گجرات ٹائٹنس کو پہلے ہی میچ میں لگا جھٹکا!فیلڈنگ کرتے ہوئے بری طرح زخمی ہوئے کین ولیمسن

گجرات ٹائٹنس کو پہلے ہی میچ میں لگا جھٹکا!فیلڈنگ کرتے ہوئے بری طرح زخمی ہوئے کین ولیمسن

گجرات ٹائٹنس کو پہلے ہی میچ میں لگا جھٹکا!فیلڈنگ کرتے ہوئے بری طرح زخمی ہوئے کین ولیمسن

کرسٹن نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی ٹیم کا کوئی کھلاڑی زخمی ہو جائے تو یہ افسوسناک بات ہے۔ ہم میدان میں کسی کو اس طرح زخمی ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔

  • News18 Urdu
  • Last Updated :
  • Ahmadabad, India
  • Share this:
    آئی پی ایل کے 146ویں سیزن کا آغاز کل جمعہ 31 مارچ سے ہوچکا ہے۔ احمدآباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں رنگارنگ پروگرام کے بعد گجرات ٹائٹنس اور چنئی سوپر کنگ کے درمیان میچ کھیلا گیا، جس میں گجرات ٹائٹنس نے جیت کے ساتھ اپنی شروعات کی، جیت کے باوجود گجرات ٹائٹنس کے لیے بری خبر سامنے آئی ہے۔ ٹورنامنٹ کے پہلے ہی دن اس کے تجربہ کار بلے باز کین ولیمسن بری طرح زخمی ہوگئے ہیں۔ اس وجہ سے انہیں میدان سے باہر جانا پڑا۔

    میچ کے 13ویں اوور کی تیسری گیند پر ولیمسن باؤنڈری پر زخمی ہو گئے۔ چنئی کے اوپنر ریتوراج گائیکواڑ نے جوشوا لٹل کی گیند پر اونچا شاٹ کھیلا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ گیند چھ رنز پر باہر جائے گی لیکن باؤنڈری لائن پر کھڑے کین ولیمسن نے چھلانگ لگاتے ہوئے گیند کو کیچ کر لیا۔ جیسے ہی وہ باؤنڈری لائن سے باہر گرنے ہی والے تھے کہ انہوں نے گیند کو اندر کی طرف پھینک دیا۔ ولیمسن نے چھ رنز بچائے لیکن اپنے گھٹنے میں چوٹ لگوا بیٹھے۔

    ولیمسن بانڈری سے باہر گرنے کے بعد کراہنے لگے تھے۔ یہ دیکھ کر گجرات کے کئی کھلاڑی ان کے پاس پہنچ گئے۔ ٹیم کے فزیو بھی ولیمسن کے پاس گئے۔ یہاں تک کہ اپوزیشن ٹیم چنئی سوپر کنگس کے فزیو نے ولیمسن کی مدد کی۔ ایسا لگا کہ ولیمسن کی چوٹ سنگین ہے تو انہین دو کھلاڑی سہارا دے کر میدان سے باہر لے گئے۔

    یہ بھی پڑھیں:

    ریتوراج پر بھاری پڑے شبمن گل، گجرات نے چنئی کو دی 5 وکٹوں سے شکست

    یہ بھی پڑھیں:

    میچ کے دوران گجرات ٹائٹنز کے مینٹور گیری کرسٹن سے ولیمسن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ زخم اچھے نہیں لگ رہے ہیں لیکن امید ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گے۔ اس بارے میں ابھی زیادہ کچھ معلوم نہیں ہے۔ کرسٹن نے یہ بھی کہا کہ کسی بھی ٹیم کا کوئی کھلاڑی زخمی ہو جائے تو یہ افسوسناک بات ہے۔ ہم میدان میں کسی کو اس طرح زخمی ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔
    Published by:Shaik Khaleel Farhaad
    First published: