ہوم » نیوز » اسپورٹس

وراٹ کوہلی نے کہا : اسٹیڈیم میں دھونی – دھونی کے نعرے نہ لگائیں فینس ، جانیں کیوں کہی یہ بات

ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے کرکٹ شائقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اسٹینڈ میں دھونی-دھونی کی آوازیں لگا کر نوجوان وکٹ کیپر بلے باز ریشبھ پنت پر دباؤ نہ بنائیں ۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 05, 2019 10:37 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
وراٹ کوہلی نے کہا : اسٹیڈیم میں دھونی – دھونی کے نعرے نہ لگائیں فینس ، جانیں کیوں کہی یہ بات
وراٹ کوہلی ۔ فوٹو : اے پی / نیوز 18 ہندی ڈاٹ کام ۔

ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی نے کرکٹ شائقین سے اپیل کی ہے کہ وہ اسٹینڈ میں دھونی-دھونی کی آوازیں لگا کر نوجوان وکٹ کیپر بلے باز ریشبھ پنت پر دباؤ نہ بنائیں ۔ وراٹ نے ویسٹ انڈیز کے خلاف جمعہ کو ہونے والے پہلے ٹی -20 مقابلے کے موقع پر جمعرات پریس کانفرنس میں یہ اپیل کی ۔ وراٹ نے اس طرح پنت کو اپنی حمایت دی ، جو گزشتہ چند ماہ میں اسٹمپس کے آگے بلے سے اور اسٹمپس کے پیچھے دستانے سے بھاری دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔


خیال رہے کہ اس سے پہلے محدود اووروں کے نائب کپتان روہت شرما نے بھی پنت کی حمایت کی تھی ۔ ہندوستانی کپتان نے شائقین سے اپیل کی کہ وہ اسٹینڈ میں دھونی - دھونی کی آوازیں نہ لگائیں ، کیونکہ اس پنت پر بھاری دباؤ بن جاتا ہے ۔ دھونی جولائی سے انگلینڈ میں ہوئے ون ڈے ورلڈ کپ کے بعد سے ہندستانی ٹیم کے لئے نہیں کھیلے ہیں ، لیکن انہوں نے ابھی تک اپنے ریٹائرمنٹ کا اعلان بھی نہیں کیا ہے ، جس کی وجہ سے یہ قیاس آرائی ہے کہ وہ آسٹریلیا میں اگلے سال ہونے والے ٹی - 20 ورلڈ کپ میں جگہ بنا سکتے ہیں۔


وراٹ کوہلی ۔ فوٹو : اے پی / نیوز 18 ہندی ڈاٹ کام ۔
وراٹ کوہلی ۔ فوٹو : اے پی / نیوز 18 ہندی ڈاٹ کام ۔


اس سال آسٹریلیا کے خلاف گھریلو ون ڈے سیریز کے فیروز شاہ کوٹلہ میدان میں کھیلے گئے فیصلہ کن مقابلوں میں شائقین اس وقت دھونی - دھونی کی آوازیں لگانے لگے ، جب پنت کی طرف سے لیا گیا ڈی آرایس ناکام رہا تھا ۔ بنگلہ دیش کے خلاف حالیہ سیریز میں راجکوٹ میں کھیلے گئے میچ میں جب پنت نے لٹن داس کی اسٹمپنگ کا موقع گنوا دیا ، تب بھی شائقین دھونی-دھونی چلانے لگے۔

سینئر سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین ایم ایس كے پرساد بھی کہہ چکے ہیں کہ اب دھونی سے آگے بڑھنے کا وقت ہے اور ٹیم مینجمنٹ پنت پر اپنا سارا دھیان مرکوز کر رہا ہے۔ وراٹ نے بھی کہا کہ ہمیں پنت کی صلاحیتوں میں یقین ہے ۔ یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی کھلاڑی پر دباؤ نہ بنائیں اور اسے خود کے ثابت کرنے کا موقع دیں ۔ اگر وہ کوئی موقع چوکتا ہے ، تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگ دھونی - دھونی چلانے لگے ۔ یہ قابل احترام نہیں ہے۔ کپتان نے کہاکہ کوئی بھی کھلاڑی ایسا ہوتا دیکھنا نہیں چاہتا ہے۔ اگر آپ اپنے ملک میں کھیل رہے ہیں تو آپ حمایت حاصل کرنا چاہیں گے نہ کہ لوگ یہ ڈھونڈیں کہ اس کھلاڑی کی کیا غلطی ہے۔ کوئی بھی کھلاڑی ایسی صورت میں رہنا نہیں چاہتا ہے۔

rishabh

بنگلہ دیش کے خلاف راجکوٹ ٹی -20 کے بعد روہت نے پنت کا دفاع کیا تھا اور کہا تھا کہ پنت پر دباؤ نہیں بنایا جانا چاہئے۔ وراٹ نے بھی کہا کہ روہت نے صحیح کہا تھا کہ پنت کو اپنا گیمز کھیلنے دینا چاہئے۔ وہ ایک میچ فاتح کھلاڑی ہے اور وہ اس بات کو ثابت کر دے گا۔ پنت کو ہندستان کی ٹیسٹ ٹیم سے ریلیز کر کے سید مشتاق علی ٹی -20 ٹرافی میں کھیلنے کے لئے کہا گیا تھا ، جہاں انہوں نے اپنی گھریلو ٹیم دہلی کے لئے سپرليگ میچوں میں اوپننگ کی ، لیکن فلاپ رہے ۔ پنت کو ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی -20 سیریز کے لئے ٹیم میں برقرار رکھا گیا ، لیکن دوسرے نوجوان وکٹ کیپر بلے باز سنجو سیمسن کو باہر کر دیا گیا۔ اگرچہ اوپنر شکھر دھون کے زخمی ہونے کے بعد سنجو کو ٹیم میں لیا گیا ہے۔

یہ پوچھنے پر کہ شیکھر کی غیر موجودگی میں کیا پنت کو اوپننگ میں اتارا جا سکتا ہے، وراٹ نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ ہندوستان کے پاس ٹاپ آرڈر کے چار اچھے بلے باز ہیں اور لوکیش راہل روہت کے ساتھ اوپننگ کی ذمہ داری سنبھالیں گے ۔ آپ کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ صحیح ترتیب کے لئے صحیح کھلاڑی موجود رہے۔
First published: Dec 05, 2019 10:37 PM IST