உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ریٹائرمنٹ کے 20 سال بعد New Zealand کرکٹر کا بڑا انکشاف، کہا-میں اسے چھپانے کے لئے مجبور تھا

    نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر ہیتھ ڈیوس ریٹائر منٹ لینے کے 20 سال بعد ہم جنس پرست کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ انہیں اپنے ملک کے لئے کھیلتے وقت اپنی پہچان کو چھپانا پڑا تھا۔

    نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر ہیتھ ڈیوس ریٹائر منٹ لینے کے 20 سال بعد ہم جنس پرست کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ انہیں اپنے ملک کے لئے کھیلتے وقت اپنی پہچان کو چھپانا پڑا تھا۔

    نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر ہیتھ ڈیوس ریٹائر منٹ لینے کے 20 سال بعد ہم جنس پرست کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ انہیں اپنے ملک کے لئے کھیلتے وقت اپنی پہچان کو چھپانا پڑا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: سابق ٹسٹ تیزگیند باز ہیتھ ڈیوس ہم جنس پرست کے طور پر سامنے آنے والے نیوزی لینڈ کے پہلے مرد انٹرنیشنل کرکٹر بن گئے ہیں۔ پروفیشنل مرد کرکٹ دنیا میں ایسا معاملہ بے حد ہی کم دیکھنے کو ملتا ہے۔ خواتین دنیائے کرکٹ میں کئی ہم جنس پرست کھلاڑی پہلے ہی سامنے آچکی ہیں۔ کئی خاتون کرکٹروں نے تو شادی بھی کرلی ہے۔ نتالی سیور اور کیتھرین برنٹ، ایم سیٹرتھویٹ اور لی تاہوہو، لارین-ونفیلڈ اور کورٹنی ہل، لیجل لی اور تنجا کرونییے ایسی کئی خواتین ہم جنس پرست کھلاڑی ہیں، لیکن پروفیشنل مرد کرکٹ میں ایسا کم ہی سامنے آیا ہے۔

      50 سالہ ہیتھ ڈیوس فی الحال آسٹریلیا میں رہ رہے ہیں۔ ڈیوس نے 1994 سے 1997 تک پانچ ٹسٹ اور 11 ونڈے انٹرنیشنل میچ کھیلے۔ ساتھ ہی انہوں نے تیز گیند باز کے طور پر ایک لمبے گھریلو کیریئر کا لطف لیا۔ ان کا کیریئر نایاب کہانیوں سے بھرا رہا۔ وہ ملک کے ٹسٹ کرکٹروں میں پہلی بار ہم جنس پرست بن کر سامنے آئے۔ آئن لائن نیوز ‘دی اسپن آف‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں ڈیوس نے کہا، ’مجھے لگا کہ میری زندگی کا یہ حصہ تھا، جسے میں چھپا رہا تھا‘۔

      اپنے بیشتر فرسٹ کلاس کیریئر کے لئے ویلنگٹن کے لئے کھیلنے کے بعد ڈیوس نے آخر کار محسوس کیا کہ انہیں اپنے اصلی طور پر آنے کے لئے ماحولیات میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا، ’اس میں بہت کچھ تھام بس اپنی ذاتی زندگی کو الگ رکھتے ہوئے۔ وہ اکیلا تھا… میں اسے دبا رہا تھا، میں ہم جنس پرست زندگی نہیں جی رہا تھا۔ ڈیوس نے کہا کہ 1997 میں اپنے اصل ویلنگٹن سے باہر قدم رکھ کر آکلینڈ میں گھریلو کرکٹ کھیلنے پر ان کی زندگی میں سدھار ہوا۔

      نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر ہیتھ ڈیوس نے ریٹائر منٹ لینے کے 20 سال بعد ہم جنس پرست ہونے کا اعتراف کیا ہے۔
      نیوزی لینڈ کے سابق کرکٹر ہیتھ ڈیوس نے ریٹائر منٹ لینے کے 20 سال بعد ہم جنس پرست ہونے کا اعتراف کیا ہے۔


      ہیتھ ڈیوس نے کہا، ’میں ویلنگٹن میں باہر ہونے سے تھوڑا ڈرتا تھا… میں اسے چھپانے کے لئے مجبور تھا۔ مجھے لگا کہ میری زندگی کا یہ حصہ تھا، جسے مجھے ظاہر کرنے کی ضرورت تھی، میں اسے چھپانے کی وجہ سے کافی پریشان تھا۔ آکلینڈ میں مجھے میں ہر کوئی جانتا تھا کہ میں ہم جنس پرست ہوں، لیکن یہ اتنا بڑا موضوع نہیں لگ رہا تھا… مجھے بس آزاد محسوس ہوا‘۔

      واضح رہے کہ انگلینڈ کے سابق وکٹ کیپر اسٹوین ڈیوس 2011 کی شروعات میں عوامی طور پر ہم جنس پرست کے طور پر سامنے آنے والے پہلے انٹرنیشنل مرد کرکٹر بنے۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: