ہوم » نیوز » اسپورٹس

ڈی ڈی سی اے کی میٹنگ میں جم کر چلے لات گھونسے، سوربھ گانگولی کرسکتے ہیں بڑی کارروائی

اتوار کو ڈی ڈی سی اے کی سالانہ میٹنگ ہوئی، جس میں یہ شرمسار کر دینے والا حادثہ رونما ہوا۔

  • Share this:
ڈی ڈی سی اے کی میٹنگ میں جم کر چلے لات گھونسے، سوربھ گانگولی کرسکتے ہیں بڑی کارروائی
ڈی ڈی سی اے کی میٹنگ میں جم کر چلے لات گھونسے

نئی دہلی: ہندوستانی کرکٹ میں دنیا کوشرمسارکرنے والا ایک ویڈیواتوارکوسوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہا ہے، جس نے دہلی کرکٹ ایسوسی ایشن سمیت ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) پربھی سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ دراصل اتوارکو دہلی اینڈ ڈسٹرکٹ کرکٹ ایسوسی ایشن (ڈی ڈی سی اے) کی سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) ہوئی، جس میں عہدیداران  آپس میں بھڑگئے۔ عہدیداران کےدرمیان جم کرلات گھونسےبھی چلے۔ اسٹیج پر عہدیداران نےایک دوسرے کوزبردست دھکا بھی دیا اورایک دوسرے پرنازیبا الفاظ سے حملہ بھی کیا۔ اس میٹنگ کا یہ ویڈیوجیسے ہی سوشل میڈیا پروائرل ہوا، ہر طرف سبھی کرکٹ ایسوسی ایشن کے طریقہ کارسمیت بی سی سی آئی پربھی سوال اٹھنےلگے۔




بی سی سی آئی صدرسے کارروائی کا مطالبہ

لوگ بی سی سی آئی صدرسوربھ گانگولی سے میٹنگ میں ماحول خراب کرنے والےان عہدیداران کےخلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ حالانکہ مانا بھی جارہاہے کہ کرکٹ اوراس کے سسٹم کو لےکرسنجیدگی سےسوچنے والے سوربھ گانگولی اس معاملے پر بڑی کارروائی کرسکتے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق جوائنٹ سکرکٹری راجن منچندا کے ساتھ  ایپکس کاؤنسل کےاراکین نے دھکا مکی کی۔ دراصل میٹنگ میں کچھ ایجنڈے کونافذ کیا گیا۔ اعتراضات کے باوجود بھی انہیں نافذ کرنےکی وجہ سے ماحول خراب ہوگیا۔ اسی درمیان جسٹس دیپک ورما کوڈی ڈی سی اے کا نیا لوکپال نامزد کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فیصلہ لیا گیا کہ نئےصدرکےلئےالیکشن 13 جنوری کوہوں گے۔

رجت شرما گزشتہ سال ڈی ڈی سی اے کے چیئرمین بنے تھے۔ انہوں نے گزشتہ ماہ اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔


رجت شرما نے چھوڑ دیا تھا عہدہ

گزشتہ ماہ ہی رجت شرما نےڈی ڈی سی اے کے چیئرمین عہدے سےاستعفیٰ دے دیا تھا، جس کےبعد سے ہی یہ عہدہ خالی ہے۔ دراصل رجت شرما نےیہ کہہ کرعہدہ چھوڑا تھا کہ وہ کسی بھی قیمت میں اپنی ایمانداری سےسمجھوتہ نہیں کریں گے۔ اس وجہ سےڈی ڈی سی اے سوالوں کےگھیرے میں آگئی تھی۔ گزشتہ سال جولائی کے مہینے میں رجت شرما سابق کرکٹر مدن لال کو 517 ووٹوں سے شکست دے کراس عہدے پرقابض ہوئےتھے۔ ان کی 20 ماہ کی مدت اتارچڑھاؤ سے پُرتھی۔ جنرل سکریٹری ونود تہاڑا کےساتھ ان کےاختلافات عوامی طور پربھی سامنے آئے۔
First published: Dec 29, 2019 06:42 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading