ہوم » نیوز » اسپورٹس

عمران طاہر: پیارکی خاطرچھوڑ دیا تھا پاکستان، آج ہے جنوبی افریقہ کا 'سپراسٹار' کھلاڑی

ویسے توکرکٹ میں پیارکی کہانی کی طویل فہرست موجود ہے، لیکن عمران طاہرکی کہانی کافی مختلف اوردلچسپ ہے۔

  • Share this:
عمران طاہر: پیارکی خاطرچھوڑ دیا تھا پاکستان، آج ہے جنوبی افریقہ کا 'سپراسٹار' کھلاڑی
عمران طاہر وکٹ لینےکے بعد جشن کچھ اس انداز میں مناتے ہیں۔

جنوبی افریقہ کے اسٹار اسپنرعمران طاہرعالمی کپ 2019 کے دوران جب بنگلہ دیش کے خلاف لندن کے کینگٹن اوول میدان پراتریں گے تو یہ ان کا 100 واں ونڈے میچ ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی وہ جنوبی افریقہ کے لئے 100 یا اس سے زیادہ میچ کھیلنے والے 24 ویں کھلاڑی بن جائیں گے اوریہ اپنے آپ میں بڑی بات ہے۔ یہ 40 سالہ کھلاڑی اسپنرہونے کے باوجود اپنے طوفانی جشن کے لئے پوری دنیا میں مشہور ہے اوران کا یہ سلسلہ عالمی کپ کے بعد تھم جائے گا۔


ویسے اس عظیم کھلاڑی کا کرکٹ کیریئرتقریباً دودہائی قدیم ہوگئی ہے اوراس دوران انہوں نے پوری دنیا کی 37 ٹیم کے لئے اپنا دم دکھایا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس دوران عمران طاہرنے تین براعظم میں کرکٹ کھیلتے ہوئے 10 ہزارگیندیں ڈالی ہیں۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ وہ جنوبی افریقہ کے لئے کرکٹ کے تینوں فارمیٹ میں اہم ہیں اورجیت دلانے کے معاملے میں وہ کسی سے کم نہیں ہیں۔ جبکہ عمران طاہراپنے کھیل کے ساتھ ساتھ اپنی لو اسٹوری کی وجہ سے بھی سرخیوں میں رہے ہیں۔


عمران طاہرکی پیارکی کہانی


ویسے توکرکٹ میں پیارکی کہانی کی طویل فہرست موجود ہے، لیکن عمران طاہرکی کہانی کچھ الگ ہے۔ آخراس کھلاڑی نے اپنے پیارکی خاطرسرحدوں کی پراوہ کئے بغیرسرحدوں کو پارکیا ہے۔ جی ہاں، وہ اپنے پیارکی وجہ سے پاکستان سے جنوبی افریقہ پہنچ گئے تھے۔ بات 1998 کی ہے جب عمران پاکستان کی انڈر-19 ٹیم کے ساتھ جنوبی افریقہ کے دورے پر گئے تھے۔ اسی دوران ان کی ملاقات جنوبی افریقہ میں رہ رہی ایک ہندوستانی نژاد لڑکی سمیہ دلدارسے ہوئی اورپھر دونوں کے درمیان کافی اچھی دوستی ہوگئی۔

عمران طاہر اوران کی اہلیہ سمیہ۔ تصویر: پی ٹی آئی
عمران طاہر اوران کی اہلیہ سمیہ۔ تصویر: پی ٹی آئی


پھراٹھایا یہ بڑا قدم

وقت کے ساتھ عمران طاہراورسمیہ کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بڑنے لگا اورپھراس کھلاڑی نے جنوبی افریقہ میں ہی مقیم ہونے کا فیصلہ کرلیا۔ جبکہ انہوں نے 2006 میں سمیہ دلدارسے شادی کرلی اورشادی کے کچھ وقت کے بعد عمران طاہرکو جنوبی افریقہ کی شہریت مل گئی۔ جبکہ ان کا کرکٹ سفرڈالفنس ٹیم کے ساتھ شروع ہوا اورپھر وہ ٹائٹنس کے ساتھ کھیلتے ہوئے جنوبی افریقہ کی جرسی پہننے میں کامیاب ہوگئے۔
اس طرح ملی ٹیم میں جگہ

گھریلو کرکٹ میں زبردست کارکردگی کرنے کے بعد عمران طاہرکو 2011 عالمی کپ کے پہلے ہندوستان اورجنوبی افریقہ کے درمیان ہوئی ونڈے سیریز کے لئے ٹیم میں شامل کیا گیا تھا، لیکن ان کو ایک بھی میچ نہیں کھیلنے کوملا۔ دراصل اس دوران کپتان گریم اسمتھ نے ایک حکمت عملی کے تحت ان کو اس سیریز میں نہیں کھلانے کا فیصلہ لیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ عمران طاہرکا جادو ہرکوئی عالمی کپ میں دیکھ اوراس ہونہار اسپنرنے 2011 عالمی کپ میں ویسٹ انڈینزکے خلاف دہلی میں فیروزشاہ کوٹلہ میدان میں اپنی ٹیم کے 7 وکٹ کی جیت میں اہم کردارنبھا کر شاندارآغاز کیا۔ انہوں نے 10 اوورمیں ایک میڈن رکھتے ہوئے 41 رن دے کرچاروکٹ لئے اوریہ اس میچ میں جنوبی افریقہ کی طرف سے سب سے بہترین کارکردگی تھی۔ جبکہ اس دوران رام نریش سرون اورشیو نارائن چندرپال جیسے بہترین کھلاڑیوں کو آوٹ کیا تھا۔ اس ٹورنامنٹ میں جنوبی افریقہ نے رابن پیٹرسن اورعمران طاہرکے دم پرمخالف ٹیموں کو زبردست پریشان کیا تھا۔ اس دوران پیٹرسن نے 15.86 کی اوسط سے 15 اورعمران نے 10.71 کی اوسط سے 14 شکاربنائے تھے۔



عمران طاہر جنوبی افریقہ کے اسٹار اسپنر ہیں۔
عمران طاہر جنوبی افریقہ کے اسٹار اسپنر ہیں۔



عمران طاہر بنے اسٹار

عالمی کپ 2011 میں زبردست کارکردگی کے بعد عمران طاہر کو ٹسٹ اورٹی -20 کرکٹ ٹیم میں بھی جگہ مل گئی اورانہوں نے اپنے کھیل سے اسے صحیح بھی ثابت کیا۔ 20 ٹسٹ میں 40.24 کی اوسط سے 57 شکارکئے تو38 ٹی -20 میں ان کے نام 63 وکٹ (اوسط 15.04 ) درج ہیں۔ جبکہ یہ اب تک 99 ونڈے میچوں میں 24.29 کی اوسط سے 164 شکار کرچکے ہیں۔ عمران ونڈے میں جنوبی افریقہ کے لئے وکٹ لینے کے معاملے میں 8 ویں نمبرپرہیں اوروہ مورنے مورکل (180) کو پیچھے چھوڑنے کا دم رکھتے ہیں۔ جبکہ عمران نے چاریا اس سے کم گیندوں پرایک وکٹ لینے کا کارنامہ انجام دیا ہے۔ وہیں وہ گریم اسمتھ کے بعد اے بی ڈیویلیئرس اوراب فاف ڈوپلیسی کے منصوبوں میں بھی فٹ بیٹھے ہیں اورمیچ ونرثابت ہوئے ہیں۔

 عمران طاہرنے یہ کہا

اپنے پیارکی خاطرپاکستان چھوڑنے والے اس کھلاڑی کا کرکٹ سفرکافی دلچسپ رہا ہے اوروہ اپنی اسپن گیند بازی کے دم پرپوری دنیا کے بلے بازوں کو نچانا بخوبی جانتے ہیں۔ حالانکہ ان کا اصلی مقصد ٹیم کو چمپئن بنانا ہے۔ جبکہ وہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم ٹریسا کے ذریعہ دیئے گئے اعزازکو بے حد خاص مانتے ہیں۔

عمران نے کہا کہ 'یہ میرے لئے بہت اہم ہے۔ جسے میں کبھی الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ میں ایک ایسا شخص ہوں، جو بہت ساری مشکلا سے گزرا ہوں۔ میں نے اپنے والد ین کو بغیر انٹر نیشنل کرکٹ دیکھےکھودیا۔ جبکہ میں گزشتہ دوسال سےاپنے بھائی بہنوں کونہیں دیکھا ہے۔ میں جس ملک کےلئےکرکٹ کھیل رہا ہوں، وہ میرے لئےاہم ہے اورمجھےحقیقت میں فخر ہے۔ میں اپنی فیملی کا شکرگزارہوں، حالانکہ وہ سمجھتے ہیں کہ میں ان سے دورہوں، لیکن اس کی ایک اہم وجہ ہے'۔ سچ کہا جائے تو عمران طاہر نے اپنے کرکٹ کیریئر کا تصوراپنے خواب میں بھی نہیں کیا ہوگا، اس خواب کو پورا کرنے میں ان کی بیوی سمیہ نے کافی مدد کی ہے۔ وہیں جب وہ 14 جولائی کو عالمی کپ کی ٹرافی اپنے ہاتھ میں اٹھانے میں کامیاب رہے تھے تو یہ ان کی زندگی کے لئے واقعی خاص دن ہوگا۔

First published: Jun 02, 2019 02:30 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading