உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    'IPL جیسی ٹی20 ٹیموں سے خطرے میں انٹرنیشنل کرکٹ...‘ ICC چیئرمین نے ظاہرکیا خدشہ

    آئی پی ایل کے سبب مستقبل میں دوطرفہ سیریز کا انعقاد کم ہوسکتا ہے۔ آئی سی سی کے چیئرمین گریگ بارکلے نے ایسا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ وہ آئی پی ایل فائنل کے لئے ہندوستان آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کرکٹ لیگ کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا تو اس کا سیدھا نقصان دو طرفہ سیریز کو ہوگا۔ حالانکہ انہوں نے آئی پی ایل کو شاندار ٹورنا منٹ بتایا۔ 

    آئی پی ایل کے سبب مستقبل میں دوطرفہ سیریز کا انعقاد کم ہوسکتا ہے۔ آئی سی سی کے چیئرمین گریگ بارکلے نے ایسا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ وہ آئی پی ایل فائنل کے لئے ہندوستان آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کرکٹ لیگ کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا تو اس کا سیدھا نقصان دو طرفہ سیریز کو ہوگا۔ حالانکہ انہوں نے آئی پی ایل کو شاندار ٹورنا منٹ بتایا۔ 

    آئی پی ایل کے سبب مستقبل میں دوطرفہ سیریز کا انعقاد کم ہوسکتا ہے۔ آئی سی سی کے چیئرمین گریگ بارکلے نے ایسا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ وہ آئی پی ایل فائنل کے لئے ہندوستان آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کرکٹ لیگ کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا تو اس کا سیدھا نقصان دو طرفہ سیریز کو ہوگا۔ حالانکہ انہوں نے آئی پی ایل کو شاندار ٹورنا منٹ بتایا۔ 

    • Share this:
      نئی دہلی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے سبب بین الاقوامی کرکٹ پر برا اثر پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ آئی سی سی کے چیئرمین گریگ بارکلے نے ایک دن پہلے کہا کہ اگر آئی پی ایل جیسی ٹی20 لیگ کی مدت اگر بڑھتی رہی، تو مستقبل میں بین الاقوامی ٹیموں کے درمیان کم دو طرفہ سیریز کھیلی جاسکتی ہے۔ آئی پی ایل 2022 میں دو نئی ٹیموں کے جڑنے کے سبب اس بار لیگ میں 74 مقابلے ہوں گے۔ گزشتہ سیزن تک آئی پی ایل میں 8 ٹیمیں کھیلتی تھیں اور کل 60 مقابلے کھیلے گئے تھے۔ اس سیزن کی شروعات سے پہلے دو نئی ٹیموں کو لیگ سے جوڑا گیا۔ اسی وجہ سے 14 میچ کا اضافہ ہوا اور یہ پورے دو ماہ تک چلنے والا ٹورنا منٹ بھی بن گیا۔

      یہ پوچھے جانے پر کہ آئی پی ایل اور بین الاقوامی کلینڈر کے درمیان توازن کیسے بنایا جاتا ہے؟ بارکلے نے کہا، ’ایسے گھریلو ٹورنا منٹ رکن ممالک کے دائرہ اختیار کا معاملہ ہے۔ وہ اسے اپنی مرضی کے مطابق، چلاسکتے ہیں۔ لیکن اگر ایسے ٹورنا منٹ کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کے لمبی مدت تک چلنے کا سیدھا سا مطلب انٹرنیشنل ٹیموں کے درمیان دو طرفہ مقابلوں میں کمی آئے گی‘۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      IPL 2022: دنیش کارتک کو ایلیمینیٹر میچ کے بعدلگی پھٹکار، جانئے پورا معاملہ

      انہوں نے مزید کہا، ’ہم یہ جانتے ہیں کہ سال میں صرف 365 دن ہوتے ہیں۔ ایسے میں اگر اور گھریلو کرکٹ لیگ ہوگی، جو کھلاڑیوں کے لئے متوجہ ہو، تو پھر کسی نہ کسی ٹورنا منٹ یا سیریز کو اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا اور مجھے نہیں لگتا کہ آئی سی سی ایونٹ کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ ہر سال آئی سی سی کے ایونٹ ہو رہے ہیں اور اس میں کافی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں اور اس کے اس کی مدت زیادہ لمبی ہوتی ہے۔ تو ایسا ہونے کی صورت میں دو طرفہ سیریز ہی کم کھیلی جائے گی‘۔

      آئی پی ایل شاندار ٹورنا منٹ ہے: آئی سی سی چیئرمین

      آئی سی سی چیئرمین بارکلے نے بھلے ہی دوطرفہ سیریز سے متعلق تشویش ظاہر کی ہے۔ لیکن ان کی نظر میں آئی پی ایل شاندار ٹورنا منٹ ہے۔ انہوں نے کہا، ’پہلی بار میں یہ کہنا چاہوں گا کہ 2 سال سفری پابندیوں کے بعد میں ہندوستان آکر خوش ہوں۔ آئی پی ایل کا فائنل کھیلا جانا ہے۔ مجھے آئی پی ایل پسند ہے، یہ واقعی شاندار ٹورنا منٹ ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ بی سی سی آئی نے کرکٹ کے لئے شاندار کام کیا ہے۔ یہ ایسا ٹورنا منٹ ہے، جسے دیکھنا اور اس کا حصہ بننا کسی کے لئے بھی فخر کی بات ہے۔ اس کا پورا سہرا بی سی سی آئی اور ہندوستان کو جاتا ہے‘۔

       

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: