உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    وراٹ کوہلی نے تین دن میں دوسری ٹیم کی کپتانی چھوڑی، اب IPL 2022 میں RCB کی بھی کمان نہیں سنبھالیں گے

    وراٹ کوہلی نے تین دن میں دوسری ٹیم کی کپتانی چھوڑی، اب IPL 2022 میں RCB کی بھی کمان نہیں سنبھالیں گے (Video Grab/Instagram)

    وراٹ کوہلی نے تین دن میں دوسری ٹیم کی کپتانی چھوڑی، اب IPL 2022 میں RCB کی بھی کمان نہیں سنبھالیں گے (Video Grab/Instagram)

    وراٹ کوہلی نے آئی پی ایل 2021 کے بعد رائل چیلنجرس بنگلورو کی بھی کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ فرنچائزی نے اتوار کو اس کی تصدیق کی ۔ اس سے پہلے انہوں نے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے بعد ہندوستان کی ٹی ٹوینٹی ٹیم کی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : وراٹ کوہلی نے آئی پی ایل 2021 کے بعد رائل چیلنجرس بنگلورو کی بھی کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ فرنچائزی نے اتوار کو اس کی تصدیق کی ۔ اس سے پہلے انہوں نے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے بعد ہندوستان کی ٹیم کی کپتانی چھوڑنے کا اعلان کیا تھا ۔ آئی پی ایل کے اس سیزن میں آر سی بی کی کارکردگی اب تک اچھی رہی ہے ۔ ٹیم نے سات میں سے پانچ میچوں میں جیت حاصل کی ہے اور وہ پوائنٹس ٹیبل میں تیسرے مقام پر ہے ۔

      آر سی بی نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ سے ایک ویڈیو شیئر کرکے اس کی جانکاری دی ۔ انہوں نے کہا کہ آج شام میں نے یہ بتانے کیلئے اسکواڈ سے بات کی تھی کہ یہ بطور کپتان میرا آخری آئی پی ایل ہوگا ۔ میں نے ٹیم مینجمنٹ کو بھی اس کی جانکاری دی ہے ۔ یہ بات میرے ذہن میں کافی وقت سے چل رہی تھی ۔ حال ہی میں میں نے ٹی ٹوینٹی کی کپتانی چھوڑی تھی تاکہ ورک لوڈ کو مینج کرسکوں ۔


      انہوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ سالوں سے میں کافی کرکٹ کھیل رہا تھا ۔ میں خود کو تروتازہ کرنا چاہتا تھا ، اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ۔ میں نے آر سی بی کی انتظامیہ کو یہ بات بتادی ہے کہ میں ٹیم کے ساتھ وابستہ رہوں گا ۔ میرا ٹیم کے ساتھ نو سالوں کا یادگار سفر رہا ہے ۔ میں اس فرنچائزی کیلئے آگے کھیلتا رہوں گا ۔ سبھی فینس کا شکریہ ادا کروں گا ۔ یہ چھوٹا سا پڑاو ہے ، یہ سفر آگے بھی جاری رہے گا ۔

      وراٹ کوہلی لیگ کے پہلے سیزن یعنی 2008 سے ہی آر سی بی کے ساتھ ہیں اور 2013 میں ٹیم کی کپتانی سنبھالی تھی ۔ ان کی قیادت میں آر سی بی آج تک آئی پی ایل خطاب  نہیں جیت پائی ہے ۔ انہوں نے ابھی تک 199 مقابلے کھیلے ہیں اور 37.97 کی اوسط سے 6076 رن بنائے ہیں ۔ ان کے نام پانچ سنچریاں اور 40 نصف سنچریاں ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: