ہوم » نیوز » اسپورٹس

گوتم گمبھیر نے کہا- مہندر سنگھ دھونی اور وراٹ کوہلی کے مابین موازنہ کرنا مشکل

سابق ہندوستانی کرکٹر گوتم گمبھیر کا خیال ہے کہ سابق ہندوستانی کپتان مہندر سنگھ دھونی اور موجودہ کپتان وراٹ کوہلی کا موازنہ کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ دونوں مختلف آرڈر پر بلے بازی کرتے ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 16, 2020 04:19 PM IST
  • Share this:
گوتم گمبھیر نے کہا- مہندر سنگھ دھونی اور وراٹ کوہلی کے مابین موازنہ کرنا مشکل
گوتم گمبھیر نے کہا- دھونی اور وراٹ کوہلی کے مابین موازنہ کرنا مشکل

نئی دہلی: سابق ہندوستانی کرکٹر گوتم گمبھیر کا خیال ہے کہ سابق ہندوستانی کپتان مہندر سنگھ دھونی اور موجودہ کپتان وراٹ کوہلی کا موازنہ کرنا بہت مشکل ہے کیونکہ یہ دونوں مختلف آرڈر پر بلے بازی کرتے ہیں۔ گوتم گمبھیر نے یہ بات اسٹار اسپورٹس شو کرکٹ کنیکٹڈ کے ایک سوال کہ ہدف کے تعاقب میں بہتر کون کے جواب میں ایک انٹرویو کے دوران کہی۔ گوتم گمبھیر نے کہا کہ وراٹ کوہلی تیسرے آرڈر میں بلے بازی کرتےہیں جبکہ دھونی چھٹے یا ساتویں آرڈر پربلے بازی کرتے ہیں اس لئے ان دونوں کا موازنہ کرنا بہت مشکل ہے۔


مہندر سنگھ دھونی کے ٹاپ آرڈر پر بیٹنگ سے متعلق سوال پر گوتم گمبھیر نے کہا کہ شاید ورلڈ کرکٹ نے ایک اہم چیز کی کمی کا شدت سے احساس کیا ہے اور وہ ہے دھونی کا تیسرے آرڈر پر بیٹنگ نہ کرنا۔ اگر دھونی ہندوستانی ٹیم کی کپتانی نہ کرتے اور تیسری پوزیشن پر بیٹنگ کرتے تو شاید دنیا کو ایک مختلف قسم کا کھلاڑی نظر آتا۔ ایسا کرنے سے دھونی بہت سے رنز بناتے اور کئی ریکارڈ توڑ دیتے۔ اگر دھونی ہندستان کی کپتانی نہ کرتے اور تیسری پوزیشن پر بیٹنگ کرتے تو وہ دنیا کا سب سے دلچسپ کرکٹر ہوتے۔ لیکن سابق ہندوستانی آل راؤنڈر عرفان پٹھان کی رائے مختلف ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ ٹاپ آرڈر میں دھونی کے پاس بیٹنگ کا آپشن موجود تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔


گوتم گمبھیر نے کہا کہ دھونی ہندوستانی ٹیم کی کپتانی نہ کرتے اور تیسری پوزیشن پر بیٹنگ کرتے تو شاید دنیا کو ایک مختلف قسم کا کھلاڑی نظر آتا۔
گوتم گمبھیر نے کہا کہ دھونی ہندوستانی ٹیم کی کپتانی نہ کرتے اور تیسری پوزیشن پر بیٹنگ کرتے تو شاید دنیا کو ایک مختلف قسم کا کھلاڑی نظر آتا۔


عرفان پٹھان نے کہا کہ دھونی کو تیسرے آرڈر پر بیٹنگ کا موقع ملا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اگر ہم تیسرا آرڈر پر بیٹنگ کے لئے وراٹ اور دھونی کا موازنہ کریں۔ تو مجھے اس پر اتفاق ہے کہ وراٹ کے پاس بہتر ٹکنالوجی ہے۔ میں دھونی کو کم نہیں سمجھ رہا یقینا وہ کرکٹ کے ایک لیجنڈ رہے ہیں ۔ ہر ایک کی اپنی الگ رائے ہے۔ میں ہمیشہ وراٹ کا انتخاب کرنا پسند کروں گا۔ گوتم گمبھیر نے کہا کہ میں شاید دھونی کو چننا چاہتا ہوں۔ تیسرے آرڈر میں دھونی کی بیٹنگ فلیٹ پچوں پر اور اب عالمی کرکٹ میں بولنگ کی سطح جیسی ہے ۔ سری لنکا ، بنگلہ دیش ، ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ دھونی انٹرنیشنل کرکٹ کی موجودہ سطح کے مطابق کئی ریکارڈ توڑ چکے ہیں۔ جب انہوں نے جارحانہ نمبر 3 بلے باز کی حیثیت سے مقام بنایا تو دھونی نے ٹاپ آرڈر مقام پر صرف 16 ون ڈے میچ کھیلے ، انہوں نے 82 سے زائد کی اوسط سے 993 رنز بنائے اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 100 کے قریب ہوگیا تھا۔ ان کے 10،773 ون ڈے رنز میں سے زیادہ تر نمبر 5 اور 6 ویں نمبر پر بلے بازی سے بنائے گئے جب دھونی کوکپتانی کا اس ذمہ داری کو سنبھالنے کے بعد وہ ایک بہترین فنشر کے طور پر منظر عام پر آئے۔

گوتم گمبھیر نے کہا کہ وراٹ کوہلی تیسرے آرڈر میں بلے بازی کرتےہیں جبکہ دھونی چھٹے یا ساتویں آرڈر پربلے بازی کرتے ہیں اس لئے ان دونوں کا موازنہ کرنا بہت مشکل ہے۔
گوتم گمبھیر نے کہا کہ وراٹ کوہلی تیسرے آرڈر میں بلے بازی کرتےہیں جبکہ دھونی چھٹے یا ساتویں آرڈر پربلے بازی کرتے ہیں اس لئے ان دونوں کا موازنہ کرنا بہت مشکل ہے۔


ایم ایس دھونی نے 2004 میں اپنا ڈیبیو کیا ۔ جب انہوں نے 3 نمبر پر ذمہ دارانہ بلے بازی کی تو انہوں نے کرکٹ کی دنیا کی توجہ اپنی طرف راغب کی ۔ان کی دو یادگار سنچری 2005 میں سری لنکا اور پاکستان کے خلاف نمبر 3 پوزیشن پر ہی بنائی گئی تھیں۔ شائد عالمی کرکٹ نے ایک اہم چیز کھو دی ہے ، وہ ہے ایم ایس (دھونی) کی کپتانی اور 3 نمبر پر بیٹنگ ، اگر ایم ایس 3 نمبر پر بیٹنگ کرتے تو شاید عالمی کرکٹ کو بالکل مختلف کھلاڑی نظر آتے۔ ایم ایس دھونی نے 2019 ورلڈ کپ کے بعد سے انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلی ہے۔ ورلڈ کپ جیتنے والے کپتان نے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنے مستقبل کے بارے میں خاموشی اختیار کر رکھی ہے یہاں تک کہ اس کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ تاہم ایم ایس دھونی نے مارچ میں انڈین پریمیر لیگ کے لئے چنئی سپر کنگز کے ساتھ تربیت کی تھی۔ دریں اثنا ، پاکستان کے وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل کا خیال ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ایم ایس دھونی کو ہندوستان کا پہلا انتخاب وکٹ کیپر ہونا چاہئے۔
First published: Jun 16, 2020 04:10 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading