ہوم » نیوز » اسپورٹس

IND vs PAK: عالمی کپ آتے ہی بڑھ جاتا ہے پاکستان کا درد، 7 مقابلے ہوئے، لیکن ہر بار ملی شکست

IND vs PAK: گزشتہ کئی سالوں سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ سیریز بند ہے، لیکن بین الاقوامی مقابلوں میں دونوں ٹیمیں کئی بار مدمقابل ہوچکی ہیں۔ دو طرفہ سیریز میں بھلے ہی پاکستان نے زیادہ جیت درج کی ہو، لیکن عالمی کپ میں وہ ابھی تک ہندوستان کو شکست نہیں دی پائی ہے۔

  • Share this:
IND vs PAK: عالمی کپ آتے ہی بڑھ جاتا ہے پاکستان کا درد، 7 مقابلے ہوئے، لیکن ہر بار ملی شکست
عالمی کپ آتے ہی بڑھ جاتا ہے پاکستان کا درد، 7 مقابلے ہوئے، لیکن ہر بار ملی شکست

نئی دہلی: ہندوستان اور پاکستان (India vs Pakistan) کے درمیان ٹی-20 سیریز کو لے کر خبریں چل رہی ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان 13-2012 کے بعد سے کوئی دوطرفہ سیریز نہیں ہوئی ہے۔ یہ دونوں ٹیمیں 2013 کے بعد سے صرف ایشیا کپ اور آئی سی سی ٹورنامنٹ میں ہی ایک دوسرے سے مدمقابل ہیں، لیکن پاکستانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسی سال دونوں ملک ٹی-20 سیریز کھیل سکتے ہیں۔ اس خبر کے درمیان آج ہی کے دن 1992 میں عمران خان کی کپتانی میں آئی سی سی ورلڈ کپ (ICC World Cup) جیتا تھا۔ بھلے ہی پاکستان نے عالمی کپ جیت لیا ہو، لیکن وہ عالمی کپ میں ہندوستان کو کبھی شکست نہیں دے پایا ہے۔


اب تک عالمی کپ میں ہندوستان نے پاکستان کو سات بار شکست دی ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ سیریز بند ہے، لیکن بین الاقوامی مقابلوں میں دونوں ٹیمیں کئی بار مد مقابل ہوچکی ہیں۔ دو طرفہ سیریز میں بھلے ہی پاکستان نے زیادہ جیت درج کی ہو، لیکن عالمی کپ میں وہ ابھی تک ہندوستان کو شکست نہیں دے پائی ہے۔ دو بار کی فاتح ہندوستان نے اب تک عالمی کپ میں سخت حریف پاکستان کا سات بار سامنا کیا ہے اور ہر بار ہندوستانی ٹیم کو کامیابی ملی ہے۔ پہلی بار دونوں ٹیمیں 1992 میں مدمقابل ہوں گی اور ہندوستان نے اپنے پڑوسی کے خلاف جیت کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، وہ آج تک قائم ہے۔

1992 میں پہلی بار: آئی سی سی عالمی کپ کے دوران ہندوستان اور پاکستان کا سامنا پہلی بار ہوا تھا۔ اس میچ میں پاکستان کو 43 رنوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ہندوستانی ٹیم نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 49 اوور میں سات وکٹ گنواکر 216 رن بنائے تھے۔ اس میچ میں سچن تندولکر نے ناٹ آوٹ 54 رنوں کی اننگ کھیلی تھی۔ اس کے جواب میں ہندوستانی گیند بازوں نے پاکستانی ٹیم کو 173 رنوں پر ہی سمیٹ دیا تھا۔ سچن تندولکر کو ’مین آف دی میچ‘ منتخب کیا گیا تھا۔


1996 میں دوسری بار: عالمی کپ میں یہ دوسرا موقع تھا، جب ہندوستان اور پاکستان آمنے سامنے تھے۔ ہندوستانی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی منتخب کی۔ اس میچ میں نوجوت سنگھ سدھو نے 93 رنوں کی شاندار اننگ کھیلی اور ہندوستان نے 287 رنوں کا اسکور بنایا۔ پاکستان نے اچھی شروعات کی، لیکن ہندوستانی گیند بازوں نے پوری ٹیم کو 248 رنوں پر آل آوٹ کر دیا۔ پاکستان یہ مقابلہ 39 رنوں سے ہارگیا۔ اس میچ میں نوجوت سنگھ سدھو ’مین آف دی میچ‘ بنے۔

1999میں تیسری بار: اس بار ہندوستان نے پاکستان کو 47 رنوں سے شکست دی۔ حالانکہ، اس ٹورنامنٹ میں ہندوستان کی کارکردگی کافی مایوس کن رہی تھی، لیکن پاکستان کے خلاف ٹیم انڈیا نے پورا دم دکھایا۔ ہندوستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کا انتخاب کیا۔ راہل دراوڑ نے 61 رنوں کی اننگ کھیلی اور ہندوستان نے 6 وکٹ پر 227 رن بنائے۔ اس کے جواب میں پاکستانی ٹیم 180 رنوں پر ہی آل آوٹ ہوگئی۔ اس میچ کے ’مین آف دی میچ’ وینکٹیش پرساد رہے تھے۔ انہوں نے پانچ وکٹ حاصل کئے تھے۔

2003 میں چوتھی بار: سوربھ گانگولی کی کپتانی میں اس بار عالمی کپ میں ہندوستانی ٹیم فائنل تک پہنچی تھی، لیکن فائنل میں اسے آسٹریلیا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس عالمی کپ میں ہندوستان نے پاکستان کو 6 وکٹ سے شکست دی تھی۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی کی اور اور 7 وکٹ کے نقصان پر 273 رن بنائے۔ اس کے جواب میں ہندوستان نے 45.4 اوور میں چار وکٹ کے نقصان پر ہی ہدف کو حاصل کرلیا۔ اس میچ میں سچن تندولکر نے 98 رن کی اننگ کھیلی اور انہیں ’مین آف دی میچ‘ منتخب کیا۔

2011 میں پانچویں بار: اس عالمی کپ کو ہندوستان نے دوسری بار جیتا تھا۔ فائنل جیتنے سے پہلے سیمی فائنل میں ہندوستان کا سامنا پاکستان کے ساتھ ہوا تھا۔ ہندوستان نے سیمی فائنل میں پاکستان کو 29 رنوں سے شکست دے کر فائنل میں اپنی جگہ بنائی تھی۔ ہندوستان نے ٹاس جیت کر پہلے بلے بازی منتخب کی اور 9 وکٹ گنواکر 260 رن بنائے۔ جواب میں پاکستان کی ٹیم 231 رنوں پر ہی آوٹ ہوگئی۔ اس میچ میں سچن تندولکر نے 85 رنوں کی اننگ کھیلی اور انہیں ’مین آف دی میچ‘ منتخب کئے گئے۔

2015 میں چھٹی بار: اس عالمی کپ میں ہندوستان نے پاکستان کے خؒاف 76 رنوں سے یکطرفہ جیت حاصل کی تھی۔ ہندوستان نے ٹاس جیتا اور پہلے بلے بازی کی۔ اس میچ میں وراٹ کوہلی نے 107 رنوں کی اننگ کھیلی اور ہندوستان نے 7 وکٹ گنواکر 300 رن بنائے۔ جواب میں پاکستانی ٹیم 224 رنوں پر سمٹ گئی۔ اس میچ میں وراٹ کوہلی کو ’مین آف دی میچ‘ منتخب کیا گیا تھا۔

2019 میں ساتویں بار: اس عالمی کپ میں ہندوستان نے اپنی ناقابل شکست ریکارڈ کو برقرار رکھا۔ میچ کے دوران بار بار بارش کے سبب فیصلہ ڈکورتھ لوئس ضابطے سے ہوا اور ہندوستان نے 89 رن سے پاکستان کے خلاف جیت حاصل کی۔ اس میچ میں روہت شرما نے 140 رن بنائے۔ 50 اوور میں 5 وکٹ گنواکر 336 رن بنائے۔ جواب میں پاکستان کی ٹیم نے ترمیم شدہ ہدف 40 اووروں میں 302 رن کے آگے 6 وکٹ پر 212 رن ہی بناسکی۔ اس میچ میں روہت شرما ’مین آف دی میچ‘ منتخب ہوئے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Mar 25, 2021 09:51 PM IST