உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Exclusive: اچھا ہوتا اگر پاکستانی جیولن اسٹار ارشد ندیم بھی ایک میڈل جیت جاتے : نیرج چوپڑا

    Exclusive: اچھا ہوتا اگر پاکستانی جیولن اسٹار ارشد ندیم بھی ایک میڈل جیت جاتے : نیرج چوپڑا ۔ (AP Photo)

    Exclusive: اچھا ہوتا اگر پاکستانی جیولن اسٹار ارشد ندیم بھی ایک میڈل جیت جاتے : نیرج چوپڑا ۔ (AP Photo)

    Tokyo Olympics : سی این این نیوز 18 کے ساتھ ایک خاص بات چیت کے دوران جب ان سے پاکستانی جیولن اسٹار ارشد ندیم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اگر ندیم بھی پوڈیم پر ہوتے تو یہ اچھا ہوتا ۔ ایشیا کا نام ہوجاتا ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : ہندوستان کے اسٹار جیولن تھروور نیرج چوپڑا نے ٹوکیو اولمپک میں گولڈ میڈل جیت کر تاریخ رقم کردی ہے۔ نیرج چوپڑا ایتھلیٹکس میں اولمپک تمغہ جیتنے والے پہلے ہندوستانی کھلاڑی ہیں ۔ نیرج چوپڑا نے فائنل مقابلے میں 87.58 میٹر دور بھالا پھینک کر گولڈ میڈل جیتا۔  اس تاریخی کامیابی کے بعد نیرج چوپڑا نے کتنے انٹرویوز دئے ہیں ، انہیں یاد نہیں ہے ۔ شاید 100 ، تاہم انہیں یہ یاد ہے کہ اس کے بعد سے وہ کتنے گھنٹے سوئے ہیں ۔ وہ ڈھائی گھنٹے ہی سو سکے ہیں ۔

      سی این این نیوز 18 کے ساتھ ایک خاص بات چیت کے دوران جب ان سے پاکستانی جیولن اسٹار ارشد ندیم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ اگر ندیم بھی پوڈیم پر ہوتے تو یہ اچھا ہوتا ۔ ایشیا کا نام ہوجاتا ۔ نیرج چوپڑا پر ہندوستان بمقابلہ پاکستان کے ہائپ کا کوئی اثر نہیں تھا ۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹ میں یہ چل جاتا ہے ، سات آٹھ ممالک ہوتے ہیں ، مگر اولمپک میں یہ سب کرنا ٹھیک نہیں ہے ۔


      خیال رہے کہ نیرج چوپڑا کے تاریخی گولڈ میڈل جینتے کے بعد ہندوستانی اور پاکستانی اسٹارس کی اولمپک گیمز کی اختتامی تقریب سے عین قبل ڈائننگ ہال میں ملاقات ہوئی ۔ دونوں نے مصافحہ کیا اور بتایا کہ کھیلوں کا جذبہ بسا اوقات کھیل سے بھی زیادہ اہم کیوں ہوجاتا ہے ۔

      اس ملاقات کے درمیان کیا بات ہوئی ، اس سوال کے جواب میں نیرج نے کہا کہ انہوں نے مجھے ایک بڑی مسکراہٹ کے ساتھ مبارکباد دی ۔ میں نے ان سے کہا کہ وہ قومی ڈریس میں کافی تگڑے لگ رہے ہیں ۔ انہوں نے اچھا کیا اور میں نے انہیں مستقبل کیلئے نیک خواہشات پیش کیں ۔

      خیال رہے کہ پاکستان کے جیولن اسٹار ارشد ندیم نے اولمپکس گیمز میں پانچویں پوزیشن حاصل کی اور وہ میڈل جیتنے سے تھوڑا سا سے چوک گئے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: