جذباتی پوسٹ ۔ (AP)

    Virat Kohli Quits Test Captaincy: دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک وراٹ کوہلی (Virat Kohli) نے ہفتہ کو ٹیسٹ فارمیٹ میں بھی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ اس کا اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ لکھ کر کیا ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : دنیا کے بہترین بلے بازوں میں سے ایک وراٹ کوہلی (Virat Kohli)  نے ہفتہ کو ٹیسٹ فارمیٹ میں بھی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ اس کا اعلان انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ لکھ کر کیا ۔ انہوں نے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ سے قبل ہی کھیل کے سب سے چھوٹے فارمیٹ کی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا جب کہ ون ڈے ٹیم کی کپتانی بھی ان سے چھین لی گئی تھی ۔ اب وہ کرکٹ کے سب سے بڑے فارمیٹ میں بھی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کیا ہے ۔

      33 سالہ وراٹ کوہلی نے 2014 میں ٹیسٹ فارمیٹ میں کپتانی سنبھالی تھی۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں اب تک 99 میچ کھیلے ہیں اور 7962 رنز بنا ئے ہیں۔ ان میں سے 68 میچوں میں وراٹ نے ہندوستانی ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کی اور اس دوران مجموعی طور پر 5864 رنز بنائے ۔ ساتھ ہی انہوں نے کپتانی نہ کرتے ہوئے 31 ٹیسٹ میچ کھیلے اور 2098 رنز بنائے ۔


      وراٹ کوہلی کی کپتانی میں ہندوستان کو جنوبی افریقہ کے خلاف حالیہ ٹیسٹ سیریز میں 1-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔ ٹیسٹ سیریز کے اختتام کے دو دن بعد انہوں نے اس فارمیٹ میں کپتانی نہیں کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اب وراٹ کسی بھی فارمیٹ میں ٹیم انڈیا کی کپتانی نہیں کریں گے ۔ 68 ٹیسٹ میں کپتانی کرنے والے وراٹ اس فارمیٹ میں ہندوستان کے سب سے کامیاب کپتان ہیں ۔ ان کی کپتانی میں ہندوستان نے 40 ٹیسٹ میچ جیتے ہیں ۔

      وراٹ نے اپنی پوسٹ میں لکھا : ٹیم کو صحیح سمت میں لے جانے کیلئے لگاتار ہر روز کوشش کرتے ہوئے 7 سال ہوگئے ۔ میں نے اس کام کو پوری محنت سے کیا ہے تاکہ کچھ بھی نہ چھوٹ پائے ۔ ہر کسی چیز کا ایک اختتام ہوتا ہے اور اب میرے لئے ٹیسٹ کپتانی کا ہے ۔ اب اس سفر میں بہت سے پڑاو آئے ، لیکن کبھی یقین اور کوششوں میں کمی نہیں کی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: