ہوم » نیوز » اسپورٹس

ریٹائرمنٹ کے 16 سال بعد پاکستانی لیجنڈ کرکٹر ثقلین مشتاق نے سچن تیندولکر کو لے کر کیا چونکانے والا انکشاف

ثقلین مشتاق نے کہا کہ شاید اس دن خدا ان پر مہربان تھے ، کیونکہ انہوں نے اس ٹیسٹ میں ماسٹر بلاسٹر کی وکٹ حاصل کرنے کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا ۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 15, 2020 10:38 PM IST
  • Share this:
ریٹائرمنٹ کے 16 سال بعد پاکستانی لیجنڈ کرکٹر ثقلین مشتاق نے سچن تیندولکر کو لے کر کیا چونکانے والا انکشاف
ریٹائرمنٹ کے 16 سال بعد پاکستانی لیجنڈ کرکٹر ثقلین مشتاق نے سچن تیندولکر کو لے کر کیا چونکانے والا انکشاف

پاکستان کے سابق اسپنر ثقلین مشتاق نے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی اسپن بولنگ کے خلاف متعدد بلے بازوں کو تگنی کا ناچ پر مجبور کیا ۔ انہوں نے اپنی قومی ٹیم کے لئے 400 سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں ۔ لیکن وہ ان وکٹوں میں سچن تندولکر کی وکٹ کو سب سے قیمتی قرار دیتے ہیں ۔ 43 سالہ ثقلین مشتاق نے 1999 میں چنئی میں کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں ماسٹر بلاسٹر کی وکٹ حاصل کرنے سے متعلق اپنی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں سچن کو دوسرا پھینکنے میں ڈر لگتا تھا ۔ سچن ٹنڈولکر کو کرکٹ کی تاریخ کے بہترین بلے بازوں میں شمار کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک اپنی بیٹنگ کے ذریعے گیند بازوں پر قہر ڈھایا ۔ پاکستان کے خلاف 1999 میں انہوں نے اپنی عمدہ بیٹنگ کی مہارت کا مظاہرہ کیا اور ٹیم انڈیا کو ایک وقت 81 رنز پر پانچ وکٹ گنوانے کی صورتحال سے چھ وکٹ پر 218 تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ انہوں نے وکٹ کیپر بلے باز نین مونگیا (52) کے ساتھ حیرت انگیز شراکت کی ، جس نے میزبان ٹیم کو فتح کے قریب پہنچا دیا ۔


ایسا لگتا تھا کہ 46 سالہ سابق ہندوستانی بلے باز شاید اپنی ٹیم کو اکیلے ہی جیت کی منزل پر پہنچا دیں گے ۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا ، کیونکہ ثقلین مشتاق نے انہیں کھیل کے اہم مرحلے پر آؤٹ کردیا ۔ اس کے سبب ٹیم انڈیا 258 کے اسکور پر آؤٹ ہوگئی اور میچ 12 رنز سے ہار گئی ۔ ایک راست انسٹاگرام سیشن میں ثقلین مشتاق نے کہا کہ سچن تندولکر اس میچ میں اپنی بہترین کارکردگی کے ساتھ کھیل رہے تھے ۔ وہ حریف گیند بازوں کو پڑھ کر آسانی سے گیند کے مقام کا اندازہ لگا رہے تھے ، جس کی وجہ سے وہ باؤنڈری اسکور کرنے میں کامیاب رہے ۔ میچ کے ایک مرحلے پر ثقلین مشتاق ہندوستانی بلے باز کے خلاف دوسرا ڈالنے سے خوفزدہ ہوگئے ، کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ سچن دوسرا پر آسانی چوکا لگا دیں گے ۔


ثقلین مشتاق نے براہ راست سیشن میں اسپورٹ اسٹار کو بتایا کہ گیند بازی کے دوران مجھے چند چوکے کھانے پڑے ، لیکن آخر کار میں سچن کو آؤٹ کرنے میں کامیاب رہا ۔ سچن کی آنکھیں تیز تھیں اور وہ گیند باز کے دماغ میں چلنے والے منصوبوں کو پڑھ سکتے تھے ۔ یہ بہت ڈراؤنا تھا ۔ آپ یقین نہیں کریں گے ، لیکن میں انہیں دوسرا ڈالنے میں ڈر رہا تھا ، مجھے ڈر تھا کہ دوسرا گیند کا حشر کہیں چوکے یا چھکے کی شکل میں برآمد نہ ہو ۔


ثقلین مشتاق نے مزید کہا کہ شاید اس دن خدا ان پر مہربان تھے ، کیونکہ انہوں نے اس ٹیسٹ میں ماسٹر بلاسٹر کی وکٹ حاصل کرنے کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا ۔ تاہم یہ ان کے مقدر میں پہلے ہی لکھا ہوا تھا ، لہذا وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہے ۔ آخر میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اب بھی فخر محسوس ہوتا ہے کہ انہیں اس طرح کے سنسنی خیز ٹیسٹ میچ میں سچن تندولکر کی وکٹ ملی ۔ اس دن خدا میرے ساتھ مہربان تھا ۔ میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ میں ماسٹر بلاسٹر (سچن) کو آؤٹ کردوں گا ۔ لیکن جب خدا کا کرنا ہو تو آپ اس میں کچھ نہیں کرسکتے ۔ مجھے میری آخری سانس تک یہ قابل فخر کارنامہ یاد رہے گا ۔
First published: Apr 15, 2020 10:21 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading