உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Tokyo Olympics: دیپیکا کماری نے رقم کی تاریخ، اولمپک کوارٹر فائنل میں پہنچنے والی پہلی ہندوستانی تیر انداز

    دیپیکا کماری نے رقم کی تاریخ، اولمپک کوارٹر فائنل میں پہنچنے والی پہلی ہندوستانی تیر انداز

    Tokyo Olympics 2020: تیر انداز دیپیکا کماری (Deepika Kumari) نے شوٹ آف میں سونیا پیروا کو 5-6 سے شکست دی۔ اس کے ساتھ ہی دیپیکا اولمپک تیر انداز مقابلے کے آخری 8 میں پہنچنے والی پہلی ہندوستانی تیر انداز بن گئیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: دنیا کی نمبر ایک تیر انداز دیپیکا کماری (Deepika Kumari) نے سابق عالمی چمپئن روسی اولمپک سمیتی کی سینیا پیرووا کو دلچسپ شوٹ آف میں شکست دے کر ٹوکیو اولمپک (Tokyo Olympics) خاتون سنگلز کے کوارٹر فائنل میں داخل ہوگئیں۔ پانچ سیٹوں کے بعد اسکور 5-5 سے برابری پر تھا۔ دیپیکا کماری نے دباو کا بخوبی سامنا کرتے ہوئے شوٹ آف میں پرفیکٹ 10 اسکور کیا اور ریو اولمپک کی ٹیم طلائی تمغہ فاتح کو شکست دی۔

      تیر اندازی کے شوٹ آف میں شروعات کرتے ہوئے روسی تیر انداز دباو میں آگئی اور سات ہی اسکور کرسکیں جبکہ دیپیکا کماری نے 10 اسکور کرکے مقابلہ 5-6 سے جیتا۔ تیسری بار اولمپک کھیل رہی دیپیکا کماری اولمپک تیر اندازی مقابلے کے آخری 8 میں پہنچنے والی پہلی ہندوستانی تیر انداز بن گئی۔ اب ان کا اگلا مقابلہ آج ہی صبح 11:30 بجے ہونا ہے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی تیر انداز اتنو داس بھی پری کوارٹرفائنل میں پہنچ چکے ہیں۔ اتنو داس نے جمعرات کو دوسرے مرحلے کے بے حد دلچسپ مقابلے میں دو بار کے اولمپک چمپئن جنوبی کوریا کے او جنہیوک (Oh Jinhyek) کو شوٹ آف میں ہرایا تھا۔

      تیسری بار اولمپک کھیل رہی دیپیکا کماری اولمپک تیر اندازی مقابلے کے آخری 8 میں پہنچنے والی پہلی ہندوستانی تیر انداز بن گئی۔
      تیسری بار اولمپک کھیل رہی دیپیکا کماری اولمپک تیر اندازی مقابلے کے آخری 8 میں پہنچنے والی پہلی ہندوستانی تیر انداز بن گئی۔


      اگلے دور میں اتنو داس کا سامنا جاپان کے تاکا ہارو فروکاوا سے ہوگا، جو لندن اولمپک کے انفرادی طلائی کا تمغہ فاتح ہیں۔ فروکووا یہاں کانسے کا تمغہ جیتنے والی جاپان کی ٹیم کا حصہ بھی تھے۔ اتنو داس (Atanu Das) اور دیپیکا کماری (Deepika Kumari) نے گزشتہ سال جون میں شادی کی تھی۔ آج دیپیکا کماری کے میچ کے دوران اتنو داس بھی موجود تھے اور اپنی اہلیہ کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: