உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Virat Kohli quits: وراٹ کوہلی ٹی 20 کپتانی چھوڑنے پر کیوں ہوئے مجبور؟ جانئے وہ پانچ وجوہات

    وراٹ کوہلی ٹی 20 کپتانی چھوڑنے پر کیوں ہوئے مجبور؟ جانئے وہ پانچ وجوہات

    وراٹ کوہلی ٹی 20 کپتانی چھوڑنے پر کیوں ہوئے مجبور؟ جانئے وہ پانچ وجوہات

    Virat Kohli quits Captaincy: وراٹ کوہلی نے ہندوستانی ٹی ٹوینٹی ٹیم کی کپتانی چھوڑ دی ہے ۔ بالکل اسی انداز میں جس کیلئے انہیں جانا جاتا ہے ۔ وراٹ کوہلی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر کپتانی چھوڑنے والی طویل پوسٹ لکھی ۔ اس کے ساتھ ہی میڈیا پر گزشتہ دنوں چلنے والی قیاس آرائی صحیح ثابت ہوگئی ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : وراٹ کوہلی نے ہندوستانی ٹی ٹوینٹی ٹیم کی کپتانی چھوڑ دی ہے ۔ بالکل اسی انداز میں جس کیلئے انہیں جانا جاتا ہے ۔ بالکل اسی انداز میں جو بی سی سی آئی کی شناخت ہے ۔ وراٹ کوہلی نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر کپتانی چھوڑنے والی طویل پوسٹ لکھی ۔ اس کے ساتھ ہی میڈیا پر گزشتہ دنوں چلنے والی قیاس آرائی صحیح ثابت ہوگئی ۔ خاص کر مہندر سنگھ دھونی کی بطور میٹنر انٹری کے بعد یہ قیاس آرائی کی جارہی تھی ۔ آئیے جانتے ہیں کوہلی کے کپتانی چھوڑنے کی پانچ اہم وجوہات ۔

      ٹیم انڈیا پر گرفت کمزور ہوئی

      وراٹ کوہلی 2019 تک ہر فارمیٹ میں نمبر ون ہندوستانی بلے باز رہے ۔ 2015 سے 2019 کے درمیان تو وہ دنیا کے سب سے بااثر بلے باز تھے ۔ سال 2020 سے ان کے فارم میں گراوٹ آئی ۔ خاص بات یہ ہے کہ اس کا اثر ٹیم کی کارکردگی پر نہیں پڑا ۔ ہندوستانی ٹیم وراٹ کی کمزور کارکردگی یا ان کی ٹیم میں نہ رہنے کے باوجود جیت حاصل کرتی رہی ۔ اس سے ٹیم انڈیا کا وراٹ پر انحصار کم ہونے لگا ۔ آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز کی جیت اس سفر میں میل کا پتھر ثابت ہوئی ۔ آسٹریلیا میں جیت کے بعد ہی بی سی سی آئی انتظامیہ اور سلیکٹرس کو یہ بھروسہ ہوا کہ ٹیم انڈیا وراٹ کے بغیر بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرسکتی ہے ۔

      روہت شرما نے دیا سخت چیلنج

      ایک جانب وراٹ کوہلی پر ٹیم انڈیا کا انحصار کم ہورہا ہے تو دوسری طرف روہت شرما ون ڈے اور ٹی ٹوینٹی فارمیٹ کے بعد ٹیسٹ ٹیم میں بھی چھا گئے ہیں ۔ حال ہی میں انگلینڈ دورے پر وہ ہندوستان کے بیسٹ بلے باز ثابت ہوئے ۔ روہت کو ون ڈے اور ٹی ٹوینٹی کا کپتان بنائے جانے کا مطالبہ ورلڈ کپ 2019 کے بعد سے ہی کیا جاتا رہا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ان دنوں روہت ٹیسٹ ٹیم یا پلیئنگ الیون میں نہیں ہوتے تھے ، جس کی وجہ سے یہ مطالبہ کمزور پڑجاتا تھا ۔ اب یہ اتفاق ہے کہ وراٹ جب کمزور پڑتے گئے تب روہت نے ان کی جگہ لینے میں کوتاہی نہیں برتی ۔ آئی پی ایل میں روہت نے اپنی ٹیم کو بار بار چیمپئن بناکر بھی بتایا کہ وہ کپتانی کا ہنر جانتے ہیں ۔

      وراٹ کی کپتانی کا کوئی مرید نہیں

      یہ بھی ایک بات ہے جو دبی زبان میں تو سب کہتے ہیں ، لیکن کھل کر کوئی نہیں کہتا ۔ جب کھلاڑیوں کی تنقید پر کمنٹیٹر اپنی نوکری گنوا دیتے ہیں تو کپتان کے خلاف بولنے کا خطرہ کوئی کیوں لے ۔ لیکن یہ 16 آنہ سچ ہے کہ وراٹ اپنی کپتانی کیلئے کبھی پسند نہیں کئے گئے ۔ ہندوستان نے ان کی کپتانی میں سب سے زیادہ ٹیسٹ میچ جیتے ہیں ۔ ون ڈے اور ٹی ٹوینٹی میچ میں ان کی کپتانی ریکارڈ بھی شاندار ہے ، لیکن سابق کرکٹرس ، تجزیہ کار سے لے کر فینس تک اس کی وجہ ٹیم کی مضبوطی اور بینچ اسٹرینتھ کو بناتے ہیں نہ کہ وراٹ کی کپتانی کو ۔

      وراٹ کوہلی کے اس فیصلہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ شاید ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی مستقبل میں بھی کرتے رہنا چاہتے ہیں ۔
      وراٹ کوہلی کے اس فیصلہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ شاید ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی مستقبل میں بھی کرتے رہنا چاہتے ہیں ۔


      آئی سی سی ٹورنامنٹس میں خراب ریکارڈ

      وراٹ کوہلی تقریبا سات سال سے ہندوستان کے کپتان ہیں ، لیکن وہ ٹیم کو آئی سی سی کا ایک بھی خطاب نہیں دلاسکے ہیں ۔ ایک کپتان کے طور پر یہ بڑی ناکامی ہے ۔ ہندوستانی ٹیم ان کی کپتانی میں آئی سی سی ورلڈ کپ کا سیمی فائنل ( 2019) اور چیمپئنز ٹرافی (2017) کا فائنل ہار چکی ہے ۔ 2016 میں ہندوستان میں ہوئے ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ کے دوران بھی وراٹ ہی کپتان تھے ۔ تبھی ہندوستانی سیمی فائنل سے آگے نہیں بڑھ سکا تھا ۔

      دباو کم کرنا چاہتے ہیں وراٹ کوہلی

      وراٹ کوہلی کے اس فیصلہ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ شاید ون ڈے اور ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی مستقبل میں بھی کرتے رہنا چاہتے ہیں ۔ انہوں نے ٹی ٹوینٹی ٹیم کی کپتانی چھوڑ کر یہ اشارہ دیدیا ہے کہ وہ کپتانی کے تئیں لالچی نہیں ہیں ۔ اب اگر ہندوستان اکتوبر میں ٹی ٹوینٹی ورلڈ کپ جیتا تو وراٹ کی کپتانی میں چار چاند لگ جائیں گے ۔ اگر ہندوستان ہار گیا تو وراٹ کافی حد تک تنقید سے بچ جائیں گے ۔ وراٹ کی کوشش ہے کہ وہ ون ڈے اور ٹیسٹ فارمیٹ میں کم سے کم ورلڈ کپ 2013 تک ہندوستان کے کپتان بنے رہیں۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: