ہوم » نیوز » اسپورٹس

ورلڈ کپ 2019: ٹیم انڈیا ریورس سوئنگ کے لئے اپنا رہی ہے یہ خاص حکمت عملی

ٹیم انڈیا کی اس حکمت عملی پر سلامی بلے باز لوکیش راہل نے کہا کہ گیند ہر اوور کے ساتھ پرانی ہوتی جائے گی۔

  • Share this:
ورلڈ کپ 2019: ٹیم انڈیا ریورس سوئنگ کے لئے اپنا رہی ہے یہ خاص حکمت عملی
ٹیم انڈیا کی اس حکمت عملی پر سلامی بلے باز لوکیش راہل نے کہا کہ گیند ہر اوور کے ساتھ پرانی ہوتی جائے گی۔

ون ڈے کرکٹ میں ایک اننگ میں دو نئی گیندوں کے قانون کا کئی قدآور کرکٹر مخالفت کر چکے ہیں۔ دراصل اس سے بلے بازوں کو تو فائدہ ملتا ہے لیکن گیند بازوں کو ریورس سوئنگ کرانے میں کافی مشکل ہوتی ہے۔ ورلڈ کپ کے دوران ٹیم انڈیا نے اس مشکل کا حل ڈھونڈ نکالا ہے۔ ٹیم نے حکمت عملی تیار کی ہے کہ جب بھی گیند کسی فیلڈر کے پاس جائے تو وہ ون باؤنس کے ساتھ لوٹائے گا۔ اس سے گیند جلد ہی اپنی چمک کھو دے گی۔ چمک ختم ہونے پر بالر کو بہتر پکڑ کے ساتھ ریورس سوئنگ کرانے میں مدد ملےگی۔

ٹیم انڈیا کی اس حکمت عملی پر سلامی بلے باز لوکیش راہل نے کہا کہ گیند ہر اوور کے ساتھ پرانی ہوتی جائے گی۔ جب آپ فیلڈ کرتے وقت گیند  باؤنس کے ساتھ لوٹاتے ہو تو وہ جلد ہی پرانی ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ ہم گیند کو پرانی کرنے کیلئے کچھ اور نہیں کر سکتے۔ بنگلہ دیش کے خلاف کھیلے گئے میچ میں 4 وکٹ جھٹکنے والے تیز گیند باز جسپریت بمراہ نے بھی راہل کی بات کی حمایت کی ہے۔

جسپریت بمراہ نے کہا کہ ہماری سیاست اسپنرس کی گیند بازی کرنے سے پہلے گیند کو جلد پرانی کرنے کی ہے۔ نئی گیند زیادہ کچھ کرنہیں رہی تھی۔ گیند جتنی پرانی ہوگی وکٹ بھی اتنا ہی سست ہو جائے گا۔ ہم جانتے تھے کہ ایک مرتبہ گیند پرانی ہو گئی تو بلے باز کو اسے مارنا آسان نہیں ہوگا۔۔

سچن تیندولکر کر چکے ہیں دو نئی گیند کے قانون کی تنقید 

سابق کرکٹر سچن تندولکر بھی ون ڈے کی ایک اننگ میں دو نئی گیندوں کی تنقید کر چکے ہیں۔ سچن نے کہا تھا کہ ایک اننگ میں دو نئی گیندیں ون ڈے کرکٹ کے خاتمے کی تیاری کیلئے سب سے صحیح ہے۔  اب ایک بھی گیند پرانی ہونے کا وقت نہیں ملے گا جس سے وہ ریورس سوئنگ ہوسکے۔ ہم نے کافی طویل وقت سے ریورس سوئنگ نہیں دیکھی جو آخری اووروں کا اہم حصہ ہوتی تھی۔

First published: Jul 04, 2019 08:15 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading