உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان نزاد اس مسلم کرکٹر کو بم پھینکنے والا کہا گیا ، نماز پڑھنے کیلئے کار میں جانا پڑا

    پاکستان نزاد اس مسلم کرکٹر کو بم پھینکنے والا کہا گیا ، نماز پڑھنے کیلئے کار میں جانا پڑا

    پاکستان نزاد اس مسلم کرکٹر کو بم پھینکنے والا کہا گیا ، نماز پڑھنے کیلئے کار میں جانا پڑا

    ضہیب شریف 2001 سے 2007 کے درمیان ایسیکس اور سسیکس کی جانب سے کھیلے ۔ ڈیلی مرر سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ہوئے حملوں کے بعد ان کیلئے چیزیں آسان نہیں رہ گئی تھیں ۔

    • Share this:
      لندن : ضہیب شریف انگلینڈ کے فرسٹ کلاس کرکٹر رہ چکے ہیں ، لیکن امریکہ میں نائن الیون کو ہوئے دہشت گردانہ حملہ کے بعد ان کیلئے کرکٹ میدان میں کافی کچھ بدل گیا تھا ۔ کاونٹی کلب ایسیکس سے کھیلنے والے شریف کو ساتھی کھلاڑیوں نے بم پھینکنے والا تک کہہ دیا تھا ۔ خیال رہے کہ ابھی انگلینڈ اینڈ ویلس کرکٹ بورڈ نسلی بھید بھاو پر مبنی تبصروں کی وجہ سے پریشانی میں ہے ۔ یارکشائر کے سابق کھلاڑی عظیم رفیق نے انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان سمیت کئی لوگوں پر نسلی تبصروں کے الزام لگائے ہیں ۔

      ضہیب شریف 2001 سے 2007 کے درمیان ایسیکس اور سسیکس کی جانب سے کھیلے ۔ ڈیلی مرر سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ہوئے حملوں کے بعد ان کیلئے چیزیں آسان نہیں رہ گئی تھیں ۔ ضہیب شریف نے کہا کہ یہ گیارہ ستمبر کو ہوئے حملے کے اگلے دن کی بات ہے ۔ مجھے بم پھینکنے والا کہا جانے لگا ۔ یہ میرے لئے نارمل تھا ۔ ان کے والدین آبائی طور پر پاکستان کے تھے ۔ انہوں نے آٹھ سال کی عمر میں ایسیکس کی جانب سے کھیلنا شروع کیا تھا ۔

      ضہیب شریف نے کہا کہ مجھے نماز پڑھنے کیلئے ایک جگہ تک نہیں ملتی تھی ۔ ایک سینئر کھلاڑی نے کہا کہ اس کو دیکھنے پر برا لگتا ہے ۔ اس وجہ سے میں اپنی کار میں نماز پڑھتا تھا ۔ 38 سال کے کھلاڑی نے بتایا کہ اس وقت میں نوجوان تھا ، اس وجہ سے میں کچھ نہیں تھا ۔ ان لوگوں کیلئے یہ مذاق تھا ، لیکن میرے لئے تو بہت کچھ تھا ۔ کرکٹ کریئر کو آگے بڑھانے کیلئے میں نے کچھ نہیں کہا ۔

      ضہیب شریف کے فرسٹ کلاس کریئر کی بات کریں تو انہوں نے 15 میچ میں 41 کی اوسط سے 771 رن بنائے ۔ دو سنچری اور چار نصف سنچری بنائی ۔ اتنا ہی نہیں اس لیگ اسپنر نے 15 وکٹ لئے ۔ شریف کا بیان ایسیکس کے چیئرمین جان فاراگیر کے استعفی کے بعد آیا ہے ۔ ان پر 2017 میں میٹنگ میں دوران نسلی تبصرے کرنے کے الزامات لگے ہیں ۔ حالانکہ انہوں نے الزامات سے انکار کیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: