உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان کے سابق کرکٹر کا انکشاف- میرے کپتان بننے کے بعد وسیم اکرم-وقار یونس مجھ سے بات نہیں کرتے تھے

    پاکستان کے سابق کرکٹر سلیم ملک نے وسیم اکرم اور وقار یونس سے متعلق بڑا انکشاف کیا ہے۔

    پاکستان کے سابق کرکٹر سلیم ملک نے وسیم اکرم اور وقار یونس سے متعلق بڑا انکشاف کیا ہے۔

    پاکستان کے سابق کپتان سلیم ملک کا کہنا ہے کہ جب انہیں ٹیم کی کمان سونپی گئی تو یہ بات وسیم اکرم اور وقار یونس کو ہضم نہیں ہوئی۔ وسیم اکرم اور وقار یونس کی جوڑی 90 کی دہائی میں سب سے خطرناک ہوا کرتی تھی۔

    • Share this:
      کراچی: پاکستان کی کرکٹ ٹیم میں 1990 کی دہائی میں کافی اتھل پتھل رہی۔ سال 1992 میں عمران خان نے اپنی کپتانی میں پاکستان کو عالمی کپ جتایا تھا۔ اس کے بعد تقریباً ایک دہائی تک ٹیم کی ملی جلی کارکردگی رہی۔ سال 1996 میں پاکستان کی ٹیم عالمی کپ کے سیمی فائنل میں پہنچی۔ وہیں 1999 میں اس نے آسٹریلیا کے خلاف کرکٹ عالمی کپ فائنل کھیلا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم میں کپتانی کو لے کر ہمیشہ تنازعہ رہا۔ سابق کپتان سلیم ملک کا کہنا ہے کہ انہیں جب ٹیم کا کپتان بنایا گیا تو وسیم اکرم اور وقار یونس ان سے بات نہیں کرتے تھے۔

      پاکستان کے سابق کپتان سلیم ملک کا کہنا ہے کہ جب انہیں ٹیم کی کمان سونپی گئی تو یہ بات وسیم اکرم اور وقار یونس کو ہضم نہیں ہوئی۔ وسیم اکرم اور وقار یونس کی جوڑی 90 کی دہائی میں سب سے خطرناک ہوا کرتی تھی۔ سلیم ملک کا کہنا ہے کہ مجھے 1993 میں ٹیم کا کپتان بنایا گیا تھا، لیکن وسیم اکرم اور وقار یونس نے مجھے بہت کم سپورٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود میں نے ان دونوں سے سب سے بہترین کارکردگی کرانے کا طریقہ تلاش کرلیا تھا۔

      وسیم اکرم-وقار یونس مجھ سے بات نہیں کرتے تھے

      سلیم ملک نے جیو سپر نیوز سے بات کرتے ہوئے ہا، وسیم اکرم اور وقار یونس میرا سہارا تھے، لیکن پیشہ ور کے طور پر وہ اپنی کارکردگی پر توجہ مرکوز کرتے تھے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ دونوں مجھ سے بات نہیں کرتے تھے، کیونکہ مجھے ٹیم کا کپتان بنایا گیا تھا۔ میں نے اس بارے میں ان سے بات بھی کی۔ جب میں انہیں گیند بازی کرنے کو کہتا تھا تو وہ مجھ سے گیند چھین لیتے تھے۔ میں کپتان بن گیا تھا، لیکن وسیم اکرم اور وقار یونس کپتان بننا چاہتے تھے۔

      میں نئی چال چلی

      بات چیت کے دوران سلیم ملک نے کہا ہ وہ دونوں مجھ سے بات نہیں کر رہے تھے پھر بھی ہم سیریز جیتنے میں کامیاب رہے۔ میں وسیم اکرم سے کہتا تھا کہ آپ دنیا کے نمبر 1 گیند باز ہیں۔ آپ وکٹ لیں یا نہ لیں، اس کا میرے اوپر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ آپ کے وقار کا سوال ہے، لیکن وقار یونس ضرور پانچ وکٹ لیں گے۔ ٹھیک یہی بات میں وقار یونس سے کہتا تھا۔ اسے ہی منیجمنٹ کہتے ہیں۔ میں ہمیشہ دماغ لگاتا تھا کہ دونوں میچ میں پرفارمنس کرتے رہیں۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: