உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گوتم گمبھیر نےکہا- علیحدہ سے ٹی 20 بیٹنگ کوچ كی ضرورت نہیں

    آئی پی ایل 2020 کی چمپئن ممبئی انڈینس نے اس سیزن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے ہر کھلاڑی نے جیت میں تعاون دیا، لیکن دائیں ہاتھ کے بلے باز سوریہ کمار یادو کی غضب کی کارکردگی انہیں دوسری ٹیموں سے کافی اوپر لے گئی۔

    آئی پی ایل 2020 کی چمپئن ممبئی انڈینس نے اس سیزن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے ہر کھلاڑی نے جیت میں تعاون دیا، لیکن دائیں ہاتھ کے بلے باز سوریہ کمار یادو کی غضب کی کارکردگی انہیں دوسری ٹیموں سے کافی اوپر لے گئی۔

    سابق سلامی بلے باز نے علیحدہ سے بلے بازی کوچ كی ضرورت سے انکار کرتے ہوئےکہا ہے کہ کامیاب ٹی 20 بلے بازی کوچ بننے کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کا تجربہ ضروری نہیں ہے، کیونکہ ایسے کوچ کا کام کھلاڑیوں کو مثبت ذہنیت کے ساتھ کھیلنے میں مدد کرنا ہے۔ 

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی: ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے سابق سلامی بلے باز گوتم گمبھیر نے ٹی 20 کرکٹ کے لیے علیحدہ سے بلے بازی کوچ كی ضرورت سے انکار کرتے ہوئےکہا ہے کہ کامیاب ٹی 20 بلے بازی کوچ بننے کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کا تجربہ ضروری نہیں ہے، کیونکہ ایسے کوچ کا کام کھلاڑیوں کو مثبت ذہنیت کے ساتھ کھیلنے میں مدد کرنا ہے۔ انہوں نے اسٹار اسپورٹس کے شو کرکٹ کنکٹڈ میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایک خاص فارمیٹ کے لئے الگ سے ٹی 20 بلے بازی کوچ رکھ سکتے ہیں۔ یہ درست نہیں ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ نہیں کھیلے یا کافی کرکٹ نہیں کھیلے شخص کامیاب ٹی 20 بلے بازی کوچ نہیں بن سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی 20 فارمیٹ میں ایک کوچ کا کام آپ کو مثبت ذہنیت کی صلاحیت سے آراستہ کرنا ہے تاکہ آپ اپنا فطری کھیل دکھا سکیں۔

      انہوں نے کہا کہ وہ آپ کو یہ نہیں سكھايےگا کہ لیپ شاٹ کس طرح کھیلنا ہے یا ریورس لیپ کس طرح لگانا ہے۔ دنیا کا کوئی کوچ یہ نہیں کر سکتا۔ گمبھیر نے اگرچہ یہ کہا کہ کامیاب کھلاڑی ہونے سے بہتر سلیکٹر بننے میں مدد ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیاب کوچ بننے کے لیے بہت زیادہ کرکٹ کھیلا ہونا ضروری نہیں ہے لیکن سلیکٹر بننے کے لیے یہ ضروری ہے۔ گوتم گمبھیر نے ممبئی انڈینس کو آئی پی ایل تاریخ کی طاقتور ترین ٹیم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ممبئی انڈینس اپنے سخت فیصلوں کی وجہ سے اتنی کامیاب ہوئی۔واضح رہے کہ روہت شرما کی کپتانی والی ممبئی انڈینس کی آئی پی ایل میں کامیابی غیر معمولی رہی ہے۔سال 2013 میں پہلی بار آئی پی ایل ٹائٹل جیتنے والی اس ٹیم نے روہت کی کپتانی میں پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔اب یہ ٹیم آئی پی ایل کی سب سے کامیاب ٹیم بن کر سامنے آئی ہے اور چار بار ٹرافی جیت چکی ہے۔

      سابق سلامی بلے باز گوتم گمبھیر نے کہا کہ ٹی 20 فارمیٹ میں ایک کوچ کا کام آپ کو مثبت ذہنیت کی صلاحیت سے آراستہ کرنا ہے تاکہ آپ اپنا فطری کھیل دکھا سکیں۔
      سابق سلامی بلے باز گوتم گمبھیر نے کہا کہ ٹی 20 فارمیٹ میں ایک کوچ کا کام آپ کو مثبت ذہنیت کی صلاحیت سے آراستہ کرنا ہے تاکہ آپ اپنا فطری کھیل دکھا سکیں۔


      ممبئی کی کامیابی کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب سال 2013 میں رکی پونٹنگ نے ٹیم کی کپتانی چھوڑ کر کمان روہت کو سونپ دی۔ روہت نے ٹیم کی کپتانی سنبھالی اور اسی سال اس ٹیم نے پہلی بار آئی پی ایل ٹائٹل جیت لیا۔2013 میں ایم ایس دھونی کی چنئی کو شکست دے کر روہت نے پہلی بار اپنی ٹیم کو ٹائٹل دلایا۔اس کے علاوہ اس ٹیم سے متعدد اسٹار کھلاڑی بھی نکلے۔جسپريت بمراه، ہردک پانڈیا اور كرنال پانڈیا اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔
      اب ٹیم انڈیا کے سابق اوپنر بلے باز گوتم گمبھیر نے آئی پی ایل میں ممبئی انڈینز کی کامیابی کا راز بتایا اور کہا کہ اس فرنچائزز کے سخت فیصلوں کی وجہ سے یہ ٹیم اتنی کامیاب ہوئی۔گمبھیر کے مطابق انہوں نے فیصلہ کرنے میں اپنے جذبات کو ایک طرف رکھا اور ٹیم کے مفاد میں فیصلے کئے جس کی وجہ سے یہ ٹیم نئی بلندیوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔
      گمبھیر نے کہا کہ انہوں نے جذباتی ہو کر نہیں بلکہ عملی ہوکر فیصلہ کیا۔جب آپ کوئی سخت فیصلہ کرتے ہیں تو وہاں پر جذبات کے لئے کوئی جگہ نہیں ہونا چاہئے۔اس کے علاوہ انہوں نے ممبئی کے اسکاؤٹنگ نظام کی بھی تعریف کی جنہوں نے جسپريت بمراه اور پانڈیا بھائیوں جیسے ٹیلنٹ کی نشاندہی کی۔اب یہ تینوں کھلاڑی اس ٹیم کے سب سے اہم کھلاڑی کے طور پر ابھرے ہیں۔گوتم گمبھیر نے ممبئی انڈینس کی ٹیم کو آئی پی ایل کی اب تک کی سب سے مضبوط ٹیم قرار دیا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: