உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    رمیز راجہ کو ICC نے دیا بڑا جھٹکا، جے شاہ کو ملی بڑی ذمہ داری، بارکلے اکتوبر تک بنے رہیں گے صدر

    رمیز راجہ کو ICC نے دیا بڑا جھٹکا، جے شاہ کو ملی بڑی ذمہ داری

    رمیز راجہ کو ICC نے دیا بڑا جھٹکا، جے شاہ کو ملی بڑی ذمہ داری

    ICC Board Meeting: آئی سی سی کی دو روزہ میٹنگ اتوار کو دبئی میں اختتام پذیر ہوگئی۔ پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ نے آئی سی سی کے زیر اہتمام پاکستان، ہندوستان، آسٹریلیا اور انگلینڈ کو شامل کرتے ہوئے چار ممالک کے سالانہ ٹی 20 یا یک روزہ ٹورنامنٹ کے لئے وہائٹ پیپر تیار کیا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (ICC) کی بورڈ نے اتوار کو اپنے صدر گریگ بارکلے کو اکتوبر کے آخر تک اپنی مدت پورا کرنے کے لئے تیار کرلیا۔ اب اس عالمی یونٹ کو نیا صدر تلاش کرنے کے لئے پورا وقت ملے گا اور اس میں ہندوستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ بڑا کردار نبھا سکتا ہے۔ اس میٹنگ میں ایک اہم فیصلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر رمیز راجہ کے چار ممالک کے ٹورنا منٹ کی تجویز کو بورڈ کے ذریعہ اتفاق رائے سے مسترد کردیا گیا۔ اس سے غیر جانبدار مقامات پر ہندوستان بمقابلہ پاکستان میچوں کا امکان ختم ہوگیا۔

      ICC Board Meeting: آئی سی سی کی دو روزہ میٹنگ اتوار کو دبئی میں اختتام پذیر ہوگئی۔ پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ نے آئی سی سی کے زیر اہتمام پاکستان، ہندوستان، آسٹریلیا اور انگلینڈ کو شامل کرتے ہوئے چار ممالک کے سالانہ ٹی 20 یا یک روزہ ٹورنامنٹ کے لئے وہائٹ پیپر تیار کیا تھا۔

      بی سی سی آئی سکریٹری جے شاہ کو آئی سی سی کرکٹ کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔ اتوار کو دبئی میں شروع ہوئی دو روزہ بورڈ کی میٹنگ بی سی سی آئی کے لئے اچھا رہا کیونکہ اکتوبر تک گریگ بارکلے کے بنے رہنے کے سبب اسے اس عہدے کے لئے اپنا منصوبہ بنانے کے لئے کافی وقت ملے گا۔ آئی سی سی بورڈ کے ایک رکن نے نام نہ شائع کرنے کی شرط پر کہا، بارکلے کے لئے پھر سے نامزدگی پر کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا گیا ہے، لیکن وہ اکتوبر کے آخر تک صدر کے طور پر اپنا موجودہ دوسال کی مدت پوری کریں گے۔ اس لئے ایک نئے صدر کو نامزد کرنے کا عمل صرف نومبر میں شروع ہوگا‘۔

      پہلے صدر عہدہ کے لئے نامزدگی جون کے ماہ میں ہونی تھی، لیکن اراکین بورڈوں کے درمیان تبادلہ خیال کے بعد اسے بدلا گیا۔ اس فیصلے سے بی سی سی آئی کو اپنا منصوبہ بنانے کے لئے وقت ملے گا کیونکہ ستمبر میں ان کا اے جی ایم ہونے کا امکان ہے۔ اس اے جی ایم کے بعد قومی ادارے کی تشکیل واضح ہو جائے گی۔ بی سی سی آئی پہلے ہی لوڈھا سمیتی کی سفارشات میں کچھ تبدیلی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ اس کے کئی ضوابط کو عملی طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا بی سی سی آئی صدر سوربھ گانگولی اور جے شاہ ستمبر میں کولنگ آف (لازمی وقفہ مدت) کے لئے جاتے ہیں یا نہیں۔

      رمیز راجہ کو نہیں ملی توجہ

      آئی سی سی کے آئندہ صدر کے طور پر جے شاہ کا نام سرخیوں میں ہے، لیکن نہ تو خود بی سی سی آئی سکریٹری اور نہ ہی ان کے قریبی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ بورڈ کی میٹنگ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے صدر رمیز راجہ کے منصوبہ کو زیادہ توجہ نہیں ملی۔ رمیز راجہ نے آئی سی سی کے زیر اہتمام پاکستان، ہندوستان، آسٹریلیا اور انگلینڈ کو شامل کرتے ہوئے چار ممالک کے سالانہ ٹی20 یا یک روزہ ٹورنا منٹ کے لئے وہائٹ پیپر تیار کیا تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے عالمی ادارہ پانچ سالوں میں 750 ملین ڈالر (تقریباً 57 ارب روپئے) کا ریوینیو حاصل کر سکتا ہے، جس کا بڑا حصہ ان چاروں ممالک کو دیا جاسکتا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: