اپنا ضلع منتخب کریں۔

    پاکستان کیلئے ڈیبیو کرنے سے پہلے وسیم اکرم نے یاد کیے اپنے مشکل دن! کہی یہ باتیں

    اپنے دوسرے ٹیسٹ میچ میں، اکرم کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا

    اپنے دوسرے ٹیسٹ میچ میں، اکرم کو پلیئر آف دی میچ قرار دیا گیا

    وسیم اکرم نے اپنے ماضی کی یادوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد قذافی اسٹیڈیم میں کیمپ کے دوران میں نے جاوید میاں داد کو گیند کروائی جو انجری سے باہر آ رہے تھے۔ جاوید بھائی بہت متاثر ہوئے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Jammu | Delhi | Hyderabad | Lucknow
    • Share this:
      پاکستان کے سابق کرکٹر وسیم اکرم (Wasim Akram) کا شمار پاکستان کے کامیاب ترین باؤلرز میں ہوتا ہے۔ اپنے شاندار کیریئر میں بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز وسیم اکرم نے ٹیسٹ اور ون ڈے انٹرنیشنل (ODI) میں ایک ساتھ 916 بین الاقوامی وکٹیں حاصل کیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے قومی ٹیم کے لیے بغیر فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلے ڈیبیو کیا۔

      دی گریڈ کرکٹر کے ساتھ بات چیت میں اکرم نے یادداشت کی گلی میں اتر کر پاکستان کے لیے ڈیبیو سے قبل اپنی زندگی کے دور کو یاد کیا۔ اس نے بتایا کہ وہ کس طرح پاکستان میں کرکٹ کلب میں شامل ہونا چاہتا تھا لیکن فیس کے طور پر پاکستانی کرنسی میں 100 روپے ادا کرنے کا متحمل نہیں تھا۔ اکرم نے کہا کہ میں نے لاہور کے ایک کلب میں شمولیت اختیار کی جب میرے ایک پڑوسی اور سابق فرسٹ کلاس کرکٹر خالد محمود نے مجھے کھیلتے ہوئے دیکھا۔

      انھوں نے کہا کہ میں نے انھیں بتایا کہ میں کلب میں شامل ہونے کے لیے ماہانہ 100 روپے برداشت نہیں کر سکوں گا۔ تب انھوں نے کہا کہ فکر مت کرو وہ تم سے کوئی فیس نہیں لیں گے! وسیم اکرم نے اپنے ماضی کی یادوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد قذافی اسٹیڈیم میں کیمپ کے دوران میں نے جاوید میاں داد کو گیند کروائی جو انجری سے باہر آ رہے تھے۔ جاوید بھائی بہت متاثر ہوئے۔

      یہ بھی پڑھیں: 

      انہوں نے کلب کے زیر اہتمام میچوں میں اپنی پرفارمنس سے سب کو متاثر کیا اور پھر 85-1984 کے سیزن میں نیوزی لینڈ کی ٹیم کے خلاف فرسٹ کلاس میچ میں کھیلنے کا موقع ملا۔ ایک ماہ کے اندر نیوزی لینڈ پہنچ گیا اور میرا نام ان کے خلاف فرسٹ کلاس میچ کھیلنے والی ٹیم میں شامل تھا۔ ٹیم کے منیجر نے مجھے 3000 روپے دیئے۔

      ’یہ میرے لیے بہت پیسہ تھا۔ میرے والد مجھے 200 ماہانہ دیتے تھے۔ پہلی اننگز میں میں نے 7/50 حاصل کیے - مجھے نہیں معلوم کیسے!‘
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: