உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وراٹ کوہلی کا فون کال اور ایک جھٹکے میں منظور ہوا استعفی! پڑھئے پوری Inside Story

    وراٹ کوہلی کا فون کال اور ایک جھٹکے میں منظور ہوا استعفی! پڑھئے پوری Inside Story ۔ (instagram)

    وراٹ کوہلی کا فون کال اور ایک جھٹکے میں منظور ہوا استعفی! پڑھئے پوری Inside Story ۔ (instagram)

    Virat Kohli Quits captaincy : وراٹ کوہلی (Virat Kohli) نے پہلے ٹی ٹوینٹی اور اب ٹیسٹ کی کپتانی اچانک چھوڑ کر سبھی کو حیران کر دیا۔ تاہم جب سے کوہلی نے ٹی ٹوینٹی کی کپتانی سے استعفیٰ دیا تھا اور ون ڈے کی کپتانی چھین لی گئی تھی ، تبھی یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ جلد ہی یا تو ٹیسٹ کپتانی چھوڑ دیں گے یا پھر انہیں ہٹا دیا جائے گا ۔ لیکن یہ اتنا جلد ہو جائے گا ، شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : وراٹ کوہلی (Virat Kohli) نے پہلے ٹی ٹوینٹی اور اب ٹیسٹ کی کپتانی اچانک چھوڑ کر سبھی کو حیران کر دیا۔ تاہم جب سے کوہلی نے ٹی ٹوینٹی کی کپتانی سے استعفیٰ دیا تھا اور ون ڈے کی کپتانی چھین لی گئی تھی ، تبھی یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ وہ جلد ہی یا تو ٹیسٹ کپتانی چھوڑ دیں گے یا پھر انہیں ہٹا دیا جائے گا ۔ لیکن یہ اتنا جلد ہو جائے گا ، شاید ہی کسی نے سوچا ہوگا ۔ خیر ، اب وراٹ کوہلی ٹیسٹ کے کپتان نہیں ہیں ، لیکن اس فارمیٹ میں بطور کپتان وہ مہندر سنگھ دھونی اور سوربھ گنگولی پر بھاری ہیں ۔ کیونکہ ان کی قیادت میں ہندوستان نے سب سے زیادہ 40 ٹیسٹ جیتے ہیں اور ملک میں ایک بھی سیریز نہیں گنوائی ہے ۔

      اتنی کامیابیوں کے باوجود اگر انہوں اچانک کپتانی چھوڑی ، تو اس کے پیچھے ٹھوس وجوہات ضرور ہوں گی ۔ پھر خواہ وہ بی سی سی آئی کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ان کی پٹری نہ بیٹھ رہی ہو ، یا روہت شرما کو محدود اوورز کی کرکٹ کا کپتان بنانے سے انہیں اپنا قد کمتر محسوس ہورہا ہو ، اس پر بات پھر کبھی ، ابھی ان کے استعفی کی اصل کہانی آپ کو بتاتے ہیں ۔

      وراٹ کوہلی کے ٹیسٹ کپتانی چھوڑنے کے بعد کئی چونکا دینے والی خبریں سامنے آ رہی ہیں ۔ میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ کوہلی کو ایک مرتبہ بھی بی سی سی آئی کی جانب سے کپتانی چھوڑنے کے فیصلے پر غور کرنے کیلئے نہیں کہا گیا ۔ جیسے ہی وراٹ نے بی سی سی آئی کے صدر سوربھ گنگولی کو کیپ ٹاؤن ٹیسٹ ہارنے کے بعد اپنے فیصلہ سے آگاہ کیا ، انہوں نے فوراً اس کو قبول کر لیا۔ یعنی بی سی سی آئی اس کیلئے پہلے سے ہی تیار تھا ۔

      انگریزی اخبار 'دی ٹیلی گراف' کی رپورٹ کے مطابق وراٹ کوہلی نے ہفتہ کی دوپہر ایک بجے یعنی اپنی ٹیسٹ کپتانی چھوڑنے کے ٹویٹ سے چند گھنٹے قبل بی سی سی آئی کے صدر سوربھ گنگولی اور سکریٹری جے شاہ کو ٹیسٹ کپتانی چھوڑنے کے بارے میں بتایا ۔ گنگولی اور شاہ کو ٹیسٹ کپتانی چھوڑنے کے ان کے اچانک فیصلہ سے قدرے حیرانی ہوئی ، لیکن اس مرتبہ ٹی ٹوینٹی کی طرح بورڈ نے ان سے اس فیصلہ پر نظر ثانی کرنے کی گزارش نہیں کی ۔

      رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ کوہلی نے پہلے ہی کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تھا ، اس لئے ان کو منانے کی کوشش کا کوئی مطلب نہیں تھا ۔ بی سی سی آئی کے اعلیٰ عہدیداروں نے کوہلی کے ٹی ٹوینٹی کپتانی چھوڑنے کے بعد ہوئے تنازع سے سبق لیتے ہوئے اس مرتبہ خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا ۔

      وراٹ نے کھلاڑیوں کو کپتانی چھوڑنے کی دی تھی جانکاری

      ذرائع کے مطابق وراٹ کوہلی جمعہ کی شام کو کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے اختتام کے بعد ہوٹل پہنچے اور کوچ راہل دراوڑ اور ساتھی کھلاڑیوں کو مطلع کیا کہ وہ ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی چھوڑنے جا رہے ہیں ۔ ایسا مانا جارہا ہے کہ انہوں نے جنوبی افریقہ کے دورے پر جانے سے پہلے ہی سوچ لیا تھا کہ بطور کپتان یہ ان کی آخری ٹیسٹ سیریز ہوگی ۔ وہ جیت کے ساتھ بطور ٹیسٹ کپتان اپنے سفر کا اختتام کرنا چاہتے تھے ، لیکن ایسا نہیں ہو سکا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: