உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    جرمنی جمناسٹس کے خاتون کھلاڑیوں نے کی نئی تاریخ رقم، مختصر لباس کے بجائے فل باڈی سوٹ کودی ترجیح

    تصویر:اے پی

    تصویر:اے پی

    جرمنی سے تعلق رکھنے والی ووس نے کہا کہ انہیں اپنے فیصلے پر فخر ہے اور ان کی ملک کے جمناسٹکس فیڈریشن نے ان کی حمایت کی۔ وہیں تین اولمپکس گولڈمیڈلز جیتنے والی الزبتھ سیز (Elisabeth Seitz) کا کہنا ہے کہ وہ فل باڈی سوٹ پہن کر آرام محسوس کرتی ہیں۔

    • Share this:
      ٹوکیو اولمپکس 2020 میں جرمنی جمناسٹس کی خاتون کھلاڑیوں نے ماضی کی روایت کو ختم کرکے ایک نئی پہل کا آغاز کیا ہے۔ جرمنی جمناسٹس کی کھلاڑیوں نے مختصر لباس لیوٹارڈ (leotard) کے بجائے فل باڈی سوٹ کے ساتھ جمناسٹس میں شریک ہو کر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

      جرمنی کی جمناسٹس ٹیم کے اراکین نے کوئی اصول نہیں توڑا، لیکن اس ہفتے معروف جمناسٹسس سارہ ووس (Sarah Voss) کے پورے جسمانی سوٹ نے یورپی آرٹسٹک جمناسٹکس چیمپئن شپ میں ایک نئے دور کا آغاز کردیا ہے۔
      جرمنی جمناسٹس ٹیم کی 21 سالہ رکن سارہ ووس نے کہا کہ ’’ہم پہلے لیوٹارڈ کی عادی تھیں پھر شارٹس پہن کر ٹریننگ کی اجازت مل گئی جس سے پورا دن لیوٹارڈ میں رہنے سے چھٹکارا مل گیا‘‘۔ وہیں تین اولمپکس گولڈمیڈلز جیتنے والی الزبتھ سیز (Elisabeth Seitz) کا کہنا ہے کہ وہ فل باڈی سوٹ پہن کر آرام محسوس کرتی ہیں۔

      تصویر:اے پی
      تصویر:اے پی


      جرمنی جمناسٹس کی کھلاڑیوں سارہ ووس Sarah Voss، پالین شیفر Pauline Schäfer، الیزبتھ سیٹز Elisabeth Seitz اور کم بوئی Kim Bui پر مشتمل ٹیم نے جمعرات کو ٹریننگ کے دوران پہلے ہی یونٹارڈز پہنے ہوئے تھے، جو کہ پورے جسم پر ڈھکا ہوا تھا۔
      جرمنی سے تعلق رکھنے والی ووس نے کہا کہ انہیں اپنے فیصلے پر فخر ہے اور ان کی ملک کے جمناسٹکس فیڈریشن نے ان کی حمایت کی۔

      جرمن فیڈریشن (DTB) نے کہا کہ سوئس شہر باسل میں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے اس کے جمناسٹک میں جنسی زیادتی، فقرہ بازی اور طعن و تشنع کے خلاف مؤقف اختیار کررہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ جنسی استحصال کو روکنے کے لئے سب سے زیادہ موثر ثابت ہوگا‘‘۔

      تصویر:اے پی
      تصویر:اے پی


      ووس نے کہا کہ ’’مختصر لباس میں جمناسٹسس کو بے چینی محسوس ہوتی ہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ نئے ڈرس سے پوری ٹیم میں ایک نئی روح بیدار ہوگی اور وہ سب خود اعتمادی کے ساتھ کھیل پائیں گے۔ ورنہ اس سے قبل جسم کے کئی حصہ کھلے رہنے سے شائقین مذاق اڑایا کرتے تھے اور فقرہ کستے تھے‘‘۔

      جرمن فیڈریشن نے کہا کہ کھیل اور جمناسٹک کے میدان ایسے ہونا چاہئے جہاں خواتین کھلاڑیوں کو ہر وقت اپنے لباس میں آرام محسوس ہوتا ہو۔

      جمعرات کو انسٹاگرام پر پوسٹ کردہ ایک پیغام میں ووس نے اس فیصلے کو "ہماری ٹیم کے دلوں کے قریب" قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہتیر پر اس کی کارکردگی اتنی اچھی نہیں رہی تھی جتنی اس نے امید کی تھی ، لیکن اس کے پیغام نے بڑے پیمانے پر تعریف حاصل کی۔ انھوں نے لکھا "اچھا لگ رہا ہے اور اب بھی خوبصورت نظر آرہا ہے کیوں نہیں؟"

      تصویر:اے پی
      تصویر:اے پی


      واضح رہے کہ حالیہ سالوں میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے متعدد اسکینڈلز کے بعد عالمی جمناسٹک تنظیم کو کڑی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: