உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پاکستان کرکٹ میں ہنگامہ، ایشیا کپ میں شکست کے بعد پاکستان کے چیف سلیکٹر کو برخاست کرنے کی اٹھی آواز

    ایشیا کپ میں شکست کے بعد پاکستان کے چیف سلیکٹر کو برخاست کرنے کی اٹھی آواز

    ایشیا کپ میں شکست کے بعد پاکستان کے چیف سلیکٹر کو برخاست کرنے کی اٹھی آواز

    Asia Cup 2022: پاکستان کے سابق کرکٹر صادق محمد نے پاکستانی ٹیم کے سلیکشن کے پیمانہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ آصف اور افتخار ہمارے چیف سلیکٹر کے پسندیدہ ہیں۔ انہیں سبھی دوروں کے لئے ٹیم میں منتخب کیا گیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے اچھی کارکردگی پیش نہیں کی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ انہیں آرام دیا جانا چاہئے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: ایشیا کپ 2022 میں پاکستانی ٹیم فائنل میں سری لنکا سے ہار گئی تھی، ٹیم کی کارکردگی سے مایوس سابق ٹسٹ کرکٹر صادق محمد نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے چیف سلیکٹر محمد وسیم کو برخاست کرنے کی گزارش کی ہے۔ صادق محمد نے کہا، ’اس سلیکشن کمیٹی کو بدلنے کا یہ صحیح وقت ہے، خاص طور پر محمد وسیم‘۔ کیونکہ ایک ٹھوس ٹی20 ٹیم بنانے میں ناکام رہے ہیں۔

      پاکستان سے غیر نظم و ضبط کی بلے بازی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے صادق محمد نے ’دی نیوز‘ سے کہا کہ ٹیم میں صرف دو اچھے بلے باز تھے کپتان بابر اعظم اور وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان۔ انہوں نے کہا کہ باقی صرف نعرے لگانے والے تھے۔ بائیں ہاتھ کے سابق سلامی بلے باز صادق محمد نے پاکستان کے لئے 41 ٹسٹ اور 19 یک روزہ میچ کھیلے ہیں۔

      سابق ٹسٹ کرکٹر صادق محمد نے پی سی بی سے چیف سلیکٹر محمد وسیم کو برخاست کرنے کی گزارش کی ہے۔
      سابق ٹسٹ کرکٹر صادق محمد نے پی سی بی سے چیف سلیکٹر محمد وسیم کو برخاست کرنے کی گزارش کی ہے۔


      آصف اور افتخار چیف سلیکٹر کے پسندیدہ ہیں کیا؟

      صادق محمد نے ٹیم سلیکشن کے پیمانہ پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے کہا، ’ایسا لگتا ہے کہ آصف اور افتخار ہمارے چیف سلیکٹر کے پسندیدہ ہیں۔ انہیں سبھی دوروں کے لئے ٹیم میں منتخب کیا گیا ہے۔ حالانکہ انہوں نے اچھی کارکردگی پیش نہیں کی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ انہیں آرام دیا جانا چاہئے‘۔ صادق محمد نے کہا، ’یہ دونوں بلے باز کلب سطح کے ہیں اور انہیں گھریلو علاقائی ٹیموں کے لئے بھی نہیں منتخب کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ آنے والے اہل نوجوانوں کو ان کی جگہ سے محروم کر رہے ہیں‘۔ سابق کرکٹر نے کہا کہ اچھی تکنیک والے بلے باز پاکستان کو اپنی بلے بازی کے ذریعہ ہدف حاصل کرنے میں مدد کرسکتے ہیں، جس طرح سے محمد یوسف، انضمام الحق، جاوید میانداد، ظہیر عباس اور آصف اقبال کرتے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      پاکستان کے لئے بری خبر: آفریدی کو Pakistan Cricket Board نے کیا معطل، کرکٹ کھیلنے پر فوری پابندی عائد

      یہ بھی پڑھیں۔
      T20 World Cup 2022: ہند-پاک کے مابین 23 اکتوبر کو مقابلہ، ٹیم انڈیا کے لئے خطرے کی گھنٹے ہوں گے شاہین آفریدی 

      بلے بازی آرڈر میں تبدیلی کی ضرورت

      سابق کرکٹر نے کہا کہ پاکستان کو مڈل آرڈر میں ٹھوس بلے بازوں کی سخت ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلے بازی کوچ محمد یوسف ضرور لیکچر دے رہے ہوں گے کہ کیسے کھیلنا ہے، لیکن موجودہ مڈل آرڈر کے بلے بازوں میں لگتا ہے کہ کھیل کی پالیسی سیکھنے کا بالکل بھی ارادہ نہیں ہے‘۔ آصف، افتخار اور کچھ حد تک، فخر زماں ایک اور دو نہیں لے سکتے۔ فخر زماں ایک سلامی بلے باز کے طور پر بہتر ہوسکتے تھے، کیونکہ انہوں نے ایشیا کپ میں پاور پلے میں سرکل کا استعمال بہتر طریقے سے کرسکتے ہیں۔

      صادق محمد پاکستان کے سابق کوچ مکی آرتھر کے بابر اعظم اور محمد رضوان کو الگ کرنے کے مشورے سے متفق ہیں۔ صادق محمد نے کہا، ’کوچ ثقلین مشتاق کو فیصلہ لینا چاہئے تھا یا بابر اعظم کو تیسرے نمبر پر کھیلنے کا مشورہ دینا چاہئے تھا، کیونکہ وہ خراب دور سے گزر رہے تھے۔ سابق کرکٹر نے کہا، ‘میں مشورہ دوں گا کہ امام الحق اپنی صحیح تکنیک کے سبب سبھی ٹی20 میں محمد رضوان کے ساتھ اوپننگ کریں۔ اور ان کے پیچھے بابر اعظم، شان مسعود  اور عبداللہ شفیق کا ہونا چاہئے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: