ہوم » نیوز » اسپورٹس

پھرتنازعہ میں چنئی سپرکنگس، 300 کروڑروپئے کے معاملے میں ای ڈی کرسکتی ہے پوچھ گچھ

ایسا دعویٰ ہے کہ چنئی سپرکنگس نے دوسال کی پابندی کے بعد آئی پی ایل میں 2018 میں واپسی کی تھی اوراسی دوران ایک کمپنی نے 300 کروڑکی سرمایہ کاری، جانئے کیا ہے پورا معاملہ۔

  • Share this:
پھرتنازعہ میں چنئی سپرکنگس، 300 کروڑروپئے کے معاملے میں ای ڈی کرسکتی ہے پوچھ گچھ
چنئی سپرکنگس ایک بار پھر تنازعہ میں ہے، ای ڈی پوچھ گچھ کرسکتی ہے۔

اسپاٹ فکسنگ کی وجہ سےدوسال کےلئے آئی پی ایل سے پابندی جھیلنے کےبعد ایک بار پھرچنئی سپرکنگس تنازعہ میں پھنستی ہوئی نظرآرہی ہے۔ بزنس اسٹینڈرڈ کی خبرکے مطابق انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نےمنی لانڈرنگ جانچ میں پایا ہےکہ چنئی سپرکنگس میں انفرااسٹرکچرلیزنگ اینڈ فائننشیل سروسز(آئی ایل اینڈ ایف ایس) نے300 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری کی۔


سال 2018 میں ہوئی سرمایہ کاری


بزنس اسٹینڈرڈ کی رپورٹ کےمطابق یہ سرمایہ کاری سال 2018 میں ہوئی تھی۔ اس سرمایہ کاری کےپیچھے کیا وجہ ہےکہ اس کا پتہ ای ڈی لگا رہا ہے۔ واضح رہےکہ سال 2018 میں ہی چنئی سپرکنگس نےآئی پی ایل میں دو سال کی پابندی کے بعد واپسی کی تھی۔ چنئی سپر کنگس 2016 اور2017 میں آئی پی ایل نہیں کھیل پائی تھی کیونکہ اسے اسپاٹ فکسنگ معاملےمیں قصوروارپایا گیا تھا۔


چنئی سپرکنگس نے2018 میں جیتا تھا آئی پی ایل۔
چنئی سپرکنگس نے2018 میں جیتا تھا آئی پی ایل۔


معاملے کی جانچ جاری

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کواس بات کا تب پتہ چلا جب وہ انفرااسٹرکچرلیزنگ اینڈ فائننشیل سروسز(آئی ایل اینڈ ایف ایس) کےلون اورسرمایہ کاری کی جانچ کررہی تھی۔ ای ڈی نے پایا کہ یہ سرمایہ کاری خصوصی سرمایہ کاری زمرے کے تحت ہوئی تھی۔ ای ڈی فی الحال اس معاملے کے لین دین اوراس کی مدت کی جانچ کررہی ہے۔

چنئی سپرکنگس سے ہوسکتی ہے پوچھ گچھ

رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں چنئی سپرکنگس فرنچائزی سے پوچھ گچھ بھی ہوسکتی ہے۔ ڈائریکٹوریٹ لین دین کے بارے میں سمجھنے کےلئے تین بارکی آئی پی ایل چمپئن چنئی سپرکنگس سے بات کرسکتا ہے۔ آئی ایل اینڈ ایف ایس کا سینئرمنیجمنٹ اس معاملے میں ملزم ہے توان سے بھی ای ڈی کی پوچھ گچھ ممکن ہے۔ ویسے یہ معاملہ سامنے آنےکے بعد چنئی سپرکنگس نےاس پرردعمل ظاہرکرنےسے انکارکردیا۔ فرنچائزی کے مطابق ای ڈی نے اس معاملے میں ان سے اب تک رابطہ ہی نہیں کیا ہے۔
First published: Aug 27, 2019 08:17 PM IST