உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سابق پاکستانی اسپنر نے کی کئی ٹیموں میں کھیلنے والے ہندوستان کی تعریف، کہا- دوسرے ملک ایسا سوچ نہیں سکتے

    دانش کنیریا نے بی سی سی آئی کی حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔ (BCCI Twitter)

    دانش کنیریا نے بی سی سی آئی کی حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔ (BCCI Twitter)

    پاکستان کے سابق اسپنر دانش کنیریا نے بی سی سی آئی کی اس خاص حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔ اپنے نئے یو ٹیوب ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے باصلاحیت کھلاڑیوں کے مجمع نے انہیں ونڈے میچوں کے لئے زمبابوے میں ایک ’بی ٹیم‘ بھیجنے کی اجازت دی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ٹیم انڈیا ہرارے میں جمعرات (18 اگست) سے شروع ہو رہی تین میچوں کی ونڈے سیریز میں زمبابوے سے مد مقابل ہوگی۔ اس سیریز کے لئے ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں کو آرام دیا گیا ہے۔ کے ایل راہل کو اس سیریز کی کپتانی دی گئی ہے۔ ان کی قیادت میں نوجوان ٹیم انڈیا زمبابوے سے مقابلہ کرنے اترے گی۔ 12 ماہ میں ایسے کئی مواقع آئے ہیں، جب دو الگ الگ ہندوستانی ٹیموں نے الگ الگ مقامات پر دو الگ الگ سیریز کھیلی ہیں۔

      جولائی 2021 میں جب وراٹ کوہلی کی قیادت والی ٹسٹ ٹیم انگلینڈ میں تھی، تب شکھر دھون نے 3 ونڈے اور 3 ٹی20 انٹرنیشنل کے لئے سری لنکا کے خلاف دوسری ٹیم انڈیا کی کمان سنبھالی تھی۔ اس سال کی شروعات میں بھی جب روہت شرما اینڈ کمپنی ایجبسٹن ٹسٹ کی تیاری کر رہی تھی، تب ہاردک پانڈیا نے آئر لینڈ میں 2 ٹی20 میچوں میں ایک ٹیم کی قیادت کی۔ ایک ہی وقت میں الگ الگ مقامات پر کئی ٹیموں کو میدان میں اتارنا ہندوستانی کرکٹ میں ایک نیا پیمانہ بن گیا ہے اور بی سی سی آئی سکریٹری جے شاہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ مستقبل میں ایسا زیادہ بار ہوگا۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Asia Cup 2022: جڈیجہ اور شکیب الحسن کے پاس لست ملنگا کو پیچھے چھوڑنے کا موقع

      دانش کنیریا نے کی BCCI کی تعریف

      پاکستان کے سابق اسپنر دانش کنیریا نے بی سی سی آئی کی اس خاص حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔ اپنے نئے یو ٹیوب ویڈیو میں انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے باصلاحیت کھلاڑیوں کے مجمع نے انہیں ونڈے میچوں کے لئے زمبابوے میں ایک ’بی ٹیم‘ بھیجنے کی اجازت دی ہے۔ دانش کنیریا نے کہا، ’دو ہندوستانی ٹیم بنانے کی بات ہو رہی ہے، کیونکہ ان کے پاس اتنے کھلاڑی ہیں کہ ان سبھی کو ایک ٹیم میں ایڈجسٹ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ زمبابوے ٹسٹ کھیلنے والا ملک ہے اور وہ باصلاحٰت کرکٹ کھیلتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ہندوستان نے سیریز کے لئے دوسرے نمبر کی ٹیم بھیجی ہے۔

      پاکستان کے سابق اسپنر دانش کنیریا نے بی سی سی آئی کی اس خاص حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔
      پاکستان کے سابق اسپنر دانش کنیریا نے بی سی سی آئی کی اس خاص حکمت عملی کی تعریف کی ہے۔


      یہ بھی پڑھیں۔

      Asia Cup 2022: سابق پاکستانی کپتان نے ہندوستان کو بتایا خطاب کا مضبوط دعویدار، VIDEO میں بتائی وجہ

      BCCI نئی صلاحیتوں کو دے رہی ہے موقع

      انہوں نے مزید کہا، ’ہم نے دیکھا کہ اس سال کی شروعات میں بھی جب کئی ہندوستانی کھلاڑی انگلینڈ میں تھے، تب ایک الگ ہندوستانی ٹیم نے سری لنکا میں سفید گیند کا کھیل کھیلا تھا‘۔ دانش کنیریا نے مشورہ دیا کہ ہندوستان نے جو کیا ہے، اسے دوہرانا دیگر ممالک کے لئے آسان کام نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ بی سی سی آئی ایک وقت میں دو الگ الگ ٹیموں کو میدان میں اتارکر نئی صلاحیتوں کو مواقع دے رہا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Asia Cup 2022: ہندوستان نے پاکستان کو کیا تہس نہس، 9 بلے باز دہائی کے اعدادوشمار تک نہیں پہنچ سکے

      دانش کنیریا نے کہا، ’اگر ان کے پاس دو ٹیمیں ہیں تو یقینی طور پر عالمی کرکٹ پر اس کا بڑا اثر پڑے گا۔ کسی دیگر ملک نے دو ٹیموں کے ہونے کی بات نہیں کی ہے اور مجھے نہیں لگتا ہے کہ وہ ایسا کرپائیں گے۔ پاکستان کے پاس بھی بہت سارے باصلاحیت کھلاڑی ہیں، لیکن انہیں مناسب مواقع نہیں مل رہے ہیں‘۔

      انہوں نے کہا، ’دوسری طرف ہندوستان اپنے کھلاڑیوں کو موقع دے رہا ہے۔ چاہے وہ کہیں سے بھی آئے ہوں۔ پاکستان کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ وہ نیدر لینڈ کے خلاف سیریز کے لئے نئے کھلاڑیوں کو بھیج سکتے ہیں اور شان مسعود کو کپتان ہونا چاہئے تھا‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: