ہوم » نیوز » اسپورٹس

محمد سراج کو گالیاں دینے پر بولے شعیب اختر- 2001 کے بعد سے مسلمانوں نے بہت نسلی تعصب برداشت کیا

IND vs AUS, 3rd Test: شعیب اختر نے اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو جاری کرکے کہا، ’9/11 کے بعد 2001 میں مسلمانوں نے بہت نسلی تعصب برداشت کیا ہے۔ اگر 60 بندوں نے دہشت گردی میں حصہ لیا تو 160 ملین لوگوں نے اسے برداشت کیا۔ اس حادثہ کو انٹرنیشنل میڈیا نے اتنا بڑا چڑھا کے پیش کیا کہ 160 ملین لوگوں کو انہوں نے دہشت گرد بنا دیا۔

  • Share this:
محمد سراج کو گالیاں دینے پر بولے شعیب اختر- 2001 کے بعد سے مسلمانوں نے بہت نسلی تعصب برداشت کیا
محمد سراج کو گالیاں دینے پر بولے شعیب اختر- 2001 کے بعد سے مسلمانوں نے بہت نسلی تعصب برداشت کیا

نئی دہلی: ہندوستان اور آسٹریلیا (India vs Australia) کے درمیان سڈنی کرکٹ گراونڈ میں بارڈر - گواسکر ٹرافی (Border Gavaskar Trophy) کا تیسرا میچ کھیلا جارہا ہے۔ میچ کے تیسرے اور چوتھے دن ہندوستانی گیند بازوں محمد سراج (Mohammed Siraj) اور جسپریت بمراہ (Jasprit Bumrah) پر آسٹریلیائی ناظرین نے کچھ نسلی تبصرے کئے۔ اس حادثہ نے بڑی شکل اختیار کرلی۔ میچ کچھ دیر کے لئے روکا گیا اور 6 ناظرین کو اسٹیڈیم سے باہر نکالا گیا۔ اس کے بعد میچ شروع ہوا، اس حادثہ کے بارے میں دنیائے کرکٹ میں کافی باتیں کی جارہی ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے سابق تیز گیند باز شعیب اختر نے بھی اس موضوع پر بات کی اور خود سے جڑے ایک حادثہ کا بھی ذکر کیا ہے۔


شعیب اخترنے اپنے یو ٹیوب چینل پر ایک ویڈیو جاری کرکے کہا، ’9/11 کے بعد 2001 میں مسلمانوں نے بہت نسلی تعصب برداشت کیا ہے۔ اگر 60 بندوں نے دہشت گردی میں حصہ لیا تو 160 ملین لوگوں نے اسے برداشت کیا۔ اس حادثہ کو انٹرنیشنل میڈیا نے اتنا بڑا چڑھا کے پیش کیا کہ 160 ملین لوگوں کو انہوں نے دہشت گرد بنا دیا۔ اس پر اتنی بات کی اور اتنی رپورٹنگ کی کہ پوری دنیا میں مسلمانوں کو ایسا بناکر پیش کیا کہ دنیا میں ان سے بڑا دہشت گرد کوئی ہے ہی نہیں’۔


انہوں نے کہا، ’فٹبال میں میں نے دیکھا، بلیک کمیونٹی کے ساتھ میں نے دیکھا، کوئی ان پر کیلا پھینک رہا ہے، کوئی ان کو جانوروں کے نام سے بلا رہا ہے۔ ہر چیز اللہ کی بنائی ہوئی ہے۔ ہر انسان اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ وہ ہندو ہے، وہ مسلمان ہے، وہ سکھ ہے، وہ بلیک ہے، وہ براون ہے، وہ چائنیز ہے، جیپنیز ہے کوئی بھی ہے... وہ اللہ کا بنایا ہوا ہے۔ آپ اس کی بے عزتی نہیں کرسکتے۔ میرے ساتھ بھی ہوا۔ کئی ممالک میں ہم لوگ گئے، تو ہم سے پوچھا جاتا تھا کہ کہاں سے ہو اور جب ہم کہتے تھے کہ پاکستان تو وہ لوگ کہتے تھے- ’اوہ اسامہ بن لادن کا ملک’۔


شعیب اختر نے کہا، ’کرکٹ میدان میں گئے تو ہمیں دہشت گرد کے نام سے بلایا گیا۔ 2002 میں مجھے واقعہ یاد ہے، میں ملک کا نام نہیں لیتا۔ اسٹیڈیم میں فقرے کسے گئے۔ ہمارے دوستوں کو بہت کچھ کہا گیا، ہم وہاں یتیم بچوں کو کھانا دے رہے تھے، ہمیں جو پیسے مل رہے تھے، ہم اس ایک کمیونٹی کو دے رہے تھے، بغیر کوئی بھید بھاو کے اور یہ سب ہم اس لئے نہیں کر رہے تھے کہ ہمیں کچھ تھا یا ہمارا نام اچھا بن جائے۔ ہمیں صرف اللہ سے انعام چاہئے ہوتا ہے۔ ہمارا ایمان صرف اللہ پر ہی ہونا چاہئے اور کسی چیز پر نہیں۔

انہوں نے کہا، ’محمد سراج کے ساتھ جو ہوا، وہ بہت بدقسمتی والا تھا۔ آسٹریلیا ریسسٹ ملک نہیں ہے، میں وہاں بہت بار گیا ہوں۔ حالانکہ، وہاں کچھ لوگ ایسے ہیں، جو ایسی حرکت کرتے ہیں۔ 99 فیصد آسٹریلیا مجھے پیار کرتا ہے، لیکن صرف ایک فیصد کی وجہ سے نام خراب ہوجاتا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jan 11, 2021 11:40 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading