உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    لاس اینجلس، ٹورنٹو، میکسیکو سٹی ورلڈ کپ2026کے میزبان شہروں میں شامل

    fifa ورلڈ کپ کے میچیز ان شہروں میں ہوں گے۔

    fifa ورلڈ کپ کے میچیز ان شہروں میں ہوں گے۔

    کینیڈا میں ہونے والے مقابلے وینکوور اور ٹورنٹو میں ہوں گے۔ میکسیکو جہاں 1970 اور 1986 میں ان کھیلوں کی میزبانی کرچکا ہے، وہیں کینیڈا میں پہلی مرتبہ مرد ورلڈ کپ کا انعقاد ہونا ہے۔

    • Share this:
      نیویارک:لاس اینجلس، ٹورنٹو اور میکسیکو سٹی کو 2026 کے فیفا ورلڈ کپ کے میزبان شہروں کے طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ پہلی بار یہ عالمی ٹورنامنٹ تین ممالک میں منعقد کیا جائے گا۔ یہ تین ممالک امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو ہیں۔ فٹبال کے عالمی ادارے فیفا نے ورلڈ کپ کے لیے 16 شہروں کا اعلان کیا ہے، جن میں امریکا کے 11، میکسیکو کے تین اور کینیڈا کے دو شہر شامل ہیں۔

      حالانکہ یہ نہیں بتایا گیا کہ اس ٹورنامنٹ کے افتتاحی اور فائنل میچ کہاں کھیلے جائیں گے۔ امریکا میں سیئٹل، سان فرانسسکو، لاس اینجلس، کنساس سٹی، ڈلاس، اٹلانٹا، ہیوسٹن، بوسٹن، فلاڈیلفیا، میامی اور نیویارک سٹی ان گیمز کی میزبانی کریں گے جب کہ میکسیکو میں میچیز میکسیکو سٹی، گواڈالاجرا اور مونٹیری میں ہوں گے۔

      کینیڈا میں ہونے والے مقابلے وینکوور اور ٹورنٹو میں ہوں گے۔ میکسیکو جہاں 1970 اور 1986 میں ان کھیلوں کی میزبانی کرچکا ہے، وہیں کینیڈا میں پہلی مرتبہ مرد ورلڈ کپ کا انعقاد ہونا ہے۔


      ٹاٹنہم نے دی چھیتری کو مبارکباد
      ہندوستانی فٹ بال ٹیم کے کپتان سنیل چھتری کو انگلش پریمیئر لیگ کلب ٹاٹنہم نے ہنگری کے لیجنڈ فیرنک پوسکاس کے 84 ویں بین الاقوامی گول کرنے پر مبارکباد دی ہے۔ چھتری نے بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ گول کرنے والوں میں پانچویں پوزیشن حاصل کی ہے۔ ہندوستانی اسٹار اب ارجنٹائن کے سوپر اسٹار لیون میسی کے 86 گول سے صرف دو گول پیچھے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      ہندوستان نےافریقہ کو 82 رنوں سے ہرایا، اویش خان کی قاتلانہ گیند بازی، سیریز 2-2 سے برابر

      یہ بھی پڑھیں:
      انگلینڈ نے رقم کی تاریخ، بلے بازوں کی طوفانی اننگ کی بدولت بنایا ونڈے کا سب سے بڑا اسکور

      ٹاٹنہم نے اپنے ٹوئٹر پر لکھا’ ہندوستان کے سنیل چھیتری کو عظیم فیرینگ پوسکاس کے 84ویں انٹرنیشنل گول کی برابری کرنے پر مبارکباد۔‘
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: